سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سزاکے فیصلہ کے بعد ، سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو کے ٹوئٹ

نہ ڈرا، نہ جھکا،سدا لڑا ہوں،لڑ تا ہی رہوں گا
لڑاکوؤں کا سنگھرش،کائروں کو نہ سمجھ آیا ہے نہ آئے گا

سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سزاکے فیصلہ کے بعد
سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو کے ٹوئٹ

نئی دہلی:21۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سابق چیف منسٹر بہار و راشٹریہ جنتادل سربراہ لالو پرساد یادو کو 1995-96 میں بہار میں پیش آئے 139 کروڑ روپئے کے چارہ گھوٹالہ معاملہ میں آج رانچی کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے پانچ سال قید کی سزا کا حکم صادر کیا ہے اور ساتھ ہی ان پر 60 لاکھ روپئے کاجرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اس سزا کے اعلان کے بعد 74 سالہ لالو پرساد یادو کے ٹوئٹر کے مصدقہ ہینڈل سے ہندی زبان میں دو ٹوئٹ کیے گئے ہیں۔اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز  پر بھی ان ٹوئٹس کے اسکرین شاٹ وائرل ہوئے ہیں۔

دوپہر 50-2 بجے کیے گئے پہلے ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ :-

ناانصافی،عدم مساوات سے
آمرانہ ظالم حکومت سےلڑا ہوں
لڑتا رہوں گا
ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں
سچ جس کی طاقت ہے
ساتھ جس کے عوام ہے
اس کے حوصلے کیا توڑیں گی سلاخیں

جبکہ لالو پرساد یادو کے اسی ٹوئٹر ہینڈل سے 09-3 بجے سہء پہر کیے گئے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا گیا ہے کہ :

میں ان سے لڑتا ہوں جو لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں
وہ ہرا نہیں سکتے اس لیے سازشوں سے پھنساتے ہیں
نہ ڈرا، نہ جھکا، سدا لڑا ہوں،لڑ تا ہی رہوں گا
لڑاکوں کا سنگھرش کائروں کو نہ سمجھ آیا ہے نہ آئے گا

11 جون 1948 کو پھلواری،بہار میں پیدا ہونے والے لالو پرساد یادو ملک اور ریاست بہار کی سیاست اور عوام میں اپنی مقبولیت کا ایک ریکارڈ رکھتے ہیں۔ملکی سیاست میں سرگرم رہنے کے دؤران دوٹوک گفتگو،ان کی سادہ اور عام طرز زندگی،عام فہم اور برملا جملوں کا استعمال،اندازگفتگو اور ان کا منفرد ہیئر اسٹائل انہیں دیگرسیاستدانوں سے الگ پہچان عطا کرتا تھا۔

لالو پرساد یادو اس وقت بہت زیادہ سرخیوں میں آگئے تھے جب انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر بہار بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی کو 23 ستمبر 1990 کو بہار کے سمستی پور میں اس وقت گرفتار کروایا تھا جب لال کرشن اڈوانی اپنی رتھ یاترا کے ساتھ بہار میں داخل ہوئے تھے۔یہ رتھ یاترا انہوں نے رام مندر۔بابری مسجد تنازعہ کے دؤران سارے ملک میں رام مندر کےحق میں نکالی تھی اور اس دؤران ملک کے کئی شہروں میں فرقہ وارانہ فساد بھی ہوئے تھے۔جبکہ 1989 میں ہی بھاگلپور کے خونی فسادات کی یادیں تازہ تھیں۔

ایک طویل عرصہ تک لالو پرساد یادو ریاست بہار اور ملک کی سیاست میں ایک اہم رول ادا کرتے رہے۔1990-97 تک وہ بہار کے چیف منسٹر رہے۔جبکہ 2004 سے 2009 تک یو پی اے دؤر اقتدار میں انہوں نے بحیثیت وزیر ریلوے اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ رہلوے کو منفعت بخش شعبہ بنایا تھا۔جس کے دؤران لالو پرساد یادو کو ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں میں لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا اس دؤران انہوں نے ہندوستان کے مختلف آ آئی ایم کالجس کے طلبا کو لیکچر بھی دئیے تھے۔

ان پر بالی ووڈ میں 2005 میں ایک فلم”پدم شری لالو پرساد یادو” بھی بنائی گئی تھی۔جبکہ بھوجپوری زبان میں ان پر دو فلمیں بنائی گئیں۔بہار میں یادو،مسلم اور دلت ووٹ ان کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے!