عادل آباد کی مقفل سی سی آئی سمنٹ فیکٹری کو دوبارہ کارکرد بنایا جائے
تمام درکار سہولتیں،ٹاؤن شپ اور معدنیاتی ذخائر موجود
ریاستی وزیر کے ٹی آر کا مرکزی حکومت کو مکتوب
حیدرآباد: 02۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاستی وزیرصنعت وتجارت،آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے۔تارک راماراؤ (کے ٹی آر) نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے عال آباد میں موجود سمنٹ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ (سی سی آئی) کی ملکیت سی سی آئی سمنٹ فیکٹری کو دوبارہ کارکرد بنایا جائے۔
انہوں نے مرکزی حکومت کو واقف کروایا کہ تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں موجود اس مقفل سمنٹ فیکٹری کے دوبارہ آغاز کے لیے درکار تمام اہم اور ضروری سہولتیں دستیاب ہیں۔
ریاستی وزیر کے ٹی آر نے مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن اور مرکزی وزیر صنعت مہندر ناتھ پانڈے کو روانہ کیے گئے اپنے مکتوبات میں مرکزی حکومت کو بتایا ہے کہ 772 ایکڑ وسیع و عریض اراضی پر قائم اس سمنٹ فیکٹری میں 170 ایکڑ اراضی پر سی سی آئی ٹاؤن شپ اور 1,500 ایکڑ معدنیاتی اراضی میں 48 ملین ٹن لائم اسٹون کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔
اپنے اس مکتوب میں ریاستی وزیرصنعت وتجارت،آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے۔تارک راماراؤ نے لکھا ہے اس سمنٹ فیکٹری کے دوبارہ آغاز کے لیے ریاستی حکومت تمامتر درکار تعاون کرے گی۔ریاستی وزیر نے کہا دو کے وی اے برقی سربراہی کے نظم کے ساتھ برقی کی پیداوار کے لیے بھی درکار پانی سی سی آئی کمپنی کے پاس موجود ہے۔
ریاستی وزیر کے ٹی آر نے مرکزی وزرا کو لکھے گئے اپنے ان مکتوبات میں کہا ہے کہ عادل آباد کی اس سمنٹ فیکٹری کے دوبارہ آغاز سے جہاں دور دراز اور پسماندہ ضلع عادل آباد کو مزید ترقی حاصل ہوگی وہیں اس سمنٹ فیکٹری میں تیار ہونے والی سمنٹ جہاں ریاست میں تعمیری کاموں میں استعمال ہوگی وہیں مہاراشٹرا سمیت دیگر ریاستوں کو بھی اس سمنٹ فیکٹری سے سمنٹ کی سربراہی آسان ہوگی۔
اپنے اس مکتوب میں ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا ہے کہ عادل آباد کی اس سی سی آئی سمنٹ فیکٹری کے دوبارہ آغاز سے اس ضلع میں زیادہ تعداد میں موجود گریجن اور آدیواسی طبقات کے ساتھ عادل آباد کے دیگر طبقات کے نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع حاصل ہوں گے۔
ریاستی وزیرصنعت وتجارت،آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے۔تارک راماراؤ نے اپنے مکتوب میں مرکزی حکومت کو لکھا ہے کہ حکومت تلنگانہ ریاست میں بڑے پیمانے پر روزگار اور ملازمتیں فراہم کرنے کی غرض سے وزیراعلیٰ کے سی آر کی قیادت میں "ٹی ایس آئی پاس” کا منفرد سسٹم شروع کیا گیا ہے اور حکومت کی کئی جدید پالیسیوں کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہورہی ہے اور ان کی کوششوں سے عادل آباد ضلع سمیت دیگر اضلاع میں بھی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔
اپنے مکتوب میں ریاستی وزیر کے ٹی آر نے انکشاف کیا کہ اسی عادل آباد ضلع میں موجود ” اورینٹ سمنٹ ” نے اپنے دیولا پور کے سمنٹ پلانٹ میں سمنٹ کی پیداوار بڑھانے کے لیے مزید 215 ملین ڈالر (15،00کروڑ روپئے) کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ریاستی وزیر نے لکھا ہے کہ تمام شعبہ جات میں ریاست تلنگانہ کی تیزرفتار کی ترقی اور تعمیراتئ کاموں میں اضافہ کے پیش نظر سمنٹ کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ کا مکمل امکان ہے۔
ریاستی وزیرصنعت و تجارت ،آئی ٹی و بلدی نظم نسق کے۔تارک راماراؤ نے لکھا ہے کہ ایک جانب خانگی کمپنیاں اپنی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے منافع حاصل کررہی ہیں اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کررہی ہیں تو دوسری جانب ریاستی حکومت کی جانب سے تمامتر سہولتوں کی فراہمی کے تیقن کے بعد بھی عادل آباد کی اس سی سی آئی سمنٹ فیکٹری کے دوبارہ عدم آغاز کو ضلع اور ریاست کے بیروزگار نوجوانوں کو دھوکہ دینا ہی مانا جائے گا۔
ریاستی وزیر نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکزی حکومت ان کی اس نمائندگی پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عادل آباد کی اس سی سی آئی سمنٹ فیکٹری کا دوبارہ آغاز کرے گی۔

