ہری دُوار میں مسلم نسل کشی کی دھمکی دینے والوں نے قرآن پاک، پیغمبراسلامؐ،مولویوں اور دیگر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی

ہری دُوار میں مسلم نسل کشی کی دھمکی دینے والوں نے
قرآن پاک، پیغمبراسلام ﷺ،مولویوں اور دیگر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی
ہندوراشٹر کے قیام کے لیے کمسن اسکولی طلبہ کو حلف دلاتے ہوئے ویڈیو وائرل

دہلی: 29۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)

اتراکھنڈ کے ہری دوار میں 17 تا 19 ڈسمبر یتی نرسنگھانند کی جانب سے منعقدہ دھرم سنسد میں اور ملک کے دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندو یوا واہنی کے ایک اجلاس میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز خطابات اور دھمکیوں کے ساتھ باقاعدہ یہ حلف دلایا گیا کہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لیے 20 لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی سے بھی گریز نہیں کیا جائے۔!!اور مرنے مارنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ان دونوں اجلاسوں کے ویڈیوز سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر بہت زیادہ وائرل ہوئے ہیں اور ہرطرف سے اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

دہلی میں منعقدہ ہندوسمیلن میں سریش چوانکے حلف دلاتے ہوئے۔اور ہری دُوار کے دھرم سنسد میں یتی نرسنگھانند گری خطاب کرتے ہوئے۔   

اس سلسلہ میں 26 ڈسمبر کو سپریم کورٹ کے 76 وکلاء جن میں کئی ایک سینئر وکلا بھی شامل ہیں نے چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو ایک دستخطی مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ دہلی اور ہری دوار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود suo moto کے تحت نوٹس لیتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے۔

معزز چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو لکھے گئے اپنے اس مکتوب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزتقاریر کرنے والوں کے نام بھی پیش کیے ہیں جن میں ” یتی نرسنگھانند گری،ساگر سندھو مہاراج،دھرم داس مہاراج،پریمانندمہاراج،سادھوی انوپما (عرف پوجا شکن پانڈے)،سوامی آنندسروپ،اشونی اپا دھیائے،سریش چوانکے (سدرشن نیوز) اورسوامی پروب دھانند گری شامل ہیں۔

این ڈی ٹی وی کے بموجب ہری دوار کے سپرنٹنڈنٹ پولیس شیکھر سوئل نے ہفتہ کو کہا تھا کہ ہری دوار میں دھرم سنسد میں مبینہ نفرت انگیز تقاریر کے سلسلہ میں ایف آئی آر میں مزید دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔پولیس نے نفرت انگیز تقاریر کیس میں دھرم داس اور ایک خاتون اناپورنا کو نامزد کیا ہے۔قبل ازیں چہارشنبہ کو پولیس نے کہا تھا کہ انہوں نے”جتیندر تیاگی (سابق وسیم رضوی)” اور دیگر کے خلاف دفعہ 153A تعزیرات ہند کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اسی دؤران کل رات دیرگئے ٹوئٹر پر ایک صحافی Ashutosh Bhardwaj@ نے ایک ویڈیو اور فوٹوز ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ” زعفرانی رہنماؤں نے ایک پولیس عہدیدار کو اپنے آشرم طلب کیا تو فرض شناس پولیس عہدیدار نے آشرم پہنچ کر ان کی جانب سے قرآن، پیغمبرﷺ,مولویوں اور دیگر مسلمانوں کے خلاف ایک تحریری شکایت حوالے کی۔

اس موقع پر ہر ہر مہادیو کے نعرے بھی لگائے جارہے تھے اس پولیس عہدیدار نے ان کے ساتھ فوٹو بھی کھنچوائی”۔اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس عہدیدار کو شکایت حوالے کرنے والوں میں وہی لوگ شامل ہیں جنہوں نے ہری دُوار کے دھرم سنسد میں مشتعل تقاریر کی تھیں۔

اس ویڈیو میں جتیندر تیاگی(سابق نام وسیم رضوی) پولیس عہدیدار سے ہاتھ جوڑ کر کہہ رہا ہے کہ اس شکایت پر ایک ایف آئی آر درج کرتے ہوئے کارروائی کی جائے۔حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ اس ویڈیو میں جتیندر ترویدی(وسیم رضوی) اور اناپورنا بھی موجود ہیں جن کے خلاف بقول خود پولیس کیس درج کیا گیا ہے؟! بعد ازاں یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔

دوسری جانب”فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز” کے معاؤن فاؤنڈر محمد زبیر Mohammed Zubair@نے کل رات ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک اسکول (نامعلوم) کے کمسن طلبا اور طالبات کو عہد کروایا جارہاہے کہ” ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے لیے اپنی جان دیں گے اور ضرورت پڑنے پر جان بھی لیں گے۔”

محمد زبیر نے اس ویڈیو کو مرکزی وزیر بہبود خواتین واطفال سمرتی ایرانی، پریانک کنونگو چیئرمین نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس،نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس،شرما ریکھا چیئرپرسن نیشنل کمیشن فار ویمن اور نیشنل کمیشن فار ویمن کو باقاعدہ ٹیگ 

 کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کا برین واش کرتے ہوئے انہیں مرنے اور مارنے کے لیے حلف دلایا جا رہا ہے! کب تک آپ سب اس طرح کی ویڈیوز کو نظر انداز کرکے سونے کا ڈرامہ کرتے رہیں گے؟ اٹھو! بولو!!