جب وقارآباد ضلع کے” ڈائٹ کالج ” کی یہ حالت ہے تو پھر سرکاری اسکولس کا حال کیا ہوگا؟
رکن اسمبلی وقارآباد کا اچانک دؤرہ،پرنسپل بنا رخصت کے غیر حاضر!،اردو میڈیم کے لیے ایک بھی لیکچرار نہیں
زیرتعلیم 300 طلبہ کی تعلیم متاثر،لیکچرارس کی 16 جائدادیں خالی،صرف سات لیکچرارس موجود
وقارآباد: 25۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
وقارآبادضلع مستقر پر موجود "ڈسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ڈائٹ)” جہاں مستقبل کے اساتذہ کو تربیت دی جاتی ہے خود اپنی حالت پر آنسو بہارہا ہے۔اس ڈائٹ کالج کی حالت کسی دور دراز موضع کے سرکاری اسکول سے بھی بدتر بناکر رکھ دی گئی ہے!
وقارآباد شہر میں موجود اس ڈائٹ کالج میں اردو،تلگواور انگریزی میڈیم کی سہولت حاصل ہے جہاں سال اول اور سال دوم میں زائد از 300 طلباء اور طالبات زیرتعلیم ہیں۔جنہیں ٹیچرس کی ٹریننگ فراہم کی جاتی ہے جو آگے چل کر ملک کا مستقبل مانے جانے والے بچوں کو اسکولوں میں تعلیم دیتے ہیں۔لیکن خود اس ڈائٹ کالج کی حالت ایسی ہے کہ یہاں صرف 7 لیکچرارس خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ اس ڈائٹ کالج میں لیکچرارس کی جملہ 23 جائدادیں ہیں۔اس طرح اس ڈائٹ کالج کو 16مختلف مضامین کے لیکچرارس کی قلت کا سامنا ہے اور یہ جائدادیں گزشتہ کئی سال سے مخلوعہ ہیں۔
ریاست کے سرکاری اسکولس اور کالجس کی طرح وقارآباد کے اس ڈائٹ کالج کے اردو میڈیم سیکشن میں ایک لیکچرار تک موجود نہیں ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو جو کہ ریاست تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے اس کے زمینی حقائق کیا ہیں؟

افسوس تو یہ ہے کہ جس کالج سے طلبہ ٹیچرس کی ٹریننگ لے کر سرکاری اسکولوں میں ملازمت حاصل کریں گے ان اسکولوں کے طلبہ کا تعلیمی معیار کیسا رہے گا!
وقارآباد کے اس ڈسٹرکٹ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ(ڈائٹ) کی حالت زار کی اطلاع پر آج رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند اچانک ڈائٹ کالج پہنچ گئے اور اس کالج کا تفصیلی مشاہدہ کرتے ہوئے کالج کی حالت پر برہمی کا اظہار کیا۔رکن اسمبلی نے کالج میں موجود حاضری رجسٹر اور دیگر ریکارڈس کا بھی مشاہدہ کیا۔

رکن اسمبلی کے اس اچانک دؤرہ کے موقع پر ڈائٹ کالج کے پرنسپل راما چاری کالج میں موجود نہیں تھے۔رکن اسمبلی کے استفسار پر موجودہ اسٹاف نے بتایا کہ وہ غیر حاضر ہیں! جبکہ انہوں نے باقاعدہ رخصت کی درخواست بھی داخل نہیں کی ہے! گویا من مانی طریقہ سے کالج کو آنا اور کالج سے جانا ان کا معمول ہے!جب رکن اسمبلی نے فون کے ذریعہ پرنسپل سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
ڈائٹ کالج کے احاطہ میں ہر جگہ جنگلی پودوں اور کچرے کے ڈھیر کی موجودگی پر بھی رکن اسمبلی نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے بلدی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری اس کالج کی صاف صفائی انجام دیں۔
اپنے دؤرہ کے موقع پر رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر میتکو آنند نے تمام کلاس رومس کا دورہ کرتے ہوئے زیرتعلیم تمام طلباء اور طالبات سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل سے واقفیت حاصل کی۔جس کے بعد انکشاف ہوا کہ اس ڈائٹ کالج میں صرف مسائل کا انبار موجود ہے اور طلبہ کو کوئی سہولت حاصل نہیں ہے!

بعدازاں رکن اسمبلی ڈاکٹر میتکو آنندنے طلبہ کو تیقن دیا کہ وہ اس ڈائٹ کالج کو درپیش تمام مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے،کالج کے روبرو سڑک بچھائی جائے گی۔اس موقع پر صدر نشین بلدیہ وقارآباد سی۔منجولا رمیش کے علاوہ ارکان اسمبلی اور ٹی آرایس پارٹی قائدین اور دیگر موجود تھے۔

