کاماریڈی نیشنل ہائی وے پر دلخراش سڑک حادثہ،حیدرآباد کے ساکن دو خاندانوں کے سات افراد جاں بحق،چار زخمی،دوخواتین اور دو کمسن لڑکیاں بھی شامل

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی!!
کاماریڈی نیشنل ہائی وے پر دلخراش سڑک حادثہ
حیدرآباد کے ساکن دو خاندانوں کے سات افراد جاں بحق،چار زخمی
مہلوکین میں دو خواتین،دیڑھ ماہ،چار سالہ اور 6 سالہ کمسن لڑکیاں بھی شامل

حیدرآباد/نظام آباد: 18/ڈسمبر (سحرنیوز ڈاٹ کام)

آج ریاست تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع میں پیش آئے ایک انتہائی دلخراش اور افسوسناک سڑک حادثہ میں دو خاندانوں سےتعلق رکھنے والے جملہ سات افراد جاں بحق ہوگئے۔جن میں دو خواتین، دیڑھ ماہ، چار سالہ اور 6 سالہ عمر کی حامل تین کمسن لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

مہلوکین میں سے ایک خاندان کا تعلق حیدرآباد کے موسیٰ نگر،چادرگھاٹ سے اور دوسرے خاندان کا تعلق چادر گھاٹ کے ہی ونائیک وِدھی علاقہ سے ہے۔

اس دلسوز حادثہ کی تفصیلات کے مطابق ونائیک وِدھی چادر گھاٹ کے ساکن محمد حسین(27 سالہ)،ان کی اہلیہ تسلیم بیگم(25 سالہ) کے علاوہ ان کی دختران و فرزندان حاجرہ بیگم (9سالہ)،عبدالہادی(8سالہ)،حورا بیگم(5سالہ)،حبا بیگم(4سالہ) اور محمد سلطان(3 سالہ) کے ساتھ

موسیٰ نگر چادر گھاٹ کے ساکن محمد عامر تاج(28سالہ) ان کی اہلیہ ثنا پروین(20 سالہ) اور ان دونوں کی دو دختران حوریہ فاطمہ(دیڑھ سالہ) اور حنا فاطمہ(چار ماہ) جملہ 11 افراد پر مشتمل یہ دو خاندان ایک کوالیس گاڑی نمبر AP 12 C 5580 کے ذریعہ مہاراشٹرا کے ناندیڑ ضلع کے قندھار میں موجود  درگاہ کی زیارت کے بعد حیدرآباد واپس لؤٹ رہے تھے کہ

آج دوپہر ایک بجے کاماریڈی ضلع میں کوڈاپڈگل منڈل کے مضافاتی علاقہ جگناتھ پلی نیشنل ہائی وے 161 پر ان کی کوالیس گاڑی خوفناک طریقہ سے سڑک کے کنارے کھڑی ہوئی ایک بھاری ٹرک نمبر HR 46 7111کے عقب سے ٹکراگئی۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حادثہ اتنا خطرناک تھا کہ کوالیس گاڑی لاری کے عقبی حصہ میں گھس گئی اور اس کے اگلے حصہ کے پرخچے اڑگئے۔

اس دلدوز حادثہ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جائے حادثہ پر ہی کوالیس میں سوار 6 افراد کی دلخراش موت واقع ہوگئی جن میں محمد حسین،ان کی اہلیہ تسلیم بیگم شامل ہیں جبکہ آج شام دیر گئے ان کی 6 سالہ دختر نوراں فاطمہ نظام آباد کے ایک خانگی ہسپتال میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکیں جنہیں علاج کی غرض سے منتقل کیا تھا۔

اس حادثہ میں جائے مقام پر ہی محمدعامر تاج، ان کی اہلیہ ثنا پروین اور اس جوڑے کی دو دختران حوریہ فاطمہ(دیڑھ سالہ) اور حنا فاطمہ (چار ماہ) بھی جاں بحق ہوگئے۔

"نعشوں اور زخمیوں کو منتقل کرنے کے بعد جائے حادثہ کا منظر (ویڈیو) "

اس حادثہ کے دیگر پانچ شدید زخمیوں حاجرہ بیگم،حورا بیگم،حبا بیگم اورمحمد سلطان کو علاج کی غرض سے نظام آباد کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔جبکہ نعشوں کو بغرض پوسٹ مارٹم بانسواڑہ کے ہسپتال کو منتقل کیا گیا۔

کاماریڈی ضلع میں پیش آئے اس حادثہ اور زخمیوں کو نظام آباد کے ہسپتالوں کو منتقل کیے جانے کی اطلاع کے فوری بعد ڈپٹی میئر نظام آباد میونسپل کارپوریشن ادریس خان.صدر مجلس اتحادالمسلمین نظام آباد ٹاؤن و کارپوریٹر شکیل احمد فاضل،ریاستی سیکریٹری ٹی آر ایس طارق انصاری،جنرل سیکریٹری جمیتہ علماء عبدلقیوم شاکر،اعجاز حسین کارپوریٹر مجلس اتحادالمسلمین،افسر بیگ معاون کارپوریٹر مجلس،

ارشد پاشاہ کوآپشن ممبرمجلس ،شہباز احمد کوآپشن ممبرمجلس،سید قیصر کانگریسی قائد و سابق کوآپشن ممبر،عبدالباریٹاون آرگنائزنگ سکریٹری ٹی آر ایس کے علاوہ دیگر مسلم ذمہ داران اور قائدین فوری سرکاری ہسپتال پہنچ گئے زخمیوں کی مزاج پرسی کی اور حالات کا جائزہ لیا۔

اور ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرس سے زخمیوں کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ان قائدین نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈیوٹی ڈاکٹرز سے گزارش کی کہ زخمیوں کو ہنگامی بنیاد پر جلد اور بہتر علاج فراہم کیا جائے۔وہیں چند شدید زخمیوں کو گورنمنٹ ہسپتال سے نظام آباد کے خانگی ہسپتال منتقل کرنے میں بھی اہم رول ادا کیا۔

صدرکل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن لوک سبھا حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی اور مجلسی رکن اسمبلی حلقہ ملک پیٹ و انچارج مجلس نظام آباد(اربن) احمد بن عبداللہ بلعلہ نے بانسواڑہ کے قریب پیش آئے دلخراش سڑک حادثہ میں چادر گھاٹ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں کے 7 افراد بشمول خواتین و کمسن لڑکیوں کی اندوہناک موت پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔

اور انہوں نے ڈپٹی میئر نظام آباد میونسپل کارپوریشن ادریس خان اور صدرمجلس نظام آباد ٹاؤن محمدشکیل احمد فاضل کو ہدایت دی کہ نظام آباد کے ہسپتالوں میں زیر علاج اس حادثہ کے تمام زخمیوں کو تیز رفتار طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ساتھ ہی زخمیوں اور حیدرآباد سے نظام آباد پہنچنے والے ان کے رشتہ داروں کو تمام ممکنہ مدد فراہم کی جائے۔

اس واقعہ کی اطلاع عام ہوتے ہی محمد حسین اور محمد عامر تاج کے رشتہ داروں میں کہرام مچ گیا اور ساتھ ہی ونائیک وِدھی چادر گھاٹ اور موسیٰ نگر میں غم اور افسوس کی لہر دؤڑگئی۔