امیت شاہ قبل از وقت لوک سبھا انتخابات کا اعلان کریں، مسلم تحفظات پر مرکزی وزیر داخلہ کے بیان پر تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر کی شدید تنقید

امیت شاہ قبل از وقت لوک سبھا انتخابات کا اعلان کریں
مسلم تحفظات کی برخواستگی کیوں؟ ہمارےمسلمانوں نے کیا کیا ہے؟
وزیراعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر
پریس کانفرنس میں تلنگانہ کے وزیر کے ٹی آر کےسخت ریمارکس

حیدرآباد: 15۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام)

کارگزار صدر ٹی آر ایس پارٹی و ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم ونسق کے۔تارک راماراؤ(کے ٹی آر)نے کل حیدرآباد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دؤران مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کی جانب سے ریاست تلنگانہ کومقروض ریاست قراردینے اور وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ کی حکومت کو نکمی قرار دئیے جانے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر شدید ریمارکس کیے ہیں اور انہیں چیلنج کیا ہے کہ ہمت ہے تو بی جے پی لوک سبھاتحلیل کرکے انتخابات کا سامنا کرے اور ہم انتخابات کا سامنا کرنے تیار ہیں کیونکہ عوام انہیں کچرے دان میں پھینکنے کے لیے تیار ہیں۔

کے ٹی آر نے امیت شاہ کی اس پیش قیاسی کو مسترد کرتے ہوئے کہ تلنگانہ میں قبل از وقت انتخابات کا منصوبہ بنایا جارہا ہے کہا کہ وزیراعلیٰ کے سی آر پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ ریاست میں وقت پر ہی اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے۔

کارگزارصدر ٹی آر ایس پارٹی و ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم ونسق کے۔تارک راماراؤ نے کہا کہ سنہرا تلنگانہ سارے ملک کے لیے ایک مثال ہے۔امیت شاہ کی جانب سے اقتدار پر آنے کے بعد تلنگانہ میں مسلمانوں کو دئیے جانے والے تحفظات کو ختم کرنےکے اعلان پر کے ٹی آرنےسوال کیا کہ گجرات،کرناٹک،بہاراور کیرالا میں مسلمانوں کو تحفظات(ریزرویشن) دئیے جاسکتے ہیں لیکن تلنگانہ میں مسلم تحفظات کی اجازت نہیں دی؟۔انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ہمارے مسلمانوں نے کیا کیا ہے؟

کے ٹی آر نے جسٹس راجندر کمار سچر کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ایک سابق چیف جسٹس نے اپنی رپورٹ میں خود کہا ہے کہ ملک میں مسلمان اور دلت طبقات معاشی طور پر بہت کمزور ہیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ملک میں معاشی اور سماجی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے تحفظات دئیے جانے چاہئے۔ریاستی وزیر کے ٹی آر نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے منعقد کیے جانے والے امتحانات میں اردو زبان شامل رہ سکتی ہے لیکن تلنگانہ کے گروپ۔ون امتحان میں اردو شامل نہ کی جائے!!

انہوں نے مشورہ دیا کہ بی جے پی والے نوجوانوں کو بہکانے اور انہیں اکسانے والی نچلی سطح کی سیاست نہ کریں۔کیوںکہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے،پہلے ہر کوئی اردو زبان ہی استعمال کرتا تھا ہر کسی کے آبا و اجداد اردو میں ہی بات کرتے تھے اس وقت نہ انگریزی زبان تھی نہ تلگو!! انہوں نے کہا کہ خود وزیراعظم نریندرمودی کی ویب سائٹ اردو میں ہے۔

کے ٹی آر نے ایک مفکر کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ”کسی قوم کو ختم کرنا ہو تو پہلے اس کی زبان کو ختم کرو”۔یہی کھیل بی جے پی والے کھیل رہے ہیں۔ 

آج شام تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس میں ریاستی وزیرکے ٹی آر نے وزیراعظم نریندرمودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کے خلاف رکیک الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں جھوٹوں کا بادشاہ قراردیا۔برہم ریاستی وزیرکے ٹی آر نے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں گجرات،مدھیہ پردیش،ہریانہ اور کرناٹک میں جاری پینے کے پانی کی شدید قلت اور برقی کٹوتی پرمشتمل اخباری تراشے دکھاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا تلنگانہ کے عوام کو ان تمام مشکلات کا سامنا ہے؟انہوں نے بی جے پی قیادت والی ریاستوں میں جاری رشوت خوری اور بدعنوانیوں کا حوالہ بھی دیا جو کہ مختلف اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔

امیت شاہ کے اس ریمارک پر کہ”ٹی آر ایس کی گاڑی کا اسٹیئرنگ اویسی کے ہاتھ میں ہے”کے ٹی آر نے کہا کہ سارے ملک کو معلوم ہے کہ ملک میں "ہم دو ہمارے دو” کا راج چل رہا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ دو گجراتی بیچ رہے ہیں اور دو گجراتی خرید رہے ہیں۔

انتہائی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی آر نے بی جے پی قائدین اور جھوٹ بولنے میں ماہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کچھ کہنے سے قبل شرم کریں۔انہوں نے کہا کہ نظام کے ورثا بھی ان کا نام اتنی مرتبہ لیتے یا نہیں معلوم نہیں لیکن بی جے پی والوں کے اعصاب پر ہمیشہ نظام،مسلمان اور رضاکار سوار رہتے ہیں۔

کے ٹی آر نے واضح کیا کہ تلنگانہ کا مقابلہ ملک کی کسی بھی ریاست سے نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی مسابقت ہے۔ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہاکہ ریاست قرض کے معاملہ میں 29 ریاستوں کی فہرست میں نیچے سے پانچویں نمبر پرہے اور ریاست نے قرض حاصل کرکے کئی کالیشورم،مشن بھاگیرتا جیسے پراجکٹ تعمیر کیے ہیں اور برقی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے عوام سے ساڑھے 26 لاکھ کروڑ روپئے حاصل کیے اس کا حساب کہاں ہے؟انہوں نے کہا کہ 11 لاکھ کروڑ کے اپنے دوستوں کے قرض معاف کیے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کارپوریٹ کے قبضہ میں ہے۔مختلف سرکاری اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ سب فروخت کردیا گیا۔

مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے کل اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گزشتہ 8 سال کے دؤران مرکز کی مودی حکومت نے ریاست تلنگانہ کو”2 لاکھ 52 ہزار 282 کروڑ روپئے کے فنڈس دئیے ہیں کامضحکہ اڑاتے ہوئے ریاستی وزیر کے ٹی آرنے اس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تک حکومت تلنگانہ نے مرکزی حکومت کو ٹیکسس کی شکل میں 3,65,797لاکھ کروڑ روپئے ادا کیے ہیں۔جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو صرف ایک لاکھ 68 ہزار کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فینانس کمیشن کے حساب سے ہی یہ فنڈس حاصل ہوئے ہیں خصوصی طور پر کوئی زائد رقم نہیں ملی۔کے ٹی آر نے الزام عائد کیا سرکاری ایجنسیوں کے ذریعہ ہراساں کیا جارہا ہے اور کچھ سوال پوچھو تو ملک سے غداری کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جھوٹ زیادہ دن زندہ نہیں رہتا۔

ریاستی وزیر نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت آئی تو مفت تعلیم اور علاج فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تو دیر کس بات کی ہے مرکزی حکومت کے ذریعہ ایسا بل لایا جائے تو ہم اس کی تائید کریں گے۔انہوں نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ ایسا کیا گیا تو بی جے پی قائدین کو اور خاص کر بنڈی سنجے کمار کو تمباکو اور لونگ کے ساتھ تہنیت پیش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین واٹس ایپ یونیورسٹی کے جھوٹ کو پھیلارہے ہیں۔