وقارآبادضلع: عیدگاہ تانڈور کے درمیان سے نیشنل ہائی و ےکا منصوبہ غلط اور ناقابل قبول،انچارج وقف انسپکٹر محمد صابرحسین کا بیان

عیدگاہ تانڈور کے درمیان سے نیشنل ہائی وےکے گزر کا منصوبہ غلط اور ناقابل قبول
انچارج وقف انسپکٹر محمد صابرحسین کا دؤرہ،مسلم قائدین کے ساتھ عیدگاہ کا مشاہدہ
صدرنشین اور سی ای او وقف بورڈ کوتفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی

وقارآباد/تانڈور: 20۔ڈسمبر(سحر نیوز ڈاٹ کام)

نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے بھوت پور چوراہا سےبراہ کوسگی نیشنل ہائی وے 167A کو بائی پاس کی شکل میں براہ کوڑنگل کے انگڑی رائچور اور دیگر مواضعات،پیر فقیر صاحب درگاہ اور تانڈور کے چنگیز پور روڈ سے گزارتے ہوئے کرناٹک کے چنچولی تک لے جانے کے لیے گزشتہ ماہ اس کے لیے سروے مکمل کرلیا گیا تھا۔

اس سروے کے دؤران تانڈور میں چنگیز پور روڈ پر موجود جدید عیدگاہ کے آفس روم پر باقاعدہ ” جی پی ایس سروے نمبر5A ” تحریر کرتے ہوئے وہاں نشاند ہی کے طور پر ایک پتھر بھی آویزاں کردیا گیا تھا۔

اس سلسلہ میں صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن لوک سبھا حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی سے نمائندگی کے بعد انہوں نے صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ محمدسلیم اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہنواز قاسم آئی پی ایس سے اس معاملہ کو رجوع کیا۔

جس کے بعد صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ محمدسلیم اور سی ای او شاہنواز قاسم آئی پی ایس کی ہدایت پر آج انچارج وقف انسپکٹر وقارآباد ضلع محمد صابرحسین نے تانڈور کے اس جدید عیدگاہ کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے جی پی ایس سروے کے بعد کی گئی نشاندہی کا بھی معائنہ کیا۔

اس موقع پر صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خان،صدرمجلس اتحادالمسلمین تانڈور عبدالہادی شہری،امیر مشاورت مسلم ویلفیئر اسوسی ایشن تانڈور محمد خورشیدحسین، نائب امیر عبدالاحد،مولانا سیدمحمدسلیمان قاسمی اور محمد قیصر کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

اس عیدگاہ اور نقشہ کا مشاہدہ کرنے کے بعد انچارج وقف انسپکٹر وقارآباد ضلع محمد صابرحسین نے نمائندہ "سحر نیوز ڈاٹ” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے عیدگاہ تانڈورکے درمیان سے جو 150 فیٹ چوڑی سڑک بچھانے کے لیے جو سروے کیا گیا ہے وہ منصوبہ انتہائی غلط اور ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا بہت پہلے ہی موجودہ عیدگاہ کی اراضی میں سے چنگیزپور روڈ بچھائی جاچکی ہے جس کے بعد عیدگاہ کی اراضی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور اب نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے اس عیدگاہ کی موجودہ اراضی کا استعمال نامناسب ہے جس کے بعد عیدگاہ تانڈور کی 9 ایکڑ 14 گنٹہ پرمشتمل اراضی مکمل طور پرمسلمانوں کے لئے ناقابل استعمال ہوجائے گی جو کہ ہزاروں کی تعداد میں عیدین کی نمازیں ادا کرتے ہیں اور ساتھ ہی عیدگاہ کمیٹی تانڈور کی جانب سے خصوصی سرخ پتھروں اور کاریگروں کی مدد سے اس عیدگاہ کے قبلہ نما کی تعمیر اورحصار بندی پر پہلے کی ایک کروڑ روپئے سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔

انچارج وقف انسپکٹر وقارآباد ضلع محمدصابرحسین نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں ایک تفصیلی رپورٹ صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہنواز قاسم آئی پی ایس کے حوالے کریں گے۔

جس کے بعد وقف بورڈ کے یہ دونوں عہدیداران نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا سے باقاعدہ سرکاری سطح پر موثر نمائندگی کریں گے کہ اس ہائی وے کو تانڈور کے عیدگاہ میدان سے گزارنے کے بجائے اس کے رخ میں تبدیلی کی جائے۔