تانڈور کے پولیوشن سے ہوا بیمار ،ایک لاکھ روپئے علاج کاخرچ دیا جائے

تانڈور کے پولیوشن سے ہوا بیمار،ایک لاکھ روپئے علاج کاخرچ دیا جائے

تانڈور کے ایک شہری کاکمشنر بلدیہ سے تحریری مطالبہ

تانڈور۔یکم/فروری (سحر نیوزڈاٹ کام/خصوصی رپورٹ) ضلع وقارآباد کا تانڈور ٹاؤن گزشتہ کئی سال سے شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے اس سے عوام مختلف امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ ایسے میں یہاں کی شانتی نگر کالونی کے ساکن وی۔ شیواکمارنے آج انچارج کمشنر بلدیہ و آرڈی او تانڈوراشوک کمار کی غیر موجودگی میں انچارج مینجئرکو ایک تحریر مکتوب حوالے کیاہے۔

شیوا کمار کی جانب سے کمشنر بلدیہ تانڈور کے حوالے کیے گئے شکایت اور مطالبہ پر مشتمل مکتوب

جس میں کمشنر بلدیہ سے شیواکمار نے شکایت کی ہیکہ تانڈور میں موجود فضائی آلودگی،مٹی اور دھول کے باعث انہیں سانس کا عارضہ اور دیگر امراض لاحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلدیہ اور بلدی عملہ کی غیر ذمہ داری کے باعث یہاں سڑکوں پر دھول اورمٹی کا غبار اٹھتا رہتا ہے جس کے علاج کیلئے انہوں نے ایک لاکھ روپئے خرچ کیے ہیں ۔

شیواکمار نے کمشنر بلدیہ تانڈور سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں بلدیہ تانڈور کی جانب سےانکے علاج پر اب تک خرچ کیے گئے ایک لاکھ روپئے ادا کیے جائیں وہیں شیواکمار نے یہ مطالبہ بھی کیاہیکہ مستقبل میں اگر اس عارضہ کے باعث انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو انکے افراد خاندان کو 25؍لاکھ روپئے بطور ایکس گریشیاکے طور پر ادا کیے جائیں ۔

دوسری جانب تانڈور میں خطرناک فضائی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ اورانتہائی شکستہ حال سڑکیں یہاں کے عوام میں شدیدتشویش کا باعث بن رہی ہیں اور خراب سڑکوں سے اُڑتی ہوئی دھول اور مٹی کا شکار یہاں کے عوام حکومت ، سرکاری انتظامیہ اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی پر برہم ہیں اورآئے دن سوشیل میڈیا پر اڑتی ہوئی دھول ، دھول میں لت پت گاڑی سواروں کی تصاویر کیساتھ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آخر تانڈور کے عوام کو کس جرم کی سزاء دی جارہی ہے؟ اور کیوں یہاں کی خطرناک فضائی آلودگی کے خاتمہ یا پھر اس میں کمی کیلئے اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں !

تانڈور کا تقریباً ہر علاقہ اس فضائی آلودگی سے شدید متاثر ہے جس سے اپنی حفاظت کی غرض سے عوام گزشتہ سال کورونا وباکے آغازسے پہلے ہی سے ماسک کا استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ گوتا پور روڈ ، کوڑنگل روڈ اور حیدرآباد روڈ کے بشمول یہاں کے تمام بلدی حلقے بھی فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں ہیں انسانی سروں ، کپڑوں کے علاوہ گاڑیوں ، سڑکوں پر کھلے عام فروخت کی جانے والی غذائی اور دیگر اشیاء کے علاوہ یہاں کے درختوں ، پیڑوں اور پودوں پربھی ہمیشہ دھول اور مٹی کی دبیز چادرکی موجودگی یہاں کے عوام کا مقدر بن کر رہ گیا ہے !

اس فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں گزشتہ 7سال کے دؤران امراض قلب ، پھیپھڑوں کے عوارض ، دمہ ، سانس لینے میں تکلیف ، جلد اور آنکھوں کے امراض کیساتھ ساتھ گردوں کے امراض میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھا جارہا ہے!! تاہم اسکے باؤجودبھی حکومت ،ضلعی انتظامیہ اورخود یہاں کے منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی معنی خیز ہے ۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ تانڈور سے 15 ؍ کلومیٹر کے فاصلہ پر مؤجود ایشیا کی دوسری سب سے بڑی سی سی آئی سمنٹ کے بشمول پینا سمنٹ، انڈیا سمنٹ ، وکاٹ ساگرسمنٹ اوروساکھا سمنٹ جیسی پانچ سمنٹ فیکٹریز اورسینکڑوں پتھراور دیگر صنعتیں موجود ہیں اسی طرح یہاں زمین سے نکلنے والے سدہ اور لال مٹی کی کانکنی بھی ہوتی ہے تانڈور سے ملک کے کونے کونے تک سمنٹ ، پتھر ، سدہ اور لال مٹی منتقل کرنے کیلئے روزآنہ زائد از 4؍ہزار بھاری ٹرکس اور سمنٹ ٹینکرس کی آمدورفت ہوتی ہے جبکہ بھاری ٹرکس کے ذریعہ ان سمنٹ فیکٹریز تک کئی مقامات سے لال مٹی، جپسم ، کوئلہ بھی روزآنہ بڑی تعداد میں پہنچایا جاتا ہے۔

وہیں تانڈور میں موجودپانچ سمنٹ فیکٹریز ، سینکڑوں پتھر کی صنعتوں کے علاوہ یہاں موجود سینکڑوں لاریوں ، کاروں اور دیگر گاڑیوں کیساتھ ساتھ مختلف صنعتوں سے حکومت کو اسکے مختلف محکمہ جات سے سالانہ کروڑہا روپئے مختلف ٹیکس کی شکل میں حاصل ہوتے ہیں تاہم یہاں موجود فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے حکومت کیجانب سے اقدمات صفر ہی کہے جاسکتے ہیں ۔

تانڈور کی اس فضائی آلودگی کیخلاف سٹیزن ویلفیئر فورم تانڈور کے کنوینر راج گوپال سارڈا کی متعدد شکایتوں کے بعد تلنگانہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کیجانب سے یہاں فضائی آلودگی ناپنے والے آلہ کیساتھ 17؍ڈسمبر 2015ء کو حیدرآباد روڈ پر مؤجود لاری پارکنگ کے قریب 8؍گھنٹوں تک آلودگی کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جسکے بعد یہ خوفناک انکشاف ہوا تھا کہ تانڈور میں تمام اقسام کی دھول ، مٹی اور دیگر عوامل پر مشتمل فضائی آلودگی کی شرح 622؍ملی گرام ریکارڈ ہوئی ہے۔ اب پانچ سال بعد اس فضائی آلودگی میں مزید اضافہ کا بھی اندیشہ جتایا جارہا ہے! جبکہ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے طئے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی شہر کی فضائی آلودگی فی کیوبک میٹر 100؍ملی گرام ہونی چاہئے۔

بعد ازاں راج گوپال سارڈ ا کنوینر سٹیزنس ویلفیئرفورم تانڈور 2016ء میں ریاستی ہائیکورٹ کی ہدایت پرنیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ دہلی میں 8؍سرکاری محکمہ جات اور یہاں کی پانچ سمنٹ فیکٹریز کے انتظامیہ کو فریق بناتے ہوئے کیس دائر کیا تھا۔ جہاں تین رکنی بنچ کی تشکیل کے بعد اس ٹریبونل کے معزز چیئر مین جسٹس آدرش کمار گوئل، جسٹس ایس پی وانگڑی جوڈیشیل رکن اورڈاکٹر ناگن ننداایکسپرٹ ارکان نے 29؍اگست 2019ء کومرکزی اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ضلع کلکٹر کو سخت ہدایت جاری کی تھی کہ اس سلسلہ میں اندرون ایک ماہ تانڈور میں مؤجودہ فضائی آلودگی کا تناسب اور ماضی میں ریکارڈ کیے گئے تناسب کے بعد آلودگی کے خاتمہ کیلئے کیے جارہے اقدامات پرمشتمل مکمل رپورٹ دی جائے۔ تاہم فضائی آلودگی کے خاتمہ کیلئے اقدامات ندارد ہی نظرآتے ہیں!!

وہیں دیڑھ سال قبل خود رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی تانڈور کی فضائی آلودگی کا مسئلہ ریاستی اسمبلی میں اٹھاچکے ہیں اور حکومت سے مطالبہ بھی کیا تھا کہ انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر اس پولیوشن کے خاتمہ کو یقینی بناتے ہوئے تانڈور کے عوام کو راحت دی جائے۔ جبکہ رکن اسمبلی اسی سلسلہ کے تحت تانڈور میں مشن – 90 دن صفائی مہم بھی چلاچکے ہیں لیکن آلودگی میں کمی نظر نہیں آتی !   

جبکہ اس فضائی آلودگی کیخلاف 16؍ جنوری کو تانڈور میں کل جماعتی نوجوانوں نے ایک مہاریلی اور دھرنا بھی منظم کیا تھا۔ اسی دوران گزشتہ ہفتہ پریس کانفرنس طلب کرتے ہوئے رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی نے یہاں کے عوام کو تیقن دیا ہیکہ اندرون دو سال وہ اپنے تمام انتخابی وعدوں کو عملی شکل دیتے ہوئے تانڈور کی ترقی کو یقینی بنائیں گے انہوں نے یہاں کی فضائی آلودگی کے خاتمے ، سڑکوں کی توسیع و مرمت اور دیگر مسائل کو مرحلہ وار سطح پر حل کرنے کا بھی تیقن دیا ہے۔

ضرورت شدید ہیکہ تانڈور میں موجود انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر اس فضائی آلودگی کو ختم کرنے یا پھر اس میں کمی کرنے کیلئے بلدیہ تانڈور اور محکمہ آراینڈ بی کی جانب سے ایک خصوصی مہم چلائی جائے جسکے دوران یہاں کی سڑکوں اور سڑکوں کے کنارے موجود مٹی کے بھاری ذخیرہ کو اٹھایا جائے جسے خود ان دونوں محکمہ جات کی جانب سے وقتیہ طورپر گڑھوں کو پُر کرنے کیلئے سالہا سال تک استعمال کیا گیا تھا،اگر یہاں کی سڑکوں سے مٹی اور دھول کا ذخیرہ اٹھاکر شہر کے باہر منتقل کردیا جاتا ہے تو یہاں کی فضائی آلودگی میں بڑی حد تک کمی ہوجائے گی۔

اس سلسلہ میں مقامی ذمہ داران، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ریاستی وزیر تعلیم پی۔ سبیتا اندرا ریڈی ، رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر پی۔ مہندرریڈی ، کلکٹر ضلع وقارآباد پوسومی باسو،  رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی ،صدر نشین بلدیہ تانڈور تاٹی کونڈا سواپنا پریمل کے علاوہ محکمہ آراینڈ بی کے اعلیٰ عہدیداروں سے موثر نمائندگی کو یقینی بنائیں ورنہ مستقبل میں یہاں یہ مسئلہ مزید بھیانک شکل اختیار کرسکتا ہے؟