نابالغ بیٹی کوقتل کی دھمکی دیتے ہوئے اپنی جنسی ہوس کا شکار بنانے والا درندہ صفت باپ گرفتار، وقارآباد ضلع میں شرمناک واقعہ

درندے اب نہیں رہتے جنگلوں میں!! 

وقارآباد ضلع میں انتہائی شرمناک واقعہ منظرعام پر
نابالغ بیٹی کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے اپنی جنسی ہوس کا شکار
بنانے والا درندہ صفت باپ گرفتار،متاثرہ لڑکی کی پولیس نے کونسلنگ کی

وقارآباد/تانڈور:28۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)

اؤلاد کے لیے باپ ایک ایسے سایہ دار و پھل دار شجر کے مماثل ہوتا ہے جو خود تمام موسموں کی مار کو خوشی خوشی برداشت کرتے ہوئے اپنے بچوں کا تحفظ کرتاہے اور اس شجر سے زندگی بھر ان بچوں کو ہمہ اقسام کے پھل بھی دیتا رہتا ہے۔

باپ کا سایہ کسی بھی اؤلاد کی زندگی میں سب سے بڑا سرمایہ مانا جاتا ہے۔جو خود اپنی خواہشات کو مارکر اپنے بچوں کو سکون کی زندگی فراہم کرتا ہے۔وہیں بیٹیاں اپنے باپ کو اپنی زندگی کا پہلا ہیرو مانتی ہیں۔انگریزی کو قول ہے کہ” لڑکی کی پہلی محبت اس کا باپ ہوتا ہے”۔جو قدم قدم پر ان کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے اور بیٹیاں اپنے باپ کو خدا کے بعد اس دنیا کا سب سے بڑا محافظ بھی مانتی ہیں۔لیکن!!

تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے ایک موضع میں آج ایک ایسا شرمناک واقعہ منظر عام پر آیاہے جو کہ باپ کے نام پر گالی ثابت ہوا ہے اور اس مقدس رشتہ کو اس درندہ صفت باپ نے داغدار بناکر رکھ دیا۔جو کہ اپنی ہی بیٹی کو قتل کی دھمکی دیتے ہوئے اپنی جنسی ہوس کا شکار بنارہا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ حیوانی عمل سے بدتر کام یہ درندہ گزشتہ تین سال سے کررہا تھا بالآخر بیٹی اپنے رشتہ داروں کی مدد سے وقارآباد پولیس سے رجوع ہوئی جس کے فوری بعد اس باپ جیسے نام کے تقدس کو ملیامیٹ کرنے والے باپ کو گرفتار کرلیا۔یہ روح کو فرسادینے والا واقعہ ضلع وقارآباد کے مرپلی منڈل کے ایک دیہات میں پیش آیا ہے۔

سرکل انسپکٹر پولیس مومن پیٹ وینکٹیشم کے مطابق مرپلی منڈل کے ایک موضع میں پیش آئے اس شرمناک واقعہ کی شکار نابالغ 15 سال لڑکی کو خود اس کا باپ گزشتہ تین سال سے اپنی جنسی ہوس کا شکار بنارہا تھا۔اس درندے نے اپنی ہی لخت جگر کو یہ دھمکی دے رکھی تھی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ اس کا قتل کردے گا۔

باپ کے ہاتھوں خود اپنے مکان میں جہنم جیسی زندگی گزارنے والی اس معصوم لڑکی نے بالآخر اپنے افراد خاندان کو اپنے باپ کی ان ذلیل حرکتوں سے واقف کروادیا۔جس کے فوری بعد اس لڑکی کے رشتہ دار پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے لڑکی کے باپ کے خلاف شکایت درج کروائی۔ پولیس نے متاثرہ لڑکی کو طبی معائنہ کی غرض سے وقارآباد کے سرکاری ہسپتال سے رجوع کیا۔

متاثرہ لڑکی کو وقارآباد کے دفتر ایس پی کے”سکھی سنٹر” Sakhi Centre ” میں تمام سہولتیں فراہم کرتے ہوئے اس معصوم پر بیتے ہوئے اس درد انگیز اور مایوسی کا شکار بنانے والے اس واقعہ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی غرض سے اس کی مناسب کونسلنگ بھی کی گئی۔

جس پر پولیس نے بھی فوری اقدام کرتے ہوئے اس درندہ صفت باپ کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کی تو اس نے اپنا گھناؤنا جرم قبول کرلیا۔بعد ڈی ایس پی وقارآباد مسٹر ستیہ نارائنا کی موجودگی میں باپ کے خلاف باقاعدہ ایک کیس درج رجسٹر کرلیا گیا۔بعدازاں آج ہی اس درندہ نما باپ کو عدالتی تحویل میں روانہ کردیا گیا۔  

 

 

نوٹ: صحافتی اقدار اور قواعد و ضوابط کے تحت اس واقعہ کی تفصیلات میں درندہ صفت باپ،متاثرہ معصوم لڑکی اور گاؤں کے نام مخفی رکھے گئے ہیں۔