بحرین میں برقعہ پوش خاتون کو داخلے سے روکنے والی ہندوستانی ریسٹورنٹ بند کروادی گئی

بحرین میں برقعہ پوش خاتون کو داخلے سے روکنے والی
ہندوستانی ریسٹورنٹ بند کروادی گئی
کرناٹک کا متوطن مینجئر خدمات سے معطل

بحرین/منامہ: 27۔مارچ۔(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

ہندوستانی کی ریاست کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کےحجاب پہننے پر حکومت کرناٹک کی جانب سے 5 فروری سے عائد پابندی،پھر اس پر کرناٹک ہائی کورٹ کی مہر اس کے بعد طالبات کا سپریم کورٹ سے رجوع ہونے والے معاملہ کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی ہے کہ اسلامی ملک بحرین سے ایک ایسی خبر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی و قومی میڈیا پر زیر گشت ہے کہ بحرین کے ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ میں ایک برقعہ پوش خاتون کو داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی ایک ریاست میں جاری حجاب مخالف مہم اور ساتھ ہی منظم طریقہ سے مسلمانوں کے خلاف روز زہر افشانی،سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مذہب اسلام اورمسلمانوں کی اہانت پرمشتمل تاریخ کو توڑ مروڑ کر وائرل کیے جانے والے ویڈیوز اور تصاویر سے مذہبی منافرت کا زہر کتنی اندر تک سرائیت کرچکا ہے؟

اس کا اثر ان کم ذہن افراد پر بھی ہورہا ہے جو ذریعہ معاش کے لیے اپنا ملک اور اپنا گھربار چھوڑکر دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ایسے کم ذہن لوگ اور ایسوں کی تائید کرنے والے یا انہیں اکسانے بیوقوف یہ نہیں سوچتے کہ اسلامی ممالک کی روٹی کھانے والے انہی ممالک کے لوگوں کے مذاہب اور مذہبی عمل کی توہین کرکے کیا حاصل کرپاتے ہیں؟

اس سے خود ان جاہلوں کی ملازمت ختم ہوگی اور انہیں لپیٹ کر ان ممالک سے ایسے واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ وہ پھر کسی اسلامی ملک میں اپنی روٹی تلاش کرنے نہ پہنچ سکے! ماضی میں دوبئی اور کویت کے علاوہ کئی ممالک سے ایسے جاہل اور فرقہ وارانہ سوچ کے حامل لوگوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے واپس ہندوستان بھیج دیا گیا تھا۔جو کہ اسلامی ممالک میں رہتے ہوئے بھی وہاں سے سوشل میڈیا پر اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر پھیلارہے تھے۔

مسلم مخالف ذہن ان بیوقوفوں کی عجیب بات یہ ہے کہ خود اپنے خاندان کی کفالت کی غرض سے اسلامی ممالک میں جاکر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں،جہاں انہیں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ ان ممالک کے شہریوں کے مماثل وہ تمام سہولتیں دی جاتی ہیں جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے! اور ان سے وہاں کوئی امتیاز بھی نہیں برتا جاتا۔اور مسلمانوں کے ساتھ رہن سہن کے باؤجود ان کے ذہن کیوں مسلم مخالف بن جاتے ہیں؟

اسلامی ملک بحرین کے "ادلہ” Adla ” میں ایک ہندوستانی ریسٹورنٹ کومقامی عہدیداروں نے ایک برقعہ پوش خاتون کو ریسٹورنٹ میں مبینہ طور پر داخل ہونے سے روک دئیے جانے کے اقدام کے خلاف بند کر دیا ہے۔

گلف ڈیلی نیوز کی رپورٹ کے مطابق بعدازاں ریسٹورنٹ کے انتظامیہ نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی جانب سے تحریری بیان جاری کیا ہے۔ریسٹورنٹ انتظامیہ نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد ڈیوٹی منیجر کو معطل کر دیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ڈیوٹی منیجر کا تعلق ہندوستان کی ریاست کرناٹک سے ہے!!۔

بحرین کے خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ریسٹورنٹ کے مینجر کی جانب سے ایک برقعہ پوش خاتون کو روکنے کی ویڈیو اور تصویر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی۔

بحرین ٹورازم اینڈ ایگزیبیشن اتھارٹی نے اس معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور تمام سیاحتی دکانات اور کاروباری اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں جو مملکت کے قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہو۔ایک مقامی میڈیا ذرائع کے حوالے سے حکام نے کہا” ہم ایسے تمام اقدامات کو مسترد کرتے ہیں جو لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کرتے ہیں،خاص طور پر ان کی قومی و مذہبی شناخت کے معاملہ میں”۔

سوشل میڈیا پر وائرل اطلاع اور مقامی میڈیا کے مطابق ” قندیل”Lanterns”  نامی اس ہندوستانی ریسٹورنٹ انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان پوسٹ کیاہے۔اور جس میں لکھا ہے کہ”یہ واقعہ ہوٹل انتظامیہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔”Lantersn” میں ہر کسی کا خیرمقدم ہے کیونکہ ہم گزشتہ 35 سال سے زیادہ عرصہ سے بحرین جیسی خوبصورت مملکت میں تمام قومیتوں کی خدمت کررہے ہیں۔

قندیل (لالٹین) ہر ایک کے لیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ لطف اندوز ہونے اور خود کو اپنے گھر جیسے ماحول میں محسوس کرنے کی جگہ ہے۔ایک مینیجر سے غلطی ہوئی ہے جسے اب معطل کیا جارہا ہے،کیونکہ یہ اس بات کی نمائندگی نہیں کرتا ہے کہ ہم کون ہیں۔جذبہ خیر سگالی کے طور پر ہم اپنے تمام بحرینی سرپرستوں کو 29 مارچ بروز منگل” لالٹینز "میں خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ ہماری جانب سے ترتیب دئیے جانے والا اعزازی کھانا Complimentary Food کھائیں۔”

” ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کیا گیا عربی مکتوب "

https://www.instagram.com/p/CbhysJcsL59/?utm_source=ig_web_copy_link

 

” ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے انگریزی میں فیس بک پر پوسٹ کیا گیا عربی مکتوب "

https://www.facebook.com/LanternsLounge/photos/pcb.2191889057625298/2191889030958634/