اومی کرون وائرئنٹ کی پانچ علامات ،آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کی رپورٹ میں انکشاف

اومی کرون وائرئنٹ کی پانچ علامات،آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کی رپورٹ میں انکشاف
زیادہ تر مریض بغیر ہسپتال گئے صحت یاب ہوئے ہیں، مریض کے آکسیجن لیول میں کمی نہیں ہوئی

نئی دہلی: 01۔ڈسمبر(سحر نیوز ڈاٹ کام)

کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کی تباہ کاریوں کے بعد اب جنوبی آفریقہ سے کورونا وائرس کی دوسری شکل’ اومی کرون’نے ساری دنیا کو دوبارہ پریشان کردیا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے کورونا وائرس کی نئی قسم ” اومی کرون ” Omicron Variant ” کے پہلی مرتبہ جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے کے بعد اس کے تیزی کے ساتھ پھیلنے کے ممکنہ خدشات کے مدنظر جنیوا میں جمعہ کے روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "اومی کرون” کے حقیقی خطرات ابھی تک سمجھ میں نہیں آسکے ہیں۔لیکن ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے والی اقسام کے مقابلے میں یہ نئی قسم زیادہ تیزی سے دوبارہ مرض میں مبتلا کرسکتی!۔

وہیں 27 نومبر کو آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن AMAکے سائنسدانوں اور ماہرین طب نے ایک قابل راحت اور حوصلہ بخش انکشاف کیا تھا کہ ” ڈیلٹا وائرئنٹ ” کے مقابلہ میں ” اومی کرون وائرئنٹ B.1.1.529 ” کا اثر کم ہوگا اور اس سے اموات کی شرح بھی کم ہوگی۔

اس کے لیے آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسداں اور ماہرین طب نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اومی کرون حال ہی میں سامنے نہیں آیا ہے بلکہ یہ دو ماہ قبل آفریقہ میں دریافت ہوا تھا۔تاہم اب تک اس سے اموات کم ہوئی ہیں اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی کم ہی ہے۔

آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسدانوں کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اکتوبر تا 26 نومبر افریقی ممالک میں جملہ 4،200 کورونا کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جو کہ اسی دؤران یوروپی ممالک میں ریکارڈ شدہ کورونا کیسس سے 86 فیصد کم ہے!!۔

اسی دؤران ” این ڈی ٹی وی ” نے اپنی ویب سائٹ پر ایک مختصر رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنوبی افریقہ جہاں تشویش کا باعث بننے والا ایک نیا کورونا وائرس ویرینٹ ” Omicron ” پایا گیا ہے وہاں ڈاکٹرس اس کوویڈ 19 کے مریضوں پر اس نئے تناؤ کی علامات کا مطالعہ کر رہے ہیں اور انہوں نے اب کچھ مشاہدات کیے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی اس رپورٹ میں جنوبی افریقی میڈیکل اسوسی ایشن کی چیئرپرسن انجلیک کوٹزی کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ:-

٭٭ اس سے متاثرہ مریض انتہائی تھکاوٹ ظاہر کرتے ہیں۔اور یہ کسی بھی عمر کے گروپ تک محدود نہیں ہے اور نوجوان مریض بھی انتہائی تھکاوٹ ظاہر کرتے ہیں۔

٭٭ متاثرہ مریض میں آکسیجن لیول کی سطح میں کوئی بڑی کمی واقع نہیں ہوئی۔جیسا کہ کورونا وائرس کے متاثرین میں ہندوستان میں اس وبائی مرض کی دوسری لہر کے دوران مریضوں میں آکسیجن لیول کی سطح میں زبردست کمی دیکھی گئی تھی۔

٭٭ اومی کرون Omicron  سے متاثرہ مریضوں نے ذائقہ یا بو کی کمی کی شکایت نہیں کی ہے،جو کہ کورونا وائرس  سے متاثرہ مریضوں میں یہ علامات عام ہوتی ہیں۔

٭٭ اس رپورٹ کے مطابق تاہم اومی کرون Omicron کے مختلف قسم کے مریضوں نے "گلے میں خراش” کی شکایت کی ہے۔

٭٭ افریقی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اومی کرون Omicron کے زیادہ تر مریض ہسپتال میں داخل کیے بغیر صحت یاب ہو چکے ہیں۔