تلنگانہ کی تاریخ میں پہلا واقعہ
حیدرآباد میں دو ہم جنس پرستوں نے شادی کرلی
معین آباد کے ریسارٹ میں شادی کی تقریب،افراد خاندان اور دوستوں کی شرکت
حیدرآباد/وقارآباد: 19۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
پیار،محبت اور عشق کے متعلق سب کے اپنے اپنے نظرئیے ہوتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پیار اندھا،گونگا اور بہرہ ہوتا ہے جو نہ سماج کی بندشوں کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ پیار عمر، رنگ اور ذات پات کو مانتا ہے!
تاہم مشرقی روایات میں ذات پات اور مذہبی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محبت کی بھی جاتی ہے تو زیادہ تر اس عشق ،محبت اور پیار کا اختتام مردوں کی شادی خواتین ہی سے ہوتی ہے اور خواتین کی شادیاں مردوں سے ہی ہوتی ہیں!!۔
لیکن مغربی اور یوروپی ممالک میں گزشتہ چند سال سے مرد کی مرد سے محبت اور خواتین کی خواتین سے محبت اور شادی عام بات ہوگئی ہے۔اور یہ لوگ مل جل کر ایک ساتھ زندگی بھی گزارتے ہیں۔اور دنیا کے 31 ممالک میں ہم جنسوں کی شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
ریاست تلنگانہ میں ایک ہم جنس پرست جوڑے کی شادی کا پہلا چونکا دینے والا معاملہ ریکارڈ ہوا ہے۔
” ہم جنس پرستوں کی شادی کی تقریب کا ویڈیو یہاں دیکھا جاسکتا ہے”
حیدرآباد کے ساکن ابھئے ڈانگ اور سپریو چکرورتی نے حیدرآباد سے 25 کلومیٹر کے فاصلہ پر حیدرآباد۔بیجاپورنیشنل ہائی وے (وقارآباد روڈ) پر کیرتی ریڈی پلی،معین آباد میں موجود” ٹرانس گرین فیلڈ ریسارٹ ” میں اپنے افراد خاندان کی رضامندی اور ان کی موجودگی میں شادی کرلی۔

اس شادی کی تقریب میں دونوں کے افراد خاندان،رشتہ دار،دوست احباب کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔اس تقریب میں موسیقی اور تالیوں کی گونج میں ان دونوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں بعدازاں آتشبازی بھی کی گئی۔
ابھئے ڈانگ حیدرآباد میں ایک سافٹ ویئر کمپنی میں ڈیزائنر ہیں جبکہ سپریو چکرورتی حیدرآباد کے ایک ہوٹل مینجمنٹ اسکول میں لیکچرار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ” آدمی ہوں آدمی سے پیار کرتا ہوں” نغمے پرعمل کرنے والے ان دونوں کا حیدرآباد سے تعلق نہیں ہے بلکہ سپریو چکرورتی کا تعلق کولکتہ سے اور ابھئے ڈانگ کا تعلق دہلی سے بتایا گیا ہے۔اور یہ دونوں حیدرآباد میں ملازمت کی غرض سے مقیم ہیں۔

ابھئے ڈانگ اور سپریو چکرورتی کی 2013 میں ایک ڈیٹینگ ایپ Dating App کے ذریعہ دوستی ہوئی تھی۔بعدازاں یہ رشتہ میں تبدیل ہوگئی.بالآخر 8 سال بعد ان دونوں کی یہ دوستی آج شادی میں تبدیل ہوگئی۔ماہ اکتوبر میں ہی ابھئے ڈانگ اور سپریو چکرورتی نے اپنی شادی کا اعلان کیا تھا۔
ہندوستان میں ہم جنس پرستوں کے تعلقات اور شادی پر پابندی عائد تھی اور اس کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 377 کے تحت قانونی کارروائی کی جاتی تھی۔
تاہم 6 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے اس دفعہ کو کالعدم قرار دینے والی درخواست پر ایک طویل سماعت کے بعد دفعہ 377 کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دی تھی۔
اس کے باؤجود ہندوستان میں ہم جنس پرستوں کی شادی کی اطلاعات عام نہیں ہیں! کبھی کبھار کسی ریاست سے ایسی اطلاع موصول ہوتی ہے!
ہندوستان میں پہلی مرتبہ 2019 میں کیرالا کے ایک ہم جنس پرست جوڑے سونو اور نکیش نے ہندو رسم و رواج کے تحت کیرالا کی ایک مندر میں شادی کرلی تھی۔
یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگا کہ دنیا کے 31 ایسے ممالک ہیں جہاں ہم جنس پرست جوڑوں کی شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔
ان ممالک میں ڈنمارک،ارجنٹائن،آسٹریلیا،بلجیم، آسٹریا،آئس لینڈ، ایکواڈو، پرتگال، ناروے،اسپین، پرتگال چلی، برازیل، جرمنی، کوسٹاریکا،کولمبیا،جرمنی،میکسیکو،سویڈن،فرانس،مالٹا،لکسمبرگ،آئرلینڈ،کینیڈا،نیوزی لینڈ ، امریکہ، نیدرلینڈ، سوئزرلینڈ، برطانیہ،فن لینڈ تائیوان اور یورا گوئے شامل ہیں۔
GayMarriage #Hyderabad #Telangana #FirstTimeInTelangana#

