تلنگانہ: کاماریڈی میں منکی پاکس کے مشتبہ شخص کے نمونے پونہ بھیجے جائیں گے
کویت سے واپس مشتبہ شخص حیدرآباد کے فیور ہسپتال منتقل
قابل علاج منکی پاکس جان لیوا مرض نہیں،عوام خوفزدہ نہ ہوں
ڈائرکٹر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کا بیان،کیرالا میں تین اور دہلی میں ایک شخص متاثر
حیدرآباد:24۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)
دنیا کو کوویڈ وبا کے اختتامی دؤر کے ساتھ ہی منکی پاکس کی بڑھتی تعداد نے پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔مختلف ممالک کے علاوہ ہندوستان میں بھی منکی پاکس کے کیس ریکارڈ ہورہے ہیں۔اب تک ہندوستان میں چارمنکی پاکس کےکیس منظرعام پر آئے ہیں۔جس کے بعد مرکزی حکومت چوکس ہوگئی ہے۔
آج اتوار کو ڈائرکٹر جنرل آف ہیلتھ سرویس کی زیرصدارت مرکزی محکمہ صحت کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔دہلی میں ایک31سالہ شخص منکی پاکس سے متاثر ہوا ہے۔متاثرہ شخص بخار اور جلد پر ابھاروں کی شکایت کے ساتھ ہسپتال سے رجوع ہوا تھا جس کا فی الوقت دہلی کے لوک نائیک ہسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔عہدیداروں کےمطابق اس متاثرہ شخص کاایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ اس نےکسی بیرون ملک کا سفر کیا تھا۔تاہم وہ چند دن قبل ہماچل پردیش کے منالی میں منعقدہ ایک اسٹیج پارٹی میں شرکت کے بعد دہلی واپس ہوا تھا۔
جبکہ تشویشناک طور پر کیرالا میں منکی پاکس کے تین کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔کیرالا میں 14جولائی کو منکی پاکس کا پہلا کیس درج ہوا تھا۔اس کے بعد دبئی سے کنور پہنچنے والا ایک 31سالہ شخص تشخیص کے بعد 18 جولائی کو وہ منکی پاکس سے متاثر پایا گیاتھا۔اسی طرح 22 جولائی کوکیرالا میں منکی پاکس کا تیسرا کیس درج ہوا ہے۔
اسی دؤران آج اتوار کوریاست تلنگانہ کے ضلع کاماریڈی میں منکی پاکس کی علامتوں کے ایک مشتبہ شخص کی اطلاع کے فوری بعد جہاں ریاستی حکومت اور محکمہ صحت چوکس ہوگیا ہے وہیں عوام میں بھی سنسنی پیدا گئی ہے۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی تلنگانہ جی۔سرینواس راؤ نے اس سلسلہ میں جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ کاماریڈی کے اندرا کالونی کے ساکن ایک 40 سالہ شخص میں مشتبہ طور پر منکی پاکس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد اس شخص کو حیدرآباد کے فیورہسپتال منتقل کیا گیا۔ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ تلنگانہ کے مطابق یہ شخص 6 جولائی کو کویت سے ہندوستان واپس ہوا تھا۔20جولائی کو وہ بخار سے متاثر ہوا بعد ازاں 23جولائی کو جلد پر چھوٹے چھوٹے دھبے نمودارہوئے۔جس کے بعد وہ شخص 24 جولائی کی صبح کاماریڈی کے ایک خانگی ہسپتال سے رجوع ہوا۔جہاں ڈاکٹرز نے منکی پاکس کی علامتوں کو محسوس کرتے ہوئے اس شخص کو کاماریڈی کے سرکاری ضلع ہسپتال روانہ کیا۔جہاں سے ایمبولنس کے ذریعہ اس شخص کو حیدرآباد کے فیور ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا ہے کہ فیورہسپتال میں اس شخص کے نمونے حاصل کرکے انہیں جانچ کے لیے مہاراشٹرا کے پونہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف وائرالوجی لیاب کو روانہ کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پونہ سے رپورٹ آنے تک اس شخص کو حیدرآباد کے فیور ہسپتال میں ہی آئسولیشن میں رکھ کر اسے طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے کہا ہے کہ اس مشتبہ مریض کے رابطہ میں آنے والے 6 افراد کی شناخت کی گئی ہےتاہم ان میں ایسی کوئی علامات نہیں پائی گئی ہیں تاہم احتیاطی طور پر انہیں آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور وقفہ وقفہ سے ان کی جانب سے دی جانے والی ہدایت پر عمل کیا جارہا ہے۔
ڈائرکٹر محکمہ ہیلتھ و فیملی تلنگانہ ڈاکٹر جی۔سرینواس راؤ نے ریاست کے عوام کومشورہ دیا ہے کہ وہ ہرگز منکی پاکس سے خوفزدہ نہ ہوں۔یہ قابل علاج مرض جان لیوا نہیں ہے۔
مختلف ممالک میں منکی پاکس کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او) کےسربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے کل ہفتہ کو کہاہے کہ منکی پاکس کا 70 سے زائد ملکوں میں پھیل جانا ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔لہٰذا اب اس بیماری کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا جانا ناگزیر ہوگیا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کل 23 جولائی کو اس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے انکشاف کیاہے کہ دنیا کے 75 ممالک میں منکی پاکس کے 16،000 سے زائد کیس درج ہوئے ہیں۔جبکہ ایک ماہ قبل 47 ممالک میں منکی پاکس کے 3،040 کیس سامنے آئے تھے۔اس کی وبا پانچ ممالک میں سب سے زیادہ پھیل چکی ہے۔اسپین میں سب سے زیادہ 3،125 افراد اس کی گرفت میں ہیں۔اس کے بعد امریکہ میں 2،891،جرمنی میں 2،268،برطانیہ میں 2،208 اور فرانس میں 1،567 کیس درج کیے گئے ہیں۔
سنٹرفار ڈیزیس کنٹرول اینڈ پروینشن Centers for Disease Control and Prevention(سی ڈی سی)کےمطابق نیدرلینڈ میں 712،کینیڈا میں681، برازیل میں 592،پرتگال میں588،اٹلی میں407،بیلجیم میں311،سوئٹزرلینڈ میں 216، پیرو میں143،جمہوریہ کانگو میں107،اسرائیل میں105 اور نائیجیریا 101 منکی پاکس کے کیس درج ہوئے ہیں۔
منکی پاکس کی علامات:
منکی پاکس وائرس کا انکیوبیشن کا وقفہ 6 سے 13 دن کاہوتا ہے۔بعض اوقات یہ 21 دن تک بڑھ سکتا ہے۔انکیوبیشن وقفہ سے مراد ان دنوں کی تعداد ہے جو انفیکشن کے بعد علامات ظاہر ہونے میں لگتی ہیں۔
علامات: بخار،شدید سر درد،سوجن،کمر درد،پٹھوں میں درد اور تھکاوٹ جیسی علامات انفیکشن کے پانچ دنوں کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔منکی پاکس شروع میں چکن پاکس،خسرہ یا چیچک کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔
بخار کے تقریباً تین دن کے بعد جلد Skin پر اس کا اثر ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ہاتھوں،پیروں،ہتھیلیوں،پیروں کے تلوؤں اور چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوتے ہیں۔یہ دھبے زخموں کی طرح نظر آتے ہیں لیکن یہ خشک ہو کر خود ہی گر جاتے ہیں۔

