یاسین ملک کو ٹیرر فنڈنگ معاملہ میں سزائے عمر قید
این آئی اے نے عدالت سے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا
نئی دہلی: 25۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کشمیر کے علحدگی پسند لیڈر و ممنوعہ صدر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک کے لیے آج”نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے NIA)” کی خصوصی عدالت نے سزائے عمر قید کا فیصلہ صادر کیا ہے۔جج پروین سنگھ نے دفعہ 121 آئی پی سی (ریاست کے خلاف جنگ چھیڑنا) کے تحت جرم کے لیے عمر قید کی سزا سنائی۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق عدالت نے یاسین ملک کو تعزیرات ہند کی دفعہ120B، 121، 121A اور UAPA کی دفعہ 13 اور 15 کے ساتھ تعزیرات ہند کی 120B کے علاوہ UAPA کی دفعہ 17، 18، 20، 38 اور 39 کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔
جبکہ این آئی اے کی جانب سے عدالت سے یاسین ملک کو سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اے این آئی نے خصوصی عدالت کے معزز جج پروین سنگھ کے سامنے تمام ثبوت و شواہد جمع کروائے تھے۔یاسین ملک کی مدد کے لیے عدالت کی طرف سے مقرر کردہ امیکس کیوری نے یاسین ملک کے لیےعمر قید یا کم سے کم سزا کی درخواست کی تھی۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے آج چہارشنبہ کو کشمیری علیحدگی پسند اور ممنوعہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک کو دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔یاسین ملک کو گزشتہ ہفتہ دہلی کی ایک عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔جب انہوں نے 2017 میں کشمیر میں دہشت گردی کی فنڈنگ، دہشت گردی پھیلانے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات کا اعتراف کرلیا تھا۔
ممنوعہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین 56 یاسین ملک کوحکومت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات کےتحت فروری 2019ء میں گرفتار کیا گیا تھا،ان پر این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایاگیا۔یاسین ملک گزشتہ تین سال سے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔جبکہ اس سے قبل یاسین ملک بارہا مرتبہ گرفتار اور رہا ہوچکے تھے۔
3 اپریل 1963 کو کشمیر میں پیدا ہونے والے یاسین ملک نے 2013 میں پاکستان کی کاممنوعہ تنظیم”لشکر طیبہ” کا سربراہ حافظ محمد سعید کے ساتھ اسٹیج پر نظر آئے تھے۔جس پر وہ ہندوستان میں شدید تنقید کا نشانہ بنے تھے کیونکہ حافظ سعید 2008ءمیں ممبئی میں ہونےوالے دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جس میں سینکڑوں معصوم انسانوں کی جانیں گئی تھیں۔


