صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی اور آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی بناوٹی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی
بناوٹی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل،واٹس ایپ صارفین ہوشیار!!

حیدرآباد: 13۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)

ملک کی پانچ ریاستوں میں حالیہ منعقدہ اسمبلی انتخابات کے نتائج 10 مارچ کو آچکے ہیں۔اترپردیش،گوا، منی پور اور اترا کھنڈ میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے۔جبکہ ریاست پنجاب جہاں کانگریس کی حکومت تھی وہاں عام آدمی پارٹی نے 117 اسمبلی نشستوں میں سے 92 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کردیا۔

جب سے انتخابی نتائج آئے ہیں اس وقت سے قوم کے حقیقی اور سوشل میڈیا کے نام نہاد قائدین،مفکران ملت،دانشوران اور دیگر کا مرکزی موضوع اتر پردیش کے نتائج بنا ہوا ہے۔

اس مسئلہ پر سب اپنی اپنی سوچ و فکر کے ساتھ پوسٹس اور کمنٹس کرتے ہوئے ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے میں مصروف ہیں۔نتائج آکر تین دن ہوچکے ہیں۔لیکن قوم کے چند خودساختہ پالیسی میکرز،دانشور اورمفکران اپنے اپنے حساب سے تجزئیے کرتے ہوئے،مختلف ذرائع سے اعداد و شمار لا لاکر اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ اترپردیش میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین اپنے 100 امیدوار کھڑا نہ کرتی تو بی جے پی کی شکست یقینی تھی؟؟۔

دوسری جانب ایک اور طبقہ دلائل دے رہا ہے کہ اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی اور کمزور کانگریس کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ پہنچا ہے!!بہرحال قوم ہمیشہ کی طرح سوشل میڈیا کو اپنی بحث، الزامات اور تُو تُو میں،میں  کااکھاڑہ بنائے ہوئے ہے۔جس سے سوائے قوم کو نقصان پہنچنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوسکتا!!

اس”سیاسی ناپ تول” کے درمیان سوشل میڈیا بالخصوص "واٹس ایپ” پر انتخابی نتائج کے اعلان کے فوری بعد سے ایک تصویر وائرل کردی گئی ہے۔جس میں دکھایا گیا ہے کہ صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) موہن بھاگوت کے ساتھ ایک صوفہ پر براجمان ہیں!!

یہ تصویرمکمل طور پر صد فیصد غلط اور Photoshop کے ذریعہ تیار کی ہوئی ہے۔کیونکہ اصل تصویر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور سابق چیف منسٹر اترپردیش و سماج وادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کی ملاقات کے وقت کی ہے۔جسے Morphed کیا گیا ہے۔

اس Morphed فوٹو کو چند دنوں قبل بھی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل کیا جاچکا ہے۔لیکن اب پانچ ریاستوں بالخصوص اترپردیش کے نتائج کے بعد سے اس تصویر کو دوبارہ وائرل کردیا گیا ہے۔

https://twitter.com/Shinde_Voice/status/1473124445950656516

21 ڈسمبر 2021ء کو یہ تصویر ٹوئٹر کے علاوہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میڈیا کی سرخیوں میں رہی تھی۔

” دی ٹریبیون” میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق”ایک تصویر نے موسم سرما میں سیاسی سردی کو بڑھا دیا ہے۔اور اتر پردیش میں سیاسی منظر نامہ کو تقریباً قابو سے باہر کر دیا ہے۔زیر بحث تصویر سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کی آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ ہے،جس نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ملائم سنگھ یادو اور موہن بھاگوت نے پیر کو دہلی میں نائب صدرجمہوریہ ہند وینکیا نائیڈو کی پوتی کی شادی کے استقبالیہ میں ملاقات کی۔مرکزی وزیر ارجن میگھوال کی جانب سے ٹوئٹ کی گئی تصویر میں سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا گیا ہے۔

اصل تصویر جس سے چھیڑچھاڑ کرکے وائرل کی گئی ہے۔

 

” دی ٹریبیون انگریزی کی رپورٹ اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے” :

https://www.tribuneindia.com/news/nation/photo-of-mohan-bhagwat-mulayam-singh-yadav-goes-viral-kicks-up-storm-352961

اُس وقت اس تصویر کے وائرل ہونے کے چند گھنٹوں بعد اترپردیش کانگریس نے سماج وادی پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے ہندی میں کیے گئے ایک ٹوئٹ میں سوال کیا تھا کہ” کیا نئے ‘ ایس پی ‘ (سماج وادی پارٹی) میں ‘ایس’ کا مطلب سنگھ واد ہے؟”۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان دنوں جس چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر کو سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ کے ذریعہ پھیلایا جارہاہے وہ مکمل طور پر Morphed اور جھوٹی تصویر ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس فوٹو کو شیئر یا فارورڈ کرنے والوں کے خلاف مجلس اتحادالمسلمین کے چند قائدین کی جانب سے باقاعدہ پولیس میں شکایات درج کروائی جارہی ہیں اور اس سلسلہ میں گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں!؟۔