اکبرالدین اویسی عدالت سے باعزت بری

اکبرالدین اویسی عدالت سے باعزت بری

حیدرآباد:13۔اپریل(سحرنیوز ڈاٹ کام)

کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے قائد مقننہ و رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبرالدین اویسی جنہیں دو نفرت انگیز تقاریر کرنے کے الزامات کا سامنا تھا آج ارکان پارلیمان و ارکان اسمبلی کی خصوصی عدالت سے باعزت بری کردئیے گئے۔

9 سال چار ماہ قدیم اس کیس کی مسلسل سماعت کے بعد آج اس پر اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے نام پلی حیدرآباد کی خصوصی عدالت نے ان دونوں کیسوں کو خارج کرتے ہوئے قائد مقننہ و رکن اسمبلی چارمینار اکبرالدین اویسی کو باعزت بری کردیا ہے۔

معزز جج نے اکبرالدین اویسی کے خلاف زیر دؤراں دو مقدمات کو خارج کرتے ہوئے ساتھ ہی کل ہندمجلس اتحادالمسلمین کے قائدمقننہ و رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبرالدین اویسی کوپابند کیا کہ وہ آئندہ کسی کو مشتعل کرنے والی تقاریر سے گریز کریں اور معزز جج نے کہا کہ اشتعال انگیز تقاریر ملک کے مفاد میں نہیں ہوتیں۔

ساتھ ہی نام پلی عدالت کے معزز جج نے ریمارک کیا کہ عدالت کی جانب سے اس باعزت برات کو جیت نہ مانا جائے اور اور انتباہ دیا کہ ” جشن یا ریالی” منعقد کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 22 ڈسمبر 2012 کو ریاست تلنگانہ کے نرمل میں منعقدہ ایک جلسہ سے اکبرالدین اویسی کی تقریر کے بعد ملک بھر میں واویلا مچایا گیاتھا۔نیشنل میڈیا،علاقائی میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا پر کئی ہفتوں تک نرمل کی ان کی اس تقریر کے ویڈیوز کو چلاتے ہوئے اس تقریر کو ملک مخالف،اور اشتعال انگیز قرار دیا گیا تھا۔

آج بھی جب کبھی رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی کے بڑے بھائی،صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی کسی نیوز چینل کے مباحثہ میں حصہ لیتے ہیں تو میڈیا اینکرز اور بی جے پی کے ترجمان انہیں اپنے چھوٹے بھائی کی اس تقریر کا حوالہ دے کرخاموش کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔جس پر صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی ہمیشہ سے کہتے آرہے ہیں کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر دؤراں ہے اور انہیں عدالتوں پر پورا بھروسہ ہے۔اس پر کچھ بھی کہنا ٹھیک نہیں ہے اور اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

خصوصی عدالت کی جانب سے آج 13 اپریل کو اپنے چھوٹے بھائی و قائد مقننہ تلنگانہ اکبر الدین اویسی کو باعزت بری کیے جانے کے فوری بعد صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”

الحمدللہ اکبر الدین اویسی کو ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے ان کےخلاف مبینہ نفرت انگیز تقاریرکے الزام میں دو فوجداری مقدمات میں بری کر دیا ہے۔دعاؤں اور تعاون کے لیے سب کا مشکور ہوں۔ایڈوکیٹ عبدالعظیم صاحب اور سینئر وکلاء کا خصوصی شکریہ جنہوں نے اپنا قیمتی تعاون فراہم کیا۔

بالآخر آج نام پلی عدالت کی جانب سے اکبر الدین اویسی کو باعزت بری کیے جانے کے بعد جہاں خود اکبرالدین اویسی کو راحت نصیب ہوئی ہے وہیں ان کے بڑے بھائی و صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بھی سکون کی سانس لی ہے۔جبکہ مجلس اتحادالمسلمین کے دیگر ارکان اسمبلی،ارکان قانون ساز کونسل،کارپوریٹرس،پارٹی کارکنوں اورمحبان مجلس میں بھی خوشی کی لہر دؤڑ گئی ہے۔

22 ڈسمبر 2012 کو ریاست تلنگانہ کے نرمل میں کی گئی تقریر کے بعد پولیس نے سوموٹو کے تحت مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 120بی،153اے،295,298 اور 188کے تحت کیس درج رجسٹر کیا تھا۔اوراس کیس میں اکبرالدین اویسی کو گرفتار بھی کیا تھا جنہوں نے 40 دن جیل میں گزارے تھے۔وہیں عادل آباد ضلع میں اپنی تقریر میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کے الزام کا بھی ایک کیس اکبرالدین اویسی کے خلاف زیر دؤراں تھا۔ان دونوں مقدمات میں آج خصوصی عدالت نے انہیں باعزت بری کردیا ہے۔

خصوصی عدالت کے اس فیصلہ کے بعد حیدرآباد کے پرانے شہر میں پولیس بندوبست کیا گیا ہے اور پولیس نے کہا ہے کہ عدالت کے احکام کے بعد کسی کو بھی جشن منانے یا ریالیوں کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی۔