عادل آباد میں ٹریفک چالانات سے پریشان شخص نے اپنی ہی موٹرسیکل کو آگ لگادی
بشمول حیدرآباد تلنگانہ میں من مانی ٹریفک چالانات سے عوام شدید پریشان
عادل آباد:27۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ان دنوں بشمول حیدرآباد ریاست تلنگانہ میں جاری بڑے پیمانے پر ٹریفک چالانات سے گاڑی مالکین کو بہت زیادہ پریشان ہیں۔گزشتہ سال کے آغاز میں کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے جہاں عوام کو شدید معاشی پریشانیوں کا سامنا ہے وہیں انہیں ملازمتوں سے محرومی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی مار بھی جھیلنی پڑرہی ہے۔
ان تمام مسائل سے دوچار عوام کا ایک بڑا طبقہ شدید مایوسی کا شکار بھی ہے۔ایسے میں جابجا مختلف بہانوں سے ٹریفک چالانات عوام کو مزید مقروض بنانے کا کام کررہے ہیں۔
عوام کی شکایت ہے کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے جب کبھی کہیں کوئی گاڑی روکی جاتی ہے تو چالان عائد کرنا لازمی ہوجاتا ہے پھر اس کے ساتھ قدیم چالانات کی طویل فہرست بھی تھماکر مجبور کردیا جاتا ہے کہ پہلے یہ رقم ادا کریں۔
ایسے ہی ٹریفک چالان کی ادائیگی سے قاصر ایک برہم اور شدید مایوس ایک شخص نے آج عادل آباد میں ٹریفک پولیس کی ہراسانی پر حالت غصہ میں سڑک پر ہی اپنی موٹرسیکل کو آگ لگادی۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق آج ساڑھے گیارہ بجے دن عادل آباد کے پنجاب چوک پر ٹریفک پولیس نے موٹرسیکل سوار محمدمقبول کو روکا اور تمام کاغذات کی تلاشی کے بعد ہدایت دی کہ اس موٹرسیکل پر ادا شدنی چالانات فوری ادا کیے جائیں۔
جس پر محمد مقبول نے پولیس عہدیداروں سے منت سماجت کی کہ اس وقت ان کے پاس رقم نہیں ہے وہ بعد میں ادا کریں گے تاہم پولیس بضد تھی۔
اسی دوران برہم محمدمقبول نے اپنی موٹرسیکل کو آگ لگادی۔وہاں موجود مجمع نے بعد ازاں اس آگ کو بجھایا تاہم اس وقت تک موٹرسیکل کو شدید نقصان پہنچ چکا تھا۔
محمدمقبول نے بتایا کہ ہر ہفتہ روز ایک نئے چالان سے وہ تنگ آچکے ہیں تین چار دن قبل ہی انہوں نے دو ہزار روپئے کا چالان ادا کیا تھا!!انہوں نے کہا کہ روزآنہ دن بھر محنت و مزدوری کے بعد بمشکل 400 روپئے حاصل ہوتے ہیں تو ہزاروں روپئے کا ٹریفک چالان کس طرح ادا کیا جائے اور اس کے لیے رقم کہاں سے لائی جائے؟۔
وہیں دوسری جانب ایک طبقہ کا یہ کہنا ہے کہ ڈمہ داری کے ساتھ تمام ٹریفک قواعد پر عمل کو خود پر لازمی کرلیا جائے تو چالانات کی ادائیگی کی نوبت ہی نہیں آتی!۔ان کا کہنا ہے ہیلمٹ کا استعمال،گاڑی کے تمام درکار کاغذات،ٹریفک قواعد پر پابندی کے ذریعہ ان چالانات سے بچا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ حسب معمول گاڑیوں کی تلاشی کے دؤران ٹریفک پولیس نے مقبول کی گاڑی روک کر تلاشی لی تو پایا کہ ان کی گاڑی پر چالانات کی رقم ادا شدنی ہے اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ چالانات کی رقم ادا کریں۔جس پر وہ برہم ہوگئے اور بحث و تکرار کرتے ہوئے خود ہی اپنی موٹرسیکل کو آگ لگادی تو پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے اس آگ کو بجھادیا۔
عادل آباد میں آج کے اس واقعہ کے بعد عوام میں بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ٹریفک چالانات سے بالخصوص مزدور پیشہ اور متوسط طبقہ بہت زیادہ پریشان ہے۔ان کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ عوام کو اس سے راحت فراہم کی جائے۔یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگا کہ اس طرح کے واقعات ریاست کے مختلف مقامات پر پیش آچکے ہیں۔
” ٹریفک چالانات سے پریشان ایک شخص کا واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہونے والا مطالبہ پرمشتمل آڈیو سنا جاسکتا ہے "
” ٹریفک چالانات سے پریشان ضلع وقارآباد میں بھی ایک نوجوان نے اسی طرح اپنی موٹرسیکل کو آگ لگائی تھی! تفصیلات اس لنک پر "

