آٹھویں جماعت کی کتاب میں متنازعہ تصویر کی اشاعت
پبلشر نے معافی مانگتے ہوئے تمام کتابیں ہٹالینے کا اعلان کیا
حیدرآباد: 26۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
آٹھویں جماعت (انگلش میڈیم) کی سماجی علم کی کتاب کے صفحہ 187 پرقرآن مجید کو دہشت گرد ی سے جوڑتے ہوئے دہشت گرد کی نشاندہی کے طور پر ایک تصویر شائع کی گئی تھی۔اس تصویر میں ایک نقاب پوش دہشت گرد کے ایک ہاتھ میں قرآن کریم اور دوسرے ہاتھ میں بندوق دکھائی گئی تھی۔

اردو میڈیا کی جانب سے اس انکشاف کے بعد مسلمانوں میں شدید برہمی اور غصہ پیدا ہوگیا تھا اور حکومت تلنگانہ سے اس کتاب پر پابندی اور کتاب کے پبلشر کے خلاف کارروائی کا مختلف مسلم تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا۔
اور کل سے یہ معاملہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر موضوع بحث بن گیا تھا کہ کس طرح نصابی کتب کے ذریعہ بھی معصوم بچوں کے ذہنوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس مسئلہ پر آج 26 ستمبر کو اس کتاب کے پبلشر ” VGS PUBLISHERS ” وی جی ایس پبلشرس وجئے واڑہ نے باقاعدہ تحریری معذرت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے شائع کردہ آٹھویں جماعت کی کتاب میں متنازعہ تصویر کی اشاعت سے ایک طبقہ کی دلآزاری ہوئی ہے،جس کے لیے وہ معذرت خواہ ہیں۔

کتاب کے پبلشر نے اپنے معذرت نامہ میں لکھا ہے کہ ان کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جائے۔
وی جی ایس پبلشرس نے اعلان کیا ہے کہ ان تمام کتابوں سے وہ تصویر ڈیلیٹ کردی جارہی ہے اور ان کتابوں کی اشاعت کو وہ روک رہے ہیں جس میں یہ تصویر موجود ہے۔

پبلشر نے اپنے معذرت نامہ میں لکھا ہے کہ وہ ان تمام کتابوں کو مارکیٹ سے واپس طلب کررہے ہیں جو فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔اور تیقن دیا ہے کہ آئندہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ ان کی کسی بھی کتب سے کسی بھی طبقہ کی دلآزاری نہ ہو۔

