حیدرآباد سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ” تلنگانہ کا اوٹی ” اننت گیری ہلز”،سیاحت کے لیے بہترین مقام

حیدرآباد سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر موجودتلنگانہ کا اوٹی اننت گیری ہلز
وقارآبادضلع میں سرسبز و شاداب ماحول،فیملی کے ساتھ سیاحت کے لیے بہترین مقام
 پراجکٹس میں کشتی رانی کا لطف،تعطیلات میں سیاحوں کا ہجوم

حیدرآباد/وقارآباد
(سحرنیوزڈاٹ کام؍خصوصی رپورٹ)

سیر و تفریح کا شوق کسے نہیں ہوتا! زیادہ تر افراد کا شوق سفر اور سیر و تفریح کرنا ہوتا ہے۔ماہرین بالخصوص ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر بیرون ممالک سیاحت کے لیے جاناممکن نہیں تو اپنے ہی ملک کے سیاحتی علاقوں پر جانے سے دماغی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور دماغ پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیر و تفریح سے شدید ذہنی دباؤ کے شکار شخص کے ڈپریشن میں 80 فیصد سے زائد کمی آجاتی ہے۔نئے مقامات اور نئی جگہوں کو دیکھنے اور نئے نئے لوگوں سے ملاقات ڈپریشن کو ختم کرتا ہے۔

وہیں ماہرین بالخصوص ماہرین نفسیات کے مطابق اپنے خاندان یا دوست واحباب کے ساتھ سفر و سیاحت کرنے سے اس پورے سفر و سیاحت کے دؤران ان میں محبت،خلوص،اپنا پن پیدا ہوتا ہے اور وہ رشتوں کو نبھانے میں پہلے سے زیادہ فعال ہوجاتے ہیں۔

اور ساتھ ہی سیاحت کے لیے جانے والوں میں امراض قلب بھی کم ہوتے ہیں۔وہیں سیر وتفریح کے ذریعہ جتنے زیادہ تجربات حاصل کیے جاتے ہیں اس سے انسان کے خوف میں کمی بھی ہوتی ہے۔

چاروں جانب ہزاروں ایکڑ اراضی پر پھیلے ہوئے جنگلات،بہترین آب و ہوا،ان جنگلات کی تینوں جانب بلند و بالا ہرے بھرے درختوں والے پہاڑوں کا حصار،زمین پر چاروں جانب سبزہ،مختلف انواع کے پھول اور پودے اور مختلف قسم کے جانور جن میں قومی پرندہ مور بھی شامل،تو درختوں کے درمیان سے سانپ کی مانند رینگتی ہوئی سڑک کا نظارہ!اور پھر تانڈور کیجانب سے اننت گیری ہلز پر گاڑیوں کو چڑھنے کیلئے طویل اور دلفریب گھاٹ!

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی دور دراز کا سیاحتی مقام یا ہل اسٹیشن Hill Station# ہوگا تو آپ غلطی پر ہیں۔

دراصل یہ قدرتی رنگینیوں اور قدرتی نظاروں سے بھرپور،آنکھوں اور ذہن کو تروتازہ کرنے والا لائق دید نظارہ اننت گیری ہلز کا ہے جو کہ ریاست تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآبادسے صرف 70 کلومیٹر اور وقارآباد سے 6 کلومیٹر کے فاصلہ پرمؤجود ہے۔

3,762 ایکڑ جنگلاتی علاقہ پر محیط اننت گیری ہلز سے ہی سے مشہور تاریخی موسیٰ ندی کا آغاز ہوتا ہے جو حیدرآباد کی شان کہلاتی ہے۔

اننت گیری ہلز کا خوبصورت نظارہ ” (ویڈیو)

اور اس اننت گری ہلز کے جنگلات میں ہمہ اقسام کی نایاب و نادر جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں،مختلف اقسام کے گھنے پیڑ اور پودے مؤجود ہیں یہ مختلف جنگلی جانوروں کی یہ آماجگاہ بھی ہے اننت گری ہلز سطح سمندر سے 2 ہزار میٹر بلندی پر انتہائی معتدل اور بہترین پر فضاء پر مقام پر واقع ہے۔

 

اننت گری ہلز پر نظام دؤرحکومت میں ہندوستان بھر میں سروے کے بعد 1946ء میں 26 ایکڑ اراضی پر 450 بستروں کا حامل ٹی بی ہسپتال قائم کیا گیا تھا جو کہ اب بھی مؤجود ہے۔اس ٹی بی سینیٹوریم کی خاصیت یہی تھی کہ اس علاقہ کی پرفضاء مقام سے ہزارہا تپ دق ( ٹی بی ) کے مریض ملک کے کونے کونے سے یہاں لائے جاتے تھے اور چند ماہ کے قیام اور علاج کے بعد توانا و تندرست ہوکر لوٹ جاتے تھے اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

سال 2020ء میں کورونا وبا کے آغاز کے بعد بیرون ممالک سے آنے والے مسافرین کوشمس آباد ایرپورٹ سے اسی اننت گیری ہلز پر موجود ریسارٹ میں تمام عمدہ سہولتوں کے ساتھ قورنطین میں رکھا جاتا تھا بعدازاں انہیں ان کے مکانات بھیج دیا جاتا تھا۔

بعدازاں اننت گیری ہلز پر موجود اسی ٹی بی سینیٹوریم کو کوویڈ کی دوسری لہر کے دؤران جاریہ سال ہنگامی حالات میں تمام طبی سہولتوں سے لیس ” کوویڈ کیئر سنٹر ” بنایا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ کے سی آر اپنے دؤرہ تانڈور اور وقارآباد کے مؤقع پر اننت گیری ہلز کا نظارہ کرچکے ہیں اور اسی وقت انہوں نے اننت گیری ہلز کوـ " تلنگانہ کا اوٹیکا خطاب دیا تھا۔

تشکیل تلنگانہ سے قبل اننت گیری کے جنگلات میں ٹی آر ایس پارٹی کا تاسیسی اجلاس منعقد کیا گیا تھا اس اجلاس سے خطاب کے دؤران کے سی آر نے کہا تھا کہ " اننت گیری کی ہواء ، سو امراض کی دواء

اننت گیری ہلز کے جنگلات میں مؤجود بیش قیمتی جڑی بوٹی کے پودوں میں مزید اضافہ کے اقدامات بھی کیے گئے اور اننت گیری ہلز پر ہربل گارڈن بھی قائم کیا جارہا ہے۔

اننت گیری ہلز Paraglider کا تجربہ ” (ویڈیو)

 

شجر کاری پر مشتمل ہریتا ہارم پروگرام کے تحت گزشتہ پانچ سال کے دؤران اننت گیری ہلز کے جنگلات میں لاکھوں پودے لگائے گئے ہیں وہیں مختلف پھلوں اور جڑی بوٹیوں کے بیج بھی بوئے گئے ہیں۔اننت گیری ہلز پر مانسون اور مؤسم سرماء میں دلکش نظارے لائق دید ہوتے ہیں۔

صبح کی اؤلین ساعتوں میں اننت گیری ہلز کا مکمل علاقہ اور گھاٹ کہر کی گہری چادر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور اس مؤقع پر سڑک کے کنارے مور، دیگر چرند پرند اور جانوروں کے غول ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔

اننت گیری ہلز کی سیاحت کیلئے تعطیلات بالخصوص ہفتہ اور اتوار کو حیدرآباد کے بشمول قریبی اضلاع سنگاریڈی، میدک،ظہیرآباد،محبوب نگر،وقارآباد ضلع کے تانڈور، پرگی، کورنگل کے علاوہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے بیدر اور گلبرگہ سمیت دیگر مقامات سے بھی سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچتی ہے۔

یہاں محکمہ سیاحت کا ایک ہوٹل؍ریسارٹ بھی مؤجود ہے۔جبکہ اننت گیری ہلز پر مؤجود قدیم مسجد میں مسلم سیاح اور تانڈور سے حیدرآباد و وقارآباد جانے والے مسافرین نماز ادا کرتے ہیں تو قریب ہی مؤجوداننتا پدمانابھا مندر کے درشن کیلئے بڑی تعداد میں روز مختلف مقامات سے بھگت بھی اننت گیری پہنچتے ہیں۔

وقارآباد ضلع میں موجود کوٹ پلی پراجکٹ اور لکھنا پور پراجکٹ کا دلنشین منظر ” ( ویڈیو )

اننت گیری ہلز پرمحکمہ جنگلات کی گہری نظر رہتی ہے اور مختلف مقامات پر غیر اخلاقی حرکتوں اور درختوں کی کٹائی کو روکنے کی غرض سے سی سی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ڈسمبر 2019 کے اواخر میں اننت گیری ہلز میں ریاست سکم کی ایک کمپنی کے عہدیداروں اور ملازمین نے پیراشوٹ چھلانگ کھیل Paraglider# کا کامیاب تجربہ انجام دیا گیا تھا اور اس کا باقاعدہ آغاز بھی ہونے والا تھا تاہم 2020کے آغاز میں کوروناوبا کے آغاز کے بعداس پراجکٹ کو روک دیا گیا ہے جس کے جلد آغاز کا امکان ہے!

وہیں گزشتہ ہفتہ اپنے دورہ تانڈور کے موقع پر چیئرمین تلنگانہ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اپلا سرینواس گپتا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اننت گیری ہلز کو سیاحتی مقام کے طور پر مزید ترقی دینے کے لیے 200 کروڑ روپئے صرف کیے جانے کا منصوبہ تیار کیا جائے گا۔

اننت گیری ہلز پہنچنے والے زیادہ تر سیاح وہاں سے ضلع وقارآباد میں 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود متحدہ ضلع رنگاریڈی (وقارآباد،میڑچل اور رنگاریڈی )کے سب سے بڑے آبپاشی کے کوٹ پلی پراجکٹ ضرور پہنچتے ہیں۔1967میں تعمیر کردہ 24 فیٹ کا حامل کوٹ پلی پراجکٹ بھی اب سیاحت کا اہم مرکز بن گیا ہے۔

اس پراجکٹ میں ہمہ اقسام کی کشتی رانی، واٹر بوٹس سیاحوں کو راغب کررہی ہیں۔تعطیلات بالخصوص ہفتہ اور اتوار کو یہاں بھی سیاحوں کا جم غفیر ہوتا ہے جہاں کشتی رانی کے ذریعہ 40 نوجوان روزگار حاصل کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ضلع وقارآباد کے پرگی میں موجود لکھناپور پراجکٹ بھی اب سیاحت کا مرکز بن گیا ہے۔

” کوٹ پلی پراجکٹ کا خوبصورت نظارہ "

اننت گیری ہلز پہنچنے کے لیے صبح اور دوپہر کے وقت حیدرآباد/سکندرآباد سے ٹرینیں دستیاب ہیں۔جبکہ مہاتما گاندھی بس اسٹیشن (ایم جی بی ایس) براہ افضل گنج، نام پلی،لکڑی کا پل،مہدی پٹنم اور لنگرحوض سے تانڈور جانے والی آرٹی سی بسوں کے ذریعہ بھی سیدھے اننت گیری ہلز پہنچا جاسکتا ہے۔

” پرگی میں موجود لکھنا پور پراجکٹ کا دلکش نظارہ "۔

سیاح انہی روٹس کے ذریعہ پرگی اور وقارآباد ڈپوز کی بسوں کے ذریعہ بھی وقارآباد پہنچ کر وہاں سے مختلف ذرائع سے 6 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود اننت گیری ہلز پہنچ سکتے ہیں۔

………….

” کیرالا کے کوچی سے تعلق رکھنے والا 70 سالہ جوڑا جو سیاحت کی غرض سے 25 ممالک گھوم چکا ہے اور اب جاریہ ماہ کے اواخر میں روس کے دورہ پر روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔” مکمل تفصیل اور تصاویر سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر” :-

تم ساتھ دو تو چلیں ہم آسماں تک: کیرالا کا کافی شاپ چلانے والا ضعیف جوڑا جو اب بیرون ممالک کے 26ویں دؤرہ کے لیے تیار ہے

AnathagiriHills #VikarabadDist  #Telangana #Tourism#