گیان واپی مسجد معاملہ:سپریم کورٹ نے وارانسی کی عدالت سے کہا کہ وہ آج کوئی حکم جاری نہ کرے، کیس کی سماعت کل

گیان واپی مسجد معاملہ:
سپریم کورٹ نے وارانسی کی عدالت سے کہا کہ وہ
آج کوئی حکم جاری نہ کرے،کیس کی سماعت کل

نئی دہلی: 19۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

سپریم کورٹ نے آج جمعرات 19 مئی کو گیان واپی مسجدمعاملہ کی سماعت کو ہندو فریق کے وکیل کی جانب سے بیان قلمبند کروانے کے بعد جمعہ کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا۔سپریم کورٹ نے وارانسی کی عدالت سےبھی کہاہے کہ وہ آج اس معاملہ میں کوئی حکم صادر نہ کرے۔

آج سپریم کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت سے قبل 10 سے 15 صفحات پرمشتمل گیان واپی مسجد کی سروےرپورٹ وارانسی کی عدالت میں داخل کی گئی۔

عدالت کے مقرر کردہ خصوصی اسسٹنٹ کمشنر ایڈوکیٹ وشال سنگھ نے کہا کہ وارانسی کی عدالت میں ایک ویڈیو چپ بھی جمع کروائی گئی ہے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور پی ایس نرسمہا کی بنچ نے ایڈوکیٹ وشنوشنکر جین کی درخواست کو قبول کرلیا لیکن ہدایت دی کہ وارانسی کی ٹرائل کورٹ آج کارروائی نہ کرے اور نہ ہی کوئی حکم صادر کرے۔

سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ درخواست گزاروں کی جانب سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے کارروائی آگے نہیں بڑھنی چاہئے۔اور ایڈوکیٹ جین اس سے اتفاق کرتے ہیں۔اس کےمطابق ہم ٹرائل کورٹ کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ یہاں کے انتظامات کے مطابق سختی سے کام کرے اور اسے کوئی بھی حکم دینے سے باز رہنا چاہیے۔

قبل ازیں انجمن انتظامیہ ،مسجد کی انتظامی کمیٹی گیان واپی مسجد کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ٹرائل کورٹ میں کارروائی جاری ہے اور اب وضو خانہ کے قریب ایک دیوار گرانے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی دیگر مساجد کو بھی مہر بند کرنے کی درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔اب اس معاملے کی سماعت کل 20 مئی کی سہ پہر تین بجے تین ججوں کی بنچ کرے گی۔

سپریم کورٹ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے دائر کی گئی ایک اپیل کی سماعت کررہی ہے۔جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں وارانسی کی سول عدالت کے ذریعہ مقرر کردہ کورٹ کمشنر کو گیان واپی مسجد کا معائنہ کرنے،سروے اور ویڈیوگرافی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

جس کے بعد مقامی عدالت نے 16 مئی کو اس وقت مسجد کے ایک علاقہ (وضو خانہ) کو مہربندکرنے کا حکم جاری کیا تھا جب ہندو فریقین کے وکیل ہری شنکر جین نے دعویٰ کیا تھا کہ سروے کے دوران ایک شیولنگ برآمد ہوا ہے!!۔جبکہ مسجد انتظامیہ کمیٹی کاکہنا ہے کہ یہ وضوخانہ کے درمیان موجود فوارہ ہے!۔

وارانسی کی عدالت جس نے گیان واپی مسجدکمپلیکس کi ویڈیو گرافی سروے کاحکم دیا تھا منگل کو ایڈوکیٹ کمشنر اجئے مشرا کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے تئیں غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کرنے پر ہٹا دیا تھا۔جبکہ اس نے کمیشن کو سروے رپورٹ داخل کرنے کے لیے مزید دو دن کی مہلت بھی دی تھی۔ڈسٹرکٹ سول جج روی کمار دیواکر کی جانب سے کمشنر کو ہٹانے کاحکم اسپیشل ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ کی جانب سے دائر درخواست پر آیا تھا جنہوں نےعدالت کو بتایا تھا کہ اجئےمشرا نے اس سروے کے دؤران”ایک ذاتی کیمرہ مین آر پی سنگھ کو تعینات کیا تھا جو میڈیا کو لگاتار غلط اطلاعات تقسیم کررہا تھا”۔