مشہور ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی قندھار میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق

مشہور ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی قندھار میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپ میں جاں بحق

قندھار/نئی دہلی :16۔جولائی(سحر نیوزڈاٹ کام)

ہندوستان کے مشہور فوٹو جرنلسٹ اورپلٹزر ایوارڈ یافتہ دانش صدیقی جو کہ ہندوستان میں مشہور بین الاقوامی نیوز ایجنسی رائٹرس سے وابستہ تھے کل رات افغانستان کے قندھار میں افغان سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان اسپن بولدک ضلع جو کہ پاکستان سے متصل ہے میں جھڑپ کے دؤران جاں بحق ہوگئے۔

Photo Courtesy : Dainsh Siddiqui’s Twitter Handle

فوٹو گرافی میں ماہر دانش صدیقی اپنے فن کے ذریعہ متعدد بین الاقوامی اور قومی ایوارڈس حاصل کی۔کورونا وبا کے دؤران مزدوروں کی پیدل نقل مقامی ، دہلی فسادات ، شاہین باغ احتجاج ، کشمیر میں آرٹیکل 370 کی برخواستگی کے بعد وہاں کے حالات کے دؤران ان کی لی گئیں سینکڑوں تصاویر نے ساری دنیا کی توجہ حاصل کی تھی۔

دانش صدیقی افغان اسپیشل فورسیس کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دے رہے تھے اور طالبان کے خلاف جاری اسپیشل آپریشن کا کوریج کررہے تھے۔

افغان اسپیشل فورسیس اسپن بولدک کی اہم مارکیٹ کا علاقہ طالبان کے قبضہ سے آزاد کروانے میں مصروف تھاکہ اس دؤران ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے ساتھ سینئر افغانی عہدیدار بھی ہلاک ہوگئے۔

Photo Courtesy : Dainsh Siddiqui’s Twitter Handle

دانش صدیقی نے تین دن قبل ہی 13 جولائی کو افغانستان میں اپنی پیشہ وارانہ خدمات کی انجام دہی کے دؤران اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے زمین پر لیٹی ہوئی اپنی ایک تصویر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ تقریباً 15 گھنٹوں کے لگاتار مشن کے دؤران 15 منٹ کا وقفہ لیتے ہوئے۔

13 جولائی کی رات اپنے ایک اور ٹوئٹ میں دانش صدیقی نے لکھا تھا کہ افغان اسپیشل فورس ، اشرافیہ کے جنگجو پورے ملک میں مختلف محاذوں پر ہیں۔ میں نے ان جوانوں کے ساتھ کچھ مشنوں کے لئے ٹیگ کیا۔ آج قندھار میں وہی ہوا جب وہ ایک جنگی مشن پر پوری رات گزارنے کے بعد ریسکیو مشن پر تھے۔

افغانستان میں اپنی خدمات کے دؤران جاں بحق ہونے والے دانش صدیقی کے تعلق سے رائٹرز کے صدر مائیکل فریڈن برگ اور چیف ایڈیٹر ان چیف ، الیسیندرا گیلونی نے ایک بیان میں کہا کہ دانش ایک بہترین صحافی ، ایک ذمہ دار شوہر اور والد تھے اور یہ ایک بہت ہی پسندیدہ ساتھی تھے۔ ہماری ساری ہمدردی اس وقت ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔”

وہیں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی دانش صدیقی کے جاں بحق ہونے پر غم اور افسوس کا اظہار کیا ساتھ ہی امریکی انتظامیہ نے بھی افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت پر نہ وزیراعظم نریندر مودی نے، نہ وزیر خارجہ نے اور نہ حکومت ہند کے کسی ذمہ دار نے تعزیت کااظہار کیا ہے!! جس پر سوشل میڈیا پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ اپنے ملک کے فوٹو جرنلسٹ کی موت پر کیوں حکومت ہند خاموش ہے؟

https://twitter.com/Nher_who/status/1416329834217623553

جبکہ ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ سوشل میڈیا پر دانش صدیقی کی موت پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں!!

دانش صدیقی نے روہنگیا پناہ گزینوں کے متعلق اپنے کوریج پر 2018ء میں باوقار پلٹزر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔

دانش صدیقی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی تھی اور 2007ء میں انہوں نے اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سنٹر جامعہ سے جرنلزم کی سند حاصل کی تھی۔دانش صدیقی نے اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز ٹی وی نیوز نمائندہ کی حیثیت سے کی تھی بعد ازاں وہ 2010 ء میں رائٹرس سے منسلک ہوگئے تھے۔