عاشق نے شادی کے منڈپ میں پہنچ کر دُلہن کی مانگ اور پیشانی کو سیندور سے بھردیا
ناکام عاشق کی ہوئی پٹائی،اترپردیش کے گورکھپور میں فلمی طرز کا واقعہ
شادی دوبارہ دُلہے سے کردی گئی، ناکام عاشق خالی ہاتھ لؤٹ گیا
گورکھپور: 07۔ڈسمبر (سحرنیوز ڈیسک)
بعض اؤقات عام زندگی میں کئی ایسے مناظر حقیقی طور پر اچانک سامنے آجاتے ہیں جو کہ فلموں میں ہی دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اور سینما کے پردہ پر ہی یہ ممکن نظر آتا ہے! جس پر شائقین تالیاں اور سیٹیاں بھی ٹھونک دیتے ہیں کہ ان کے ہیرو نے بالآخر اپنی ضد پوری کرلی یا پھر کسی طرح اپنی محبوبہ کو اپنا بناکر ہی دم لیا۔
ایک دؤر تھا کہ فلموں میں منفی کرداروں کو ناظرین کی جانب سے زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں ہیرو کے ہاتھوں پٹتے ہوئے دیکھ کر ناظرین خوش ہوا کرتے تھے اور ساتھ ہی خود بھی چلاتے تھے کہ ” مار اور مار "۔
دلیپ کمار کی آدمی اور دلیپ کمار،راج کپور کی انداز جیسی فلموں کے بعد 1993 میں یش راج فلمز کے بیانر تلے،یش چوپڑہ کی ہدایت کاری میں بنائی گئی فلم " ڈر Darr# ” میں شاہ رخ خان کے منفی کردار کو بہت واہ واہ ملی تھی۔جو اپنی شناخت چھپاکر اپنی یکطرفہ محبت کے جنون میں فلم کی ہیروئن جوہی چاؤلہ اور سنی ڈیول سے اپنے مراسم رکھتے ہوئے بھی انہیں فلم کے اختتام تک خوف و ہراسانی میں مبتلاء کرکے رکھ دیتا ہے۔اور فلم ڈر نے اس وقت کامیابی کے کئی ریکارڈ بھی توڑے۔
وہیں شاہ رخ خان کا یہ کردار ناظرین اور شائقین کی ساری ہمدردیاں بٹورنے میں کامیاب ہوا تھا۔شاید اسی فلم سے فلموں میں چند منفی کرداروں کو بھی شائقین فلم کی ہمدردی کے ساتھ شہرت ملنے لگی؟

فلم ڈر کو 1993ء میں بہترین فلم کا نیشنل ایوارڈ حاصل ہوا تھا۔جبکہ بیسٹ ویلن کے لیے شاہ رخ خان نامزد ہوئے تھے۔
یا پھر شاہ رخ خان کی ہی فلمیں دل والے دلہنیا لے جائیں گے جس میں شادی کے منڈپ سے دُلہن کاجول فلم کے ہیرو شاہ رخ خان کے ساتھ فرار ہوجاتی ہے یا پھر فلم دیوانہ، یا فلم انجام جس میں شاہ رخ خان یکطرفہ محبت کے ذریعہ ان فلموں کی ہیروئنوں دیویا بھارتی اور مادھوری ڈکشٹ کو تنگ اور مجبور کردیتے ہیں۔
لیکن جب حقیقی زندگی میں کوئی عاشق یہی کام کرتا ہے تو پھر انہی فلموں کے منفی کردار کی اداکاری پر سیٹیاں اور تالیاں مارنے والے شائقین و ناظرین اس عاشق کی جم کر دُھلائی کردیتے ہیں۔
اترپردیش میں ایک شادی کے منڈپ میں ایسے ہی ایک ناکام عاشق کی جم کر دھلائی کردی گئی جو کہ اپنی معشوقہ کی شادی کے منڈپ میں دُلہا اور دُلہن کے درمیان عین اس وقت اچانک پہنچ گیا جب یہ دونوں رسم و رواج کے مطابق ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنارہے تھے۔اور اس نے اپنے ساتھ لائے ہوئے سیندور سے دُلہن کی مانگ اور پیشانی کو بھردیا!!

یہ کسی فلم کے منظر کی عکاسی نہیں ہے بلکہ اترپردیش کے گورکھپورضلع میں پیش آنے والا ایک حقیقی واقعہ ہے۔یکم ڈسمبر کو اس اچانک پیش آنے والے فلمی طرز کے واقعہ کا ویڈیو بھی کسی نے لے لیا جو کہ اب سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوگیا ہے۔
تحقیقاتی صحافت میں اپنی خاص پہچان رکھنے والے صحافتی ادارہ ” کوبراپوسٹ” نے اپنے یوٹیوب چینل پر اس واقعہ کا مکمل ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔
گورکھپورضلع اورتحصیل کے تحت موجود موضع ہارپور،بڑھت میں پیش آئے اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق موضع میں ایک لڑکی کی شادی کی تقریب جاری تھی جس میں دونوں طرف کے رشتہ دار اور دعوتی شریک تھے۔
شادی کی اس تقریب میں دُلہا اور دُلہن ایک دوسرے کو پھولوں کے ہار پہنا رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان جس نے اپنے چہرہ کو کپڑے سے چھپا رکھا تھا اسٹیج پر دُلہا اور دُلہن کے درمیان پہنچ گیا۔
اور اس نے آناً فاناً دُلہن کے چہرے پر بندیا لگانے کی کوشش کی تاہم سٹپٹائی ہوئی دلہن نے فوری گھونگھٹ سے اپنے چہرہ کو چھپالینے کی کوشش کی۔لیکن اس نوجوان نے اپنے ساتھ لائے ہوئے سیندور کی بڑی مقدار کو دلہن کی مانگ،پیشانی اور چہرہ پر انڈیل دیا۔

مختلف میڈیا کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوجوان دُلہن کا سابقہ عاشق ہے۔جو کہ چند ماہ قبل موضع ہارپور،بڑھت سے ملازمت کی غرض سے کسی شہر منتقل ہوا تھا۔اور لڑکی کے والدین نے اپنی لڑکی کی شادی کسی اور لڑکے سے یکم ڈسمبر کو طئے کردی۔
جب اس عاشق کو معلوم ہوا کہ اس کی معشوقہ کی شادی کسی اور سے ہورہی ہے تو وہ فلمی انداز میں اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے کے لیے عین شادی کے منڈپ میں پہنچ کر یہ سب کر گزر گیا۔
” اترپردیش کے گورکھپور ضلع کے موضع ہار پور میں پیش آئے اس واقعہ کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے "
https://www.youtube.com/watch?v=xXXFZ7NheXc&t=51s
اس واقعہ کے اچانک پیش آنے سے شادی کی تقریب میں موجود لوگوں میں حیرت کی لہر دؤڑ گئی۔اسی دؤران اس ناکام و نامراد عاشق کو دُلہن کے رشتہ داروں نے اسٹیج سے نیچے ڈھکیل دیا اور اس کی جم کر پٹائی کرتے ہوئے پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔
بات یہاں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ اس واقعہ کے دوسرے دن صبح عاشق کی منت و سماجت کے باؤجود دُلہن کے والدین اور رشتہ داروں نے دُلہن کوسمجھاکر دوبارہ اسی لڑکے (دُلہے) کے ساتھ اس کی شادی کردی۔
بعدازاں کافی تگ ودُد کے بعد عاشق کو لڑکی (دُلہن)،اس کے والدین اور موضع کی عزت کا واسطہ دیتے ہوئے اسے شادی کے گھر سے چلے جانے کے لیے کہا گیا۔جس کے بعد وہ اپنی محبوبہ کے مکان سے روانہ ہو گیا۔
اس ناکام اور نامراد عاشق کے ذہن میں اپنے محبوبہ کے مکان میں سجے ہوئے شادی کے منڈپ سے نکلتے وقت شاید کشور کمار کے گائے ہوئے اس نغمہ کے انہی سوالات کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا کہ " تُو اؤروں کی کیوں ہوگئی؟؟
یا پھر راحت فتح علی خان کا پاکستان کے مشہور ٹی وی سیرئیل "میرے پاس تم ہو” کے لیے گایا ہوا اور” ضمیر انجم” کا لکھا ہوا یہ خوبصورت، درد بھرا اور مشہور نغمہ” فقط میرے دل سے اتر جائیے گا،بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا "!! اس کو تسلی دے رہا تھا!!
جسے یوٹیوب پر اب تک خود راحت فتح خان کے یوٹیوب چینل اور میرے پاس تم ہو کے یوٹیوب چینل پر دو ملین سے زائد شائقین نے اس نغمہ کو سنا ہے اور لاکھوں نے کمنٹ بھی کیے ہیں۔جن میں دل جلے عاشقوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے!!
https://www.youtube.com/watch?v=_l2KxhRuiGQ
