تلنگانہ:حضورآباد اسمبلی حلقہ کےضمنی انتخابات میں
ایٹالہ راجندر اپنی نشست بچانے میں کامیاب، 23,865 ووٹوں کی اکثریت
حیدرآباد: 02۔نومبر(سحر نیوزڈاٹ کام)
کریم نگرضلع کےاسمبلی حلقہ حضورآباد کےضمنی انتخابات میں سابق ریاستی وزیرصحت تلنگانہ و بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر بالآخر آج اپنی اس نشست کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ایٹالہ راجندر نے 23,865 کی اکثریت سے اپنی حریف ٹی آر ایس امیدوار گیلو سرینواس کو شکست دی۔
اس حلقہ کے لیے 30 اکتوبر کو ہونے والی رائے دہی میں 86.54 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی۔آج صبح 8 بجے سے ان ووٹوں کی گنتی عمل میں آئی اور شام دیر گئے نتیجہ کا اعلان ہوا۔ووٹوں کی گنتی کے آغاز کے بعد سے ہی بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر معمولی ووٹوں سے اپنی سبقت بنائے ہوئے تھے۔پوسٹل بیالٹس میں ٹی آرایس امیدوار کو سبقت حاصل ہوئی تھی 723 پوسٹل بیالٹس میں سے ٹی آر ایس امیدوار کو 503 ووٹ،بی جے پی امیدوار کو 159 اور کانگریس امیدوار کو 32 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ 14 ووٹ مسترد ہوئے۔
18 ، 19 اور 20 ویں راؤنڈ میں بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر نے اپنی سبقت کو مزید تیز کردیا۔18 ویں راؤنڈ میں ایٹالہ کو اپنے حریف امیدوار کے مقابلہ میں 5،611 ووٹوں کی اور 19 ویں راؤنڈ میں 19،535 ووٹوں کی سبقت حاصل ہوگئی جبکہ 20 ویں راؤنڈ کے اختتام پر ایٹالہ راجندر نے 21،015 ووٹوں کی سبقت حاصل کی۔جملہ 22 راؤنڈ میں ان ووٹوں کی گنتی عمل میں آئی۔
ان ضمنی انتخابات میں کانگریس نے بالموری وینکٹ نرسنگ راؤ کو میدان میں اتارا تھا تاہم ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ہی اصل مقابلہ مانا جارہا تھا۔
یاد رہے کہ یکم مئی کو ریاستی وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کی جانب سے ایٹالہ راجندر سے وزیرصحت کا قلمدان اپنے پاس منتقل کرلیے جانے اور 2 مئی کو ایٹالہ راجندر کو ریاستی کابینہ سے ہٹائے جانے کے بعد ایٹالہ راجندر نے 4 جون کو اپنی اسمبلی کی رکنیت اور ٹی آرایس پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔جن کے خلاف میدک ضلع کے اچم پیٹ اور حکیم پیٹ میں کسانوں کی اراضیات قبضہ کرنے کی شکایات کی گئی تھیں۔

بعدازاں 14 جون کو دہلی پہنچ کر ایٹالہ راجندر نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ان کے استعفیٰ کے بعد حضورآباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی انتخابات ناگزیر ہوگئے تھے۔
ایٹالہ راجندر 2003 میں ٹی آر ایس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔اور اسمبلی حلقہ حضورآباد سے انہوں نے ماضی میں 2004 ، 2009، 2014 اور 2018 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔
ایٹالہ راجندر 2014ء میں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد منعقدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ کی ریاستی کابینہ میں ریاست تلنگانہ کے پہلے وزیر فینانس بنائے گئے تھے۔بعد ازاں 2018ء کے انتخابات کے بعد ایٹالہ راجندر کو وزیرصحت کو ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔
حلقہ اسمبلی حضورآباد کے ضمنی انتخابات میں ایٹالہ راجندر کی کامیابی کو جہاں بی جے پی اپنی کامیابی متصور کررہی ہے وہیں کہا جارہا ہے یہ پارٹی سے زیادہ ایٹالہ راجندر کی شخصی کامیابی اور رائے دہندوں میں ان سے ہمدردی اور مقبولیت کی لہر کا نتیجہ ہے!!
دوسری جانب حضورآباد ضمنی انتخابات کو ریاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس پارٹی اور وزیراعلیٰ چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے بہت زیادہ وقار کا مسئلہ بنالیا تھا۔
ریاست تلنگانہ میں مختلف اسکیمات پر عمل آوری کے دؤران دلت بندھو جیسی اسکیم کے آغاز کے باؤجود حضورآباد کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی کی شکست کے اسباب تلاش کرنا اب ٹی آرایس پارٹی سپریمو و چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ کے لیے ضروری ہوگیا ہے!! کیونکہ حضورآباد کے انتخابی نتائج سے قبل ہی بی جے پی قائدین کی جانب سے کہا جارہا تھا کہ یہ 2023ء میں منعقد ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کا سیمی فائنل ہوں گے!!
آج سہء پہر حضورآباد میں ووٹوں کی گنتی کے دؤران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمار سے فون پر بات کرتے ہوئے حضورآباد کے رحجان اور نتیجہ سے متعلق تفصیلات حاصل کیں۔جس پر بنڈی سنجے کمار نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کو بتایا کہ بی جے پی امیدوار ایٹالہ راجندر سبقت بنائے ہوئے ہیں۔

