فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جیسی صورتحال! غزہ میں اسرائیل کی بمباری، 200 فلسطینی جاں بحق، حماس کا راکٹ حملہ 100 اسرائیلی ہلاک

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ جیسی صورتحال!!
اسرائیل پر حماس نے پانچ ہزار راکٹ داغے، 100 امواتیں
غزہ میں اسرائیل کی بمباری، 200 فلسطینی جاں بحق
ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم نریندر مودی

نئی دہلی : 07۔اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

فلسطین کی غزہ پٹی کی تنظیم حماس نے آج ہفتہ کی صبح اسرائیل کےشہروں پر اچانک راکٹ حملےکیے۔بین الاقوامی میڈیا ادارہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آج ہفتہ کی صبح 8 بجے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب،سڈروٹ اوراشکیلون سمیت 7 شہروں پر حماس کی جانب سے اسرائیل کی رہائشی عمارتوں پر اچانک 7000 راکٹ داغے گئے (ایک اور اطلاع میں 5,000 راکٹ بتائے گئے ہیں۔جبکہ اسرائیلی حکام نے 2200 راکٹ بتائے ہیں)۔

ابتدائی اطلاعات میں ان راکٹ حملوں سےپانچ اسرائیلیوں کی ہلاکت کا انکشاف کیا گیا تھا تاہم بی بی سی کی رپورٹ میں حماس کی جانب سے راکٹ داغے جانے اور زمینی حملوں میں 100 ہلاکتوں کا انکشاف کیا گیا ہے اور 700 سے زائد اسرائیلی زخمی بتائے گئے ہیں۔

وہیں بی بی سی نے فلسطینی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں میں 200 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوگئے ہیں اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی دفاعی فورسز نے تصدیق کی ہےکہ حملوں کے بعد فلسطینی عسکریت پسندوں نے کئی اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ تاہم ان کی تعداد کے بارے میں ابھی تصدیق نہیں کی گئی۔

بی بی سی کی رپورٹ کےمطابق اسرائیل کی فوج کا کہناہےکہ اس نے راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ میں حماس کے اہداف پر جوابی فضائی حملے کیے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ”ہم حالت جنگ میں ہیں۔”اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے کہا ہے کہ حماس نے ” ایک سنگین غلطی ” کی ہے اور ” اسرائیل کی ریاست یہ جنگ جیت جائے گی۔”

حماس کی جانب سے اسرائیل پر اس حملے کو اسرائیلی انٹلی جنس ایجنسی کی ناکامی بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ درجنوں مسلح فلسطینی اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان سخت حفاظتی حصار والی سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔جبکہ اسی دوران غزہ سے اسرائیل پر مبینہ طور پر ہزاروں راکٹ داغے گئے۔

بی بی سی کی رپورٹ کےمطابق شین بیت،اسرائیلی انٹیلیجنس موساد،اس کی بیرونی خفیہ ایجنسی اور اسرائیلی دفاعی افواج حتیٰ کہ کوئی بھی حماس کی جانب سے داغے جانے والے ان میزائلوں اور حملے کے متعلق جاننے میں ناکام رہے۔یہ امر انتہائی حیران کُن قرار دیا جا رہا ہے۔!!

بین الاقوامی میڈیا اطلاعات کے مطابق حماس کےحملوں کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں 17 ملٹری کمپاؤنڈز اور 4 ملٹری ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس میں اب تک 200سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 1600 سے زائد زخمی ہیں۔الجزیرہ کے مطابق 1000 سے زائد فلسطینی اسرائیل میں داخل ہو چکے ہیں۔اور اسرائیل پر یہ حملہ 1948 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

اسی درمیان حماس نے دعویٰ کیاہےکہ اس نے کئی اسرائیلیوں کےساتھ اسرائیلی جنرل نمرود علونی کو بھی یرغمال بنایا ہے۔ یرغمالیوں کی تعداد اتنی ہے کہ ان کے بدلے وہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کو رہا کروا سکتے ہیں۔انہیں بچانے کے لیے اسرائیلی فورسز نے اوفاکیم کے علاقے میں ایک گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہاں وہ حماس کے جنگجوؤں سے بات کر رہے ہیں۔

حماس نے اسرائیل کے خلاف کیے گئے اس حملہ کو” آپریشن الاقصیٰ سیلاب” کا نام دیا ہے۔وہیں اسرائیلی فوج نے حماس کے خلاف”فولاد کی تلواریں آپریشن ” شروع کر دیا ہے۔یروشلم پوسٹ کےمطابق حماس کے جنگجوؤں نے کئی اسرائیلی قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔حماس کے فوجی کمانڈر محمد دیف نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے یروشلم میں مسجد الاقصی کی بے حرمتی کابدلہ ہے۔فوج حماس کے ٹھکانوں پر حملے کر رہی ہے۔دراصل اسرائیلی پولیس نے اپریل 2023 میں مسجد اقصیٰ پر گرینیڈ پھینکا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی عرب،قطر اور ایران نے حماس کے ان حملوں کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ وہیں امریکہ اور یوروپی ممالک کے رہنماؤں نے فوری طور پر اسرائیل پر حماس کے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کی حمایت کی۔جبکہ مشرق وسطیٰ کے تین ممالک نے فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل اور اسرائیلی برتاؤ پر تنقید کی۔ایران میں حماس کی تائید میں مظاہرے کیے گئے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا اطلاعات کے مطابق حماس نے اسرائیل کے سات بارڈر پر قبضہ کرلیاہے اور بمباری میں مصروف اسرائیل کے دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرانے اور ٹینکوں پر قبضہ کرلینے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔(تاہم مستند میڈیا اداروں کی جانب سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے)

وزیر اعظم ہندنریندر مودی نے اسرائیل پر حماس کے حملے میں اموات پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔اپنے ٹوئٹ میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگی حالات کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اسرائیل میں حملوں کی خبر سے ہمیں گہرا صدمہ پہنچا ہے،ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بےقصور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ہم اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا بالخصوص ایکس X (سابقہ ٹوئٹر) پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان راکٹ حملوں اور بمباری کے متعدد ویڈیوز زیر گشت ہیں۔صارفین دو حصوں میں تقسیم ہوکر فلسطین اور اسرائیل کی تائید میں ہیش ٹیگ ٹرینڈنگ میں مصروف ہیں۔زعفرانی تنظیموں سے وابستہ سوشل میڈیا صارفین اسرائیل کی تائید میں مصروف ہیں۔تو کوئی فلسطین اور اسرائیل کے اصل قضیہ کو بیان کر رہا ہے۔

ایسے میں حماس کےجنگجوؤں کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی خاتون کو اپنے قبضہ میں لیا ہے جس کے ساتھ دو معصوم بچے بھی ہیں اور خوفزدہ خاتون اور بچے رو رہے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ فلسطینی نیوز ایجنسی کی جانب سے یہ ویڈیو جاری کیا گیا ہے۔

ایکس (ٹوئٹر) پر اس ویڈیو کےمتعلق کئی ترجمہ نگاروں نے انگریزی اور ہندی میں ترجمہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حماس کے جنگجو آپس میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی ان کو نقصان نہیں پہنچائے گا! انہیں ڈھک دو،اس کے بچے بھی ہیں! ہم اسرائیلیوں کی طرح نہیں ہیں، ہم خواتین کی عزت کرتے ہیں۔

 

 

https://twitter.com/iamUmairfarooq/status/1710710413493432573

 

 

https://twitter.com/UKubaidkhano/status/1710714206729781640

https://twitter.com/Shirinkhan0/status/1710716800311214472