انڈونیشیامیں 7.7 شدت کا زلزلہ،سونامی کی وارننگ جاری
ڈسمبر 2004 میں بھی زلزلہ کے بعد آئی تھی تباہ کن سونامی
جکارتہ: 14۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مشرقی انڈونیشیا میں آج منگل کوشدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے فوری بعد سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی جانب سے مشرقی انڈونیشیا میں آئے اس 7.3 شدت کے زلزلہ کے بعدخطرناک سونامی لہروں کے امکان کا انتباہ دیا گیاہے۔
انڈونیشیا حکومت نے بھی سونامی کی وارننگ دیتے ہوئے عوام اور عہدیداروں کو چوکس رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ایک اور اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ انڈونیشیا کے فلورس کے سمندری علاقہ میں آئے اس زلزلہ کے جھٹکہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.7 ریکارڈ کی گئی ہے۔جس کے بعد حکومت انڈونیشیا نے ساحلی علاقوں کے عوام کو سونامی لہروں کی وارننگ دیتے ہوئے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ چوکس رہیں۔
دوسری جانب جرمنی ریسرچ سنٹر فار جیولوجسٹ نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے سماترا جزیرہ میں بھی جاریہ سال ہی 6.6 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ 26 ڈسمبر 2004ء کو انڈونیشیا کے اسی سماترا جزیرہ میں آنے والے 9.9 شدت کے زلزلہ کے بعد 14 ممالک بشمول انڈونیشیا،ہندوستان،سری لنکا ،ملیشیاء، بنگلہ دیش، میانمار، مالدیپ اور تھائی لینڈ میں آئی اس خوفناک سونامی سے 2،27،898 افراد لقمہ اجل ہوئے تھے اور کروڑہا روپئے کی املاک تباہ ہوئی تھی ان میں دو لاکھ مہلوکین کا تعلق جزیرہ سماترا،انڈونیشیا سے تھا۔
اس سونامی کے دؤران سمندر سے 30 فیٹ بلند لہریں اٹھی تھیں۔اس سونامی کے باعث ہندوستان میں 18،000 افراد ہلاک ہوئے تھے ریاست تمل ناڈو سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔تمل ناڈو کے ساحلی علاقوں ناگا پٹنم ، چنئی ، کڈالور، پومپوہار اور ویلن کنی میں یہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
2004 میں آئی اس سونامی کو دنیا بھر میں سب بڑی اور ہلاکت خیز سونامی کہا جاتا ہے۔
مشرقی افریقہ تک پہنچنے کے بعد اس سونامی میں توانائی کم ہوئی تھی۔اس سونامی کی شدت کو ہیروشیما پر گرائے گئے بموں سے 23,000 ایٹم بموں کے برابر توانائی والی اور اسے تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات سماوی میں شمار کیا جاتا ہے۔
آج انڈونیشیا میں ریکارڈ کیے گئے زلزلہ کے بعد دوبارہ سونامی کی وارننگ دئیے جانے کے بعد عوام میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔جبکہ انڈونیشیا میں ڈسمبر 2018 میں آئی سونامی میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

