ضلع عادل آباد میں عرس تقاریب کے انعقاد کا خونی تنازعہ
ایک ہی طبقہ کے دوگروپس متصادم،دوہلاک،متعدد زخمی
عادل آباد: 27۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ کے عادل آباد ضلع کے ایچوڑہ منڈل کے تحت موجود موضع گونڈالہ میں ایک درگاہ کے عرس کے انعقاد کے مسئلہ پر ایک ہی طبقہ کے دو گروپس متصادم ہوگئے جس میں دو افراد ہلاک اور تین خواتین سمیت متعدد زخمی ہوگئے ان میں سے ایک شدید زخمی کو بہتر علاج کی غرض سے حیدرآباد منتقل کردیا گیا جس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
اس واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی ایس پی ضلع عادل آباد ایم۔راجیش چندرا بھاری پولیس جمعیت کے ساتھ موضع گونڈالہ پہنچ گئے بعدازاں حالات پر قابوپا لیا گیا۔

عادل آبادضلع پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے پریس نوٹ کے مطابق کہ آج صبح 10 بجے ایچوڑہ منڈل کے موضع گونڈالہ میں ایک ہی طبقہ کے دو گروپس کے درمیان تصادم کی اطلاع پرضلع ایس پی راجیش چندرا،ایس پی نرمل پروین کمار،سب انسپکٹرپولیس ایچوڑہ شیخ فرید فوری موضع پہنچ گئے۔ضلع ایس پی نے اپنے ماتحت عملہ کے ساتھ دونوں گروپس کو منتشر کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا۔
حالات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اضلاع نرمل اور کومرم بھیم آصف آباد سے اضافی پولیس کو طلب کرلیا گیا اور گونڈالہ موضع کے حالات کو مکمل طور پر کنٹرول میں کرلیا گیا۔
موضع میں حالات کو مکمل طور پر قابو میں لانے کی غرض سے 12 پولیس پکٹس تعینات کردئیے گئے ہیں موضع کے عوام میں اعتماد بحال کرنے کی غرض سے پولیس نے امن مارچ بھی منظم کیا۔
عادل آباد ضلع پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ میں اس تصادم اور ہلاکتوں کے متعلق تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گونڈالہ موضع کے سرپنچ شیخ رشید ایک گروپ کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دوسرے گروپ کی قیادت ایم پی ٹی سی خاندان کے شیخ مبین کر رہے تھے ایک ہی برادری سے تعلق رکھنے والے ان دونوں گروپس کے درمیان گزشتہ چند سال سے سیاسی چپقلش بھی جاری ہے۔
پولیس کے مطابق آج چہارشنبہ کو 10 بجے دن موضع میں سرپنچ شیخ رشید کی سرپرستی میں ڈی جے ساؤنڈ باکس کے ساتھ آج شام مقامی درگاہ کا عرس منانے کے لیے انتظامات کیے جارہے تھے۔جس پر شیخ مبین نے مداخلت کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ بنا کسی اجازت درگاہ کا عرس کیوں منایا جا رہا ہے؟اسی مسئلہ پر ان دونوں گروپس میں تصادم شروع ہوا۔
شیخ مبین برادری کی جانب سے پولیس سے شکایت کی گئی کہ بنا اجازت ڈی جے ساؤنڈ کے ساتھ دوسرے گروپ کی جانب سے عرس کے انعقاد کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔جس پر سرپنچ برادری نے مشتعل ہوکر مبین برادری پر کلہاڑیوں،چاقوؤں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔
اس تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت شیخ ظہیرالدین عمر 60 سالہ اور شیخ زین 55 سالہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

جبکہ اس تصادم میں بشمول تین خواتین سات سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن کا دونوں گروپس سے تعلق ہے۔
پولیس نے تمام زخمیوں کو علاج کی غرض سے ریمس ہسپتال عادل آبادمنتقل کیا جبکہ دونوں مہلوکین کی نعشیں بعد پنچنامہ پوسٹ مارٹم کی غرض سے بوتھ کے سرکاری ہسپتال منتقل کردی گئیں۔
اس سلسلہ میں ایس پی ضلع عادل آباد ایم۔راجیش چندرا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گونڈالہ موضع میں آج صبح ہونے والے دونوں برادریوں کے تصادم سے واقف کروایا اور کہا کہ دونوں اموات کے ذمہ داروں کو جلد گرفتارکرلیا جائے گا اور اس تصادم میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی بھی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ضلع ایس پی نے کہا کہ پولیس کی بروقت مداخلت سے حالات پر فوری طور پر قابو پالیا گیا۔

ایس پی ضلع عادل آباد راجیش چندرانے بتایا کہ اس معاملہ میں چار کیس درج رجسٹر کر لیے گئے ہیں اور پورے معاملہ کی تحقیقات انجام دی جائیں گی اور خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا اور نہ ہی کسی کو نقص امن پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حالات معمول پر آنے تک موضع میں پولیس پکٹس قائم رکھے جائیں گے ساتھ ہی پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے۔
اس تصادم کے بعد پولیس نے 23 مشتبہ افراد کو تحویل میں لے کر تفتیش میں مصروف ہے۔
ضلع ایس پی راجیش چندرا متاثرہ موضع میں ہی کیمپ کیے ہوئے ہیں جن کے ساتھ ایڈیشنل ایس پی اوٹنور ہرش وردھن،ایس پی نرمل ضلع پروین کمار،ایڈیشنل ایس پی رام ریڈی،ڈی ایس پی وینکٹیشور راؤ،سرکل انسپکٹران پولیس وائی رمیش بابو،کونکا ملیش،انسپکٹراسپیشل برانچ جے۔کرشنامورتی،سرکل انسپکٹر سی سی ایس ای۔چندرامولی،سرکل انسپکٹر اوٹنور سیدا راؤ، 20 سب انسپکٹران پولیس کے ساتھ 200 پولیس جوانوں پرمشتمل فورس متعین کی گئی ہے۔

