تلنگانہ میں آئندہ تعلیمی سال سے اول تا آٹھویں جماعت انگریزی ذریعہ تعلیم کا آغاز، 21 ہزار بھرتیوں کے لیے جلد ہی نوٹیفکیشن: وزیرتعلیم

آئندہ تعلیمی سال سے اول تا آٹھویں جماعت انگریزی ذریعہ تعلیم کا آغاز
21 ہزارمخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے جلد ہی نوٹیفکیشن
ٹیچرس کے لیے 14 مارچ سے تربیتی پروگرام کا آغاز
تلنگانہ اسمبلی میں وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی کا بیان

حیدرآباد: 12۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیرتعلیم تلنگانہ پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہاہے کہ ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں آئندہ تعلیمی سال 2022-2023 سے انگریزی ذریعہ تعلیم کا آغازعمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شعبہءتعلیم میں تبدیلیوں کےساتھ کے جی تا پی جی مفت اور کارپوریٹ سطح کی تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی آج ریاستی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ صفر کے دؤران حکومت کی جانب سے متعارف کردہ اسکیم”منا اُورو۔منابڈی” (ہماراگاؤں،ہمارا اسکول) کے متعلق چند ارکان اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دے رہی تھیں۔

وزیرتعلیم نے اسمبلی میں بتایا کہ 2023-2024 کے تعلیمی سال سے نویں جماعت سے اور تعلیمی سال 2024-2025 سے دسویں جماعت سے بھی انگریزی ذریعہ تعلیم رائج کیا جائے گا۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ جلد ہی محکمہ تعلیمات میں 21،000 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں قائم کیے گئے 973 گروکل پاٹھاشالا میں داخلوں کے لیے نمائندگیاں کی جارہی ہیں۔

ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں انگریزی ذریعہ تعلیم کے آغاز کے سلسلہ میں 14 مارچ سے ٹیچرس کے لیے تربیتی پروگرام کا آغاز عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ طلبہ کی سہولت کے لیے دو لسانی نصابی کتابیں تیار کی جارہی ہیں۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ 8 مارچ کو منا اُورو۔منا بڈی پروگرام کا باقاعدہ آغاز عمل میں لاچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے جاریہ اجلاس کے اختتام کے بعد تمام ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقہ جات میں اس پروگرام کا آغاز کریں۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے ریاستی اسمبلی مزید تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ”منا اُورو۔منابڈی”(ہماراگاؤں،ہمارا اسکول) اسکیم کو تین مرحلوں میں مکمل کرتے ہوئے ریاست کے 26،065 سرکاری اسکولوں کو کارپوریٹ طرز پر ترقی دی جائے گی۔انہوں بتایا کہ پہلے مرحلہ کے تحت 3،497.62 کروڑ کے تخمینی بجٹ سے اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے گی اور اس کے لیے 9،123 اسکولوں کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔

ساتھ ہی وزیرتعلیم نے کہا کہ اسکولوں کی ترقی کے لیے عطیہ دہندگان کا حکومت خیرمقدم کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک مری جناردھن ریڈی نے جس اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی اس کو اسکول کو اس پروگرام کے تحت اپنی جانب سے ساڑھے تین کروڑ روپئے کا عطیہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو لاکھ روپئے کا عطیہ دینے والوں کو اسکول کا رکن بنایا جائے گا اور دس لاکھ کا عطیہ دینے والوں کے نام سے اس اسکول کو منسوب کیا جائے گا۔

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی نے کہا کہ پرائمری اسکول کو 25 لاکھ روپئے،ہائی اسکول کو 50 لاکھ روپئے اور کالجوں کو ایک کروڑ روپئے کا عطیہ دینے والوں کے نام سے ان تعلیمی اداروں کو منسوب کرتے ہوئے ان اسکولوں کو عطیہ دہندگان کا نام دیا جائے گا۔انہوں نے کہا جلد ہی مِڈ ڈے میل(دوپہر کا کھانا) کے تمام بقایہ شدہ بلس ادا کیے جائیں گے۔