پاکستانی صحافی نے لائیو کوریج کے دوران سمندر میں کود کر رپورٹنگ کی، ہندی چینل کا طوفان پر پیش کیا گیا ویڈیو بھی مزاح کا موضوع بن گیا

پاکستانی صحافی نے لائیو کوریج کے دوران سمندر میں کود کر رپورٹنگ کی
ہندی نیوز چینل کا طوفان پر پیش کیا گیا ویڈیو بھی مزاح کا موضوع بن گیا

حیدرآباد : 17/جون
(سحر نیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

موجودہ دور میں میڈیا کے متعلق جتنا کم لکھا اور بولا جائے اس مقدس پیشہ کے ساتھ انصاف اور اس کی ساکھ برقرار رکھنے کے مترادف ہوگا۔کیونکہ آج ہر چوتھے فرد میں سے ایک سینئر جرنلسٹ بن بیٹھا ہے۔ان میں زیادہ تر تو نہ جرنلزم کی سند رکھتے ہیں، نہ تجربہ اور نہ ہی صحافت کے بنیادی اصول و قواعد سے واقف ہوتے ہیں۔!صرف گاڑیوں پر PRESS# لکھوالینا اور گلے میں شناختی کارڈ لٹکالینے کو ہی ایسے غیر تربیت یافتہ افراد نے صحافت مان لیا ہے۔!!
ان موجودہ حالات پر راحت اندوری کا ایک شعر صادق آتا ہے کہ ؎

ہم سے پوچھو کہ غزل مانگتی کتنا لہو
سب سمجھتے ہیں یہ دھندا بڑے آرام کا ہے

گذشتہ چند سال سے صحافت کا معیار لگاتار گرتا جا رہا ہے۔صحافت کی اہم ذمہ داریوں میں یہ نکتہ اول ہوتا ہے کہ وہ عوام اور حکومتوں کے درمیان ایک پُل Bridge# کا کام کرے۔عوامی مسائل و مشکلات کو اپنے اخبارات اور نیوز چینلوں کے ذریعہ ارباب اقتدار تک پہنچائے تاکہ یہ مسائل حل ہوں۔لیکن افسوس کہ اب صحافت کے معنی و مفہوم دونوں بدل کر رکھ دئیے گئے ہیں۔!! یہ کہانی پھر سہی !!

گذشتہ ایک ہفتہ سےسمندری طوفان بپر جوائے تباہی مچائے ہوئے ہے۔پاکستان سےہوتے ہوئے یہ طوفان جمعرات کی شام گجرات کے ساحل سے ٹکرا گیا۔جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے تاہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے قبل ازیں احتیاطی اقدامات کے باعث جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر اس طوفان کے کوریج سے متعلق ویڈیوز وائرل ہوگئے ہیں اور ان کا انداز صحافت مزاح کا موضوع بن گیا ہے۔خود کئی سینئر اور آزاد صحافی ان کے اس انداز کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھارہے ہیں کہ محض ٹی آر پی کے لیے ایسی اوچھی حرکتیں کی جارہی ہیں جو کہ پیشہ صحافت کے خلاف ہے۔

ان میں ہندوستانی نیوز چینل بھی شامل ہیں اور ایک پاکستانی بھی جہاں طوفان کا لائیو کوریج کرنے کےدوران صحافی سمندر کی گہرائی ناپنے کے لیے خود مائیک کے ساتھ سمندر میں کود پڑتا ہے۔

اس عجیب و غریب حرکت پر مبنی ایک ویڈیو پاکستانی خاتون صحافی محترمہ نائیلہ عنایت Naila Inayat@نے ٹوئٹ کرتے ہوئےلکھاہے کہ”موسم کی رپورٹنگ میں ماسٹر کلاس۔”

اس ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ عبدالرحمن خان نامی یہ صحافی طوفان سے متعلق لائیو کوریج دے رہے ہیں۔ساتھ ہی وہ یہ بتانے کی کوشش کرتے ہوئے کہ سمندر کے پانی کی گہرائی کتنی ہے خود مائیک کے ساتھ اچانک سمندر میں چھلانگ لگا دیتے ہیں اور تیرتے ہوئے پانی میں ایک دو ڈبکیاں بھی لگالیتے ہیں۔اس دوران اپنا کوریج جاری بھی رکھتے ہیں۔پانی کی گہرائی بتانے کے بعد اپنا کوریج کیمرہ مین تیمور خان کے ساتھ اپنا لائیو کوریج ختم کر دیتا ہے. وہیں یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ یہ کونسا چینل ہے یا پھر تفریح کی غرض سے یہ ویڈیو بنایا گیا ہے۔؟

دوسری جانب تین دن سے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ایک ہندی اور ایک انگریزی نیوز چینل کے ویڈیوز بھی مزاح کاباعث بنےہوئے ہیں۔جس میں دیکھا جاسکتاہے کہ ایک نیوز اینکر چھتری لے بتا رہی ہےکہ وہ گجرات کےسمندر کےقریب سے کوریج کررہی ہیں جہاں شدیدطوفانی ہواؤں سے عوام پریشان ہیں اور خود بھی چھتری کے ساتھ ہواؤں کے زور سے ادھر ادھر ہو رہی ہیں کہ جیسے واقعی وہ طوفان کے مقام سے کوریج کر رہی ہیں۔

جبکہ اصل میں وہ اسٹوڈیو میں کھڑی ہیں اور بیاک گراونڈ میں سمندری طوفان بپر جوائے کہہ کر جو ویڈیو چلائی جارہی ہے وہ فلوریڈا میں 2020 میں آئے ہوئے طوفان کا ویڈیو ہے۔وہیں ایک انگریزی چینل نے گرافکس کے ذریعہ اپنی ایک نیوز اینکر کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا دیا جو کہہ رہی ہیں کہ وہ اس وقت سمندر کے اوپر ہیں۔!!

https://www.facebook.com/khanyahiya276/videos/100254996450162

اس طرح کے تماشے کا جہاں سوشل میڈیا صارفین نے لطف لیا۔وہیں کئی افراد نےتنقیدبھی کہ عوام اور حکومتی مشنری طوفان کی تباہی سے پریشان اور بے گھرہوگئے ہیں ایسے میں یہ کیسی صحافت ہے جو اسٹوڈیو میں بیٹھ کر کوریج کے نام پر صحافت کو مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔؟

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ چند سال قبل ایک پاکستانی صحافی چاند نواب کا ہی لائیو کوریج کا ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوا تھا۔جوکہ انجانے میں مزاح کا موضوع بن گیاتھا جسے پسند بھی کیا گیا تھا۔بعد میں سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان میں اس صحافی کا رول نواز الدین صدیقی نے ادا کیا تھا۔⬇️ ⬇️ ⬇️ ⬇️

 

طوفان پر ہندی نیوز چینل کے اس کوریج پر نامور صحافی نوین کمار کا ویڈیو "