سابق صدر پنجاب کانگریس نوجوت سنگھ سدھو کو
34 سال قدیم کیس میں ایک سال کی جیل
نئی دہلی:19۔مئی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
پنجاب میں کانگریس کو انتخابی شکست سے جھٹکے کے چند ماہ بعد سابق انڈین کرکٹر و سابق صدر پنجاب کانگریس نوجوت سنگھ سدھو کو آج اس وقت ایک اور جھٹکا لگاہے جب سپریم کورٹ نے 34 سال قدیم روڈ ریج(سڑک پرغصہ) کیس میں ایک سال جیل کی سزا سنائی ہے۔جو 1988 میں نوجوت سنگھ سدھو اور ان کے ساتھی کے ساتھ جھگڑے کے بعد مرنے والے شخص کے خاندان کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔
متاثرہ کے خاندان نے نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف سنگین الزامات اور سدھو کو بری کیے جانے والے سپریم کورٹ کے 2018ء کے فیصلہ پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔جس پر سدھو نے خاندان کی نظرثانی درخواست کو چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ نے آج کانگریس لیڈر کی عرضی پر فیصلہ سنایا ہے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے انتخابی شکست کے مہینوں بعد سابق انڈین کرکٹر و سیاستدان کو بڑاجھٹکا لگا ہے۔58 سالہ سابق انڈین کرکٹر و کانگریسی لیڈر نوجوت سدھو کو ایک سال کی "سخت قید” کی سزا بھگتنے کے لیے عدالت کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑا۔تاہم عدالت کی جانب سے انہیں اس سزا کو چیلنج کرنے کا اختیاربھی دیا گیا ہے۔تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے اس واقعہ اور اس کے قانونی نتائج نے نوجوت سنگھ سدھو کو پریشان کررکھا ہے،جنہوں نے حال ہی میں ریاستی انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کے بعد پنجاب کانگریس کے صدر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
آج سپریم کورٹ کی جانب سے صادر کیے گئے فیصلے کے بعد نوجوت سنگھ سدھو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” قانون کی سربلندی کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے”۔
یاد رہے کہ 27 دسمبر 1988 کو کانگریسی لیڈر و سابق انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کا پٹیالہ کے رہنے والے گرنام سنگھ سے پارکنگ کی جگہ پر جھگڑا ہوا تھا۔نوجوت سنگھ سدھو اور ان کے ساتھی روپندرسنگھ سندھو نے مبینہ طورپر گرنام سنگھ کو اپنی کار سے باہر گھسیٹ کر مارا بعد میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔1999 میں پٹیالہ کی ایک سیشن عدالت نے نوجوت سنگھ سدھو اور ان کے ساتھی کو ثبوت کی کمی اور شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔

اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی پر پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے نوجوت سنگھ سدھو کو 2006ء میں مجرمانہ قتل کا مجرم ٹھہرایا اور انہیں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔اس فیصلہ کو 2018 میں سدھو نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔جس نے ہائی کورٹ کے حکم کو ایک طرف رکھ دیا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آدمی کی موت ایک ہی ضرب سے ہوئی۔لیکن اس نے کرکٹر وسیاست دان کو ایک بزرگ شہری کو تکلیف پہنچانے کا قصوروار ٹھہرایا تھاسپریم کورٹ نے مسٹر سدھو کے معاون روپندر سندھو کو بھی تمام الزامات سے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ ان کے موقع پر موجود ہونے کا کوئی مناسب ثبوت نہیں تھا۔

