ہم کسی سے بھی ڈرنے یا گھبرانے والے نہیں ہیں،ہمارا کوئی غیر قانونی کاروبار نہیں ہے
محکمہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کے ذریعہ سوال کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا بی جے پی کا مشغلہ
اب ہم بی جے پی اور اس کے جھوٹے قائدین کا تعاقب کرتے ہی رہیں گے
چیف منسٹرتلنگانہ چندراشیکھرراؤ کا پریس کانفرنس میں پھر ایک مرتبہ بی جے پی پر شدید حملے

حیدرآباد: 08۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ (کے سی آر) نے آج شام پرگتی بھون حیدرآباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں ریاستی صدر بی جے پی رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار سے سوال کیا ہے کہ مرکز کی بی جے حکومت پہلے یہ واضح کرے کہ وہ ریاست تلنگانہ سے دھان خریدے گی یا نہیں؟
انہوں نے صدر تلنگانہ بی جے پی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ جو سوال انہوں نے کل پریس کانفرنس میں اٹھائے تھے ان کے جواب دینے کے بجائے بنڈی سنجے کمار ان پر ذاتی حملوں میں مصروف ہیں اور یہ نچلے درجہ کی سیاست ہے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی وزیر فینانس ٹی۔ہریش راؤ کے علاوہ دیگر پارٹی قائدین ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔چیف منسٹر نے کہا کہ وہ استعفوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور استعفے دینے اور دوبارہ کامیابی حاصل کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔
ساتھ ہی چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ جمعہ کے دن ریاست تلنگانہ کے تمام منڈلات پر اس ریاست کے لاکھوں کسان احتجاج منظم کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ریاست کے کسانوں کا دھان خریدا جائے اور اس احتجاج کے دؤران کسان بی جے پی قائدین سے پوچھیں گے کہ ان کا دھان مرکزی حکومت خریدے گی یا نہیں اس معاملہ میں کھلا موقف واضح کرنا لازمی ہوگا۔
چیف منسٹر جو کہ اس معاملہ میں بہت ہی زیادہ برہم نظر آرہے تھے نے کہا کہ بنڈی سنجے کمار نے اپنی پدیاترا کے دؤران ان پر بارہا مرتبہ شخصی حملے کیے اور ہمیشہ اپنی تقاریر میں ان کے فارم ہاؤس میں قیام اور شراب کیا ذکر کیا جاتا ہے اور بنڈی سنجے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ فارم ہاؤس پر ٹریکٹر چلائیں گے اس پر چیف منسٹر کے سی آر نے یہ سوال کرکے اس پریس کانفرنس کو قہقہہ زار کردیا کہ صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنج ےکمار ان کے فارم ہاؤس پر ٹریکٹر کیوں چلائیں گے؟ کیا وہ ڈرائیور ہیں؟
جبکہ شراب کے ہمیشہ تذکرے پر برہم چیف منسٹر کے سی آر نے صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار سے سوال کیا کہ کیا کبھی انہوں نے ان کی گلاس میں شراب یا پانی انڈیل کر انہیں شراب کی گلاس دی تھی؟
چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ ملک سے متعلق کوئی سوال پوچھو تو دیش کا غدار کہا جاتا ہے! انہوں نے بی جے پی قائدین کو چیلنج کیا کہ آؤ دیش کا غدار کون ہے اس پر مباحثہ کرتے ہیں۔
ساتھ ہی کے سی آر نے انتباہ دیا کہ آئندہ اس طرح کے گھٹیا بیانات دینے سے قبل دس مرتبہ سوچیں!چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ ان کے متعلق ہمیشہ فارم ہاؤس میں رہنے کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے جبکہ وہ اپنے فرزند کے ساتھ اس فارم ہاؤس میں زراعت کرتے ہیں دیگر کی طرح کوئی غیرقانونی کام نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ کل شام چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنی پریس کانفرنس میں مرکزی حکومت اور ریاستی بی جے پی قائدین کو انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی عوامی مسائل کے حل کے بجائے مذہبی منافرت کے ذریعہ ملک کو تباہ و برباد کردیا ہے
چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے اپنے روایتی انداز میں ریاستی صدر بی جے پی بنڈی سنجے کمار پر شدید تنقید کرتے ہوئےسوال کیا کہ ماہانہ وظائف والی آسراءسکیم،رعیتو بندھو،رعیتو بیمہ،مشن بھاگیرتا،مشن کاکتیہ،کے سی آر کِٹ،شادی مبارک،کلیانہ لکشمی اور کئی ایک اختراعی اسکیمات پر ریاست تلنگانہ میں کامیابی کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے۔اس طرح کی کوئی ایک اسکیم پر کیوں بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں عمل نہیں کیا جارہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جھوٹوں پرمشتمل پارٹی ہے ساتھ ہی انہوں نے انتباہ دیا کہ ہم تمہارا تعاقب کرتے ہی رہیں گے چھوڑیں گے نہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت سے دوبارہ مطالبہ کیا کہ وہ پٹرول اور ڈیزل پر سیس کو ختم کردے ان کی قیمتیں خود بخود کم ہوجائیں گی۔
چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام نے مکمل تائید کے ساتھ دو مرتبہ ٹی آرایس کو کامیاب بنایا ہے اور ٹی آر ایس نے کبھی بھی جوڑ توڑ کی سیاست نہیں کی ہے بلکہ جو بھی دیگر پارٹی قائدین حکومت کی بہترین کارکردگی سے متاثر ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں ان کا استقبال کیا گیا ہے؟
چیف منسٹر نے بی جے پی پر اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا تھا تاہم جوڑ توڑ کے ذریعہ ان ریاستوں میں بی جے پی نے حکومت بنائی۔
صدر تلنگانہ بی جے پی بنڈی سنجے کمار کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے ان سے سوال پوچھا کہ جیوترآدتیہ سندھیا کو کانگریس سے توڑکر بی جے پی میں شامل کرواکے انہیں مرکزی وزارت شہری ہوا بازی کس نے بنایا؟
انہوں نے کہا کہ بی جے پی محکمہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کے ذریعہ سوال کرنے والوں کی آوازیں دبانے میں مصروف ہے۔لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔اور واضح لفظوں میں کہا کہ ہم کوئی بھی ایسا غیرقانونی کام نہیں کرتے کہ ہم انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے خوفزدہ ہوں۔
چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے بی جے پی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ عوام پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پر جب سوال کرتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان جائیں یا پاکستان جائیں یہ کونسا طریقہ ہے حکمرانی کا؟
انہوں نے کہا سالانہ دو کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کرنے والی بی جے پی موجودہ ملازمتیں ختم کررہی ہے۔
چیف منسٹر نے بنڈی سنجے کمار کے اس سوال کو صدی کا سب سے بڑا لطیفہ قرار دیا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کے لیے کیا کیا ہے!انہوں نے کہا کہ میں نے تلنگانہ کے لیے طویل جدوجہد کی ہے اور ریاست کو حاصل کرتے ہوئے اس کی بے مثال ترقی کو یقینی بنایا ہے۔انہوں نے بنڈی سنجے سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے تلنگانہ کے لیے کیا کیا ہے؟
چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے کورونا وباء کے دؤران مزدوروں کو لاوارث چھوڑ دیا تھا جس کے باعث کئی مزدور فوت ہوگئے جبکہ حکومت تلنگانہ نے بہار اور اترپردیش کے مزدوروں کے لیے ٹرینوں کا نظم کیا تھا،انہیں راشن دیا گیا اور 500 روپئے فی کس نقد رقم دے کر روانہ کیا تھا۔
KCR #ChiefMinisterTelangana#
announces-war-on-central-government#
fires-on-state-bjp-president#

