بمبئی ہائی کورٹ نے شرائط کے ساتھ آریان خان کی ضمانت پر رہائی کے احکام جاری کردئیے

بمبئی ہائی کورٹ نے شرائط کے ساتھ آریان خان کی ضمانت پر رہائی کے احکام جاری کردئیے

ممبئی: 29۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

بمبئی ہائی کورٹ نے کروز منشیات کیس میں کل ضمانت حاصل کرنے والے فلم اداکار شاہ رخ خان کے فرزند آریان خان کو مشروط ضمانت کے ساتھ ہدایت دی ہے کہ انہیں بغیر اجازت ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔عدالت نے آج شرائط پرمشتمل اپنی ہدایت کے ساتھ ان کی رہائی کے احکام جاری کردئیے ہیں۔

درخواست ضمانت کے اپنے فیصلہ میں معزز جسٹس این ڈبلیو سمبرے نے آریان خان کو ایک لاکھ روپئے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم پر مشتمل ایک یا زیادہ ضمانتیں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یہی شرائط کل ضمانت حاصل کرنے والے ارباز مرچنٹ اور اس معاملے میں شریک ملزم مون مون دھامیچا پر بھی لاگو رہیں گی۔

یاد رہے کہ آریان خان، ارباز مرچنٹ اور مون مون دھامیچا کی 26 اکتوبر سے تین دنوں تک ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت کے بعد کل بمبئی ہائی کورٹ نے ان تینوں کی درخواست ضمانت کو منظور کیا تھا۔

آج ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت کے لیے درج ذیل شرائط رکھی ہیں:-

آریان خان، ارباز مرچنٹ اور مون مون دھامیچا ضمانت اور رہائی کے بعد ان سرگرمیوں سے ملتی جلتی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے جن کی بنیاد پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) کی جانب سے ان پر کیس درج رجسٹر کیا گیا ہے۔

ملزم،شریک ملزم یا اسی طرح کی سرگرمیوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث کسی دوسرے شخص کے ساتھ بات چیت قائم کرنے کی کوشش نہیں کرے گا یا اسی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی شخص کو کال نہیں کرے گا جیسا کہ ان کے خلاف الزام ہے۔

وہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر ملک سے باہر نہیں جائیں گے اور اپنے پاسپورٹ فوری طور پر خصوصی عدالت کے حوالے کر دیں گے۔

اگر ملزمین کو ممبئی سے باہر سفر کرنا ہو تو وہ تفتیشی افسر کو اپنا سفر نامہ دیں گے۔

وہ اس کیس میں کسی گواہ کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

ملزمین میڈیا میں کسی بھی شکل میں کوئی بیان نہیں دیں گے۔

ملزم ہر جمعہ کو صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نارکوٹکس کنٹرول بیورو ممبئی کے دفتر میں اپنی موجودگی درج کروائیں گے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ ضمانت کی مندرجہ بالا شرائط میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کی صورت میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو خصوصی جج کو ان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے درخواست دینے کے لیے آزاد ہوگی۔

عدلت نے یہ بھی کہا ہے کہ ملزم تمام تاریخوں پر عدالت میں حاضر رہیں گے جب تک کہ غیرحاضری کی کوئی معقول وجوہات نہ ہوں۔مزید برآں ایک بار کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد وہ کسی بھی طرح سے مقدمے کی کارروائی میں تاخیر نہیں کریں گے۔

 

بشکریہ : لائیو لاء ٹوئٹر ہینڈل اور ویب سائٹ