حیدرآباد کے علاوہ ملک کےمختلف مقامات کے بینک صارفین کو تین کروڑ کی آئن لائن دھوکہ دہی،مدھیہ پردیش سے 16 گرفتار

حیدرآباد کے علاوہ ملک کےمختلف مقامات کے بینک صارفین کو
تین کروڑ کی آئن لائن دھوکہ دہی، مدھیہ پردیش سے 16 جعلساز گرفتار،سات فرار
سائبر کرائم پولیس حیدرآباد کی کامیاب کارروائی،حیدرآباد میں 34 کیس درج تھے

حیدرآباد:18۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

بینک کے نام سے جعلسازی کے ذریعہ عوام کو آن لائن دھوکہ دینے اور کروڑوں روپئے لوٹنے والی ایک گینگ کا پردہ فاش کرتے ہوئے سائبر کرائم پولیس حیدرآباد نے کامیاب تحقیقات کے بعد اس گینگ کے 23 دھوکہ بازوں میں سے 16  کو مدھیہ پردیش کے اُجین سے گرفتار کرلیا ہے جبکہ اصل سرغنہ سمیت دیگر ساتھ جعلساز فرار ہیں۔جن کے خلاف حیدرآباد میں آن لائن دھوکہ دہی کے 34 کیس اور ملک کے مختلف شہروں میں 166 کیس درج ہیں۔

اس گینگ نے جس کا تعلق  دہلی اور مدھیہ پردیش سے ہے نے بینک کے نام پر قائم کردہ نقلی کال سنٹر کے ذریعہ زائداز تین کروڑ عوام سے کروڑہا روپئے لوٹ لیے ہیں۔
اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق کرائم ڈی سی پی حیدرآباد روہنی پریہ درشنی اور ڈی سی پی سائبر کرائم لاونیا کی قیادت میں "آر بی ایل” بینک "رتنا کر بینک لمیٹیڈ ” کے نام سے "جعلی کال سنٹر” چلاتے ہوئے ملک بھر میں عوام کو چونا لگانے والی اس گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے تین کروڑ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

اس فیک کال سنٹر چلانے والی گینگ نے آر بی ایل بینک کے کھاتہ داروں کا ڈاٹا ہائیک کرتے ہوئے کریڈٹ کارڈ کسٹمرس کا ڈاٹا حاصل کیا۔

بعدازاں یہ دھوکہ باز بینک کھاتہ دار خود کو بینک عہدیدار بتاکر کو کال کرکے کہتے کہ بینک کی جانب سے ان کے کریڈٹ کارڈ کا پن نمبر تبدیل کیا گیا ہے اور وہ فوری اپنے موبائل نمبر پر آئے ہوئے "او ٹی پی ” OTP نمبر انہیں بتائیں اس کے بعد اس کھاتہ دار کے بینک اکاؤنٹ سے پوری رقم اڑالیا کرتے تھے۔

اس گینگ کے پاس بینک کسٹمر کا نام، پتہ،تاریخ پیدائش،فون نمبر،کریڈٹ کارڈ نمبراور دیگرتفصیلات موجود رہنے سے ان کا کام آسان ہوجایا کرتا تھا۔

کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ رقم حاصل کرنے کی غرض سے اس شاطر گینگ نے آن لائن شاپنگ کے لیے اپنے خود کے 6 مرچنٹ ویب سائٹ بنائے تھے اور ان میں کسٹمرس کے کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ان ویب سائٹس پر شاپنگ کرتے ہوئے رقم اپنے کھاتوں میں منتقل کرلیا کرتے تھے۔

سائبرآباد پولیس کمشنریٹ میں اس دھوکہ دہی پرمشتمل ایک شکات درج ہونے کے بعد اس گینگ کا پردہ فاش کرنے میں پولیس کو مدد حاصل ہوئی۔ایک کسٹمر سے اسی طرح او ٹی پی نمبر لے کر ان کے بینک اکاؤنٹ سے 98،000 روپئے اڑالیے گئے۔

جب اس سلسلہ میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو یہ ریاکٹ دہلی کے اتم نگر اور مدھیہ پردیش کے اُجین سے یہ نقلی کال سنٹر چلاتے ہوئے ملک کے عوام کو لوٹ رہا تھا۔

اس گینگ میں جملہ 23 دھوکہ باز شامل تھے جن میں سے 16 کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور مزید سات جعلساز فرار بتائے گئے ہیں جس میں اس گینگ کا اصل سرغنہ بھی شامل ہے۔

پولیس کے مطابق ان دھوکہ بازوں کے خلاف حیدرآباد میں 34 کیس درج ہیں جبکہ ملک کے مختلف مقامات پر ان کے خلاف 166 سے زائد شکایتیں پولیس میں سرج کروائی گئی ہیں۔ساتھ ہی پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ یہ گینگ ملک کے دیگر شہروں میں بھی جعلی کال سنٹرس قائم کرتے ہوئے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔اس سلسلہ میں پولیس مزید گہرائی سےتحقیقات میں مصروف ہے۔

سائبرکرائم پولیس حیدرآباد نے اپنے دھاؤوں کے دؤران ان دھوکہ بازوں کے قبضہ سے ایک بی ایم ڈبلیو جیسی مہنگی کار،825 جعلی آدھار، ووٹر اور پان کارڈس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے سِم کارڈس،34 موبائل فون،بینک کے چیک بک،پاس بک اور کارڈ سوئپنگ مشین ضبط کرلیے ہیں۔

اس سلسلہ میں کمشنر پولیس سائبرآباد اسٹیفن رویندرا نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بینک کالس کے معاملہ میں انتہائی چوکس رہیں۔

اور کسی بھی انجانے شخص کو اپنے موبائل فون پر آنے والے کسی بھی ” او ٹی پی OTP# نمبر ” کو ہرگز نہ دیں،اور ضرورت پڑنے پر اپنے نیٹ بینکنگ،گوگل پے،فون پے اور دیگر آن لائن پیمنٹ ایپ کے ” پِن نمبر PIN# نمبرس ” خود ہی تبدیل کرلیں۔اور فون کالس یا ایس ایم ایس کے ذریعہ آنے والے پرکشش انعامات اور دیگر ترغیبات کی اطلاعات پر ہرگز یقین نہ کریں۔