مرکزی حکومت تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے
18 نومبر کو اندراپاک پر دھرنا،پریس کانفرنس میں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھر راؤ کا اعلان
حیدرآباد: 16۔نومبر(سحر نیوز ڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت ریاست تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے الگ الگ ریاستوں کے لیے الگ الگ پیمانے طئے کیے گئے ہیں۔
آج شام دیر گئے چیف منسٹر ٹی آر ایس پارٹی ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت پنجاب کے کسانوں سے دھان خرید رہی ہے لیکن تلنگانہ کے کسانوں سے یہی دھان نہیں خریدا جارہاہے۔
انہوں نے کہا کہ بارہا مرتبہ نمائندگی کے باؤجود اس مطالبہ کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ایک جانب فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے دھان خریدی کی حامی بھری جارہی ہے تو دوسری جانب مرکزی حکومت انکار کررہی ہے۔
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ گزشتہ سیزن کی دھان اب تک ریاست کے گوداموں میں رکھی ہوئی ہے انہوں نے مرکزی حکومت سے دوٹوک لہجہ میں سوال کیا کہ وہ دھان خریدے گی یا نہیں؟
چیف منسٹر نے سوال کیا کہ ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے کمار نے کیوں کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ دھان کی فصل اگائیں؟چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے کہا کہ دھان کی فروخت کے لیے جب کسان خریدی مراکز پہنچ رہے ہیں تو بی جے پی قائدین ان پر پتھروں سے حملہ کررہے ہیں۔
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ 18 نومبر 11 بجے دن تا 2 بجے دن بشمول ان کے ریاست کے تمام ارکان پارلیمان،ریاستی وزراء، ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل،ضلع پریشد کے صدور،کارپوریشنس کے صدور اور تمام قائدین مرکزی حکومت کے اس اقدام کے خلاف حیدرآباد کے اندرا پارک پر دھرنا منظم کریں گے بعدازاں راج بھون پہنچ کر ریاستی گورنر کو یادداشت پیش کی جائے گی۔
بعدازاں دو دن انتظار کیا جائے گا اس کے بعدحکمت عملی طئے کی جائے گی۔چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ نے ریاست کے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ دھان کی فصل نہ اگائیں۔
چیف منسٹر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ واضح طور پر اعلان کرے کہ وہ سالانہ ریاست تلنگانہ سے کتنی مقدار میں دھان خریدے گی؟ انہوں نے کہا کہ واضح تیقن تک مرکزی حکومت کا پیچھا کیا جائے گا۔

