اردو ایک تہذیب یافتہ اور الفاظ کے وقار کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی زبان : وزیرثقافت مدھیہ پردیش اوشا ٹھاکر

اردو ایک تہذیب یافتہ اور الفاظ کے وقار کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کرنے والی زبان
ڈاکٹرعشرت ناہید مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے "حامد سعید خان قومی اعزاز”سے سرفراز 
بھوپال میں منعقدہ” تقریب اعزازات "سے وزیرثقافت محترمہ اوشا ٹھاکر اور دیگر کا خطاب

بھوپال: 29۔مارچ(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)   

مدھیہ پردیش اردو اکادمی،سنسکرتی پریشد اور محکمہ ثقافت کے زیراہتمام 28مارچ کو ایک شاندار” تقریب اعزازات” کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ ریاستی وزیر ثقافت محترمہ اوشا ٹھاکر نے اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔جبکہ سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر آلوک سنجر کی زیر صدارت اور محترمہ ادیتی کماد ترپاٹھی،ڈائریکٹر،سنسکرتی کی موجودگی میں اسٹیٹ میوزیم،شیاملہ ہلز،بھوپال میں یہ پُر وقارتقریب منعقد کی گئی۔

وزیر ثقافت محترمہ اوشا ٹھاکر "تقریب اعزازات” سے خطاب کرتی ہوئیں۔

وزیر ثقافت حکومت مدھیہ پردیش محترمہ اوشا ٹھاکر نے اس تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ سبھی اعزاز یافتگان کی جومحنت اور لگن ہے یہ اعزاز اسی کی علامت ہوتے ہیں کہ اس شخص نے اپنے اس تحقیقی کام میں اور اپنے اس ادبی سفر میں اپنی زندگی کے تجربات کو شامل کیا ہے۔جو کہ سماج اور ملک کے لیے مثال بن سکیں۔اسی مقصد کو لے کر اردو اکادمی مدھیہ پردیش محکمہ ثقافت کے زیرنگرانی آگے بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو زبان ایک تہذیب یافتہ زبان ہے اور اس نے لفظوں کے وقار کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر آلوک سنجر نے اس تقریب سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بوند کو سمندر میں گرتے ہوئے سب نے دیکھا ہے مگر بوند میں سمندر کو دیکھنے کا کام یہ تخلیق کار کرتے ہیں۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے ان تخلیق کاروں کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں اعزازات سے نوازا۔انہوں نے کہا کہ حقیقت میں یہ وہ لوگ ہیں جو صرف اور صرف اپنے قلم کے ذریعہ ملک اور دنیا کو سجانا سنوارنا چاہتے ہیں اور محبت و امن کا پیغام عام کرنا چاہتے ہیں۔

سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر آلوک سنجر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے۔

تقریب اعزازات کے مہمان ڈائریکٹرسنسکرتی ادیتی کمار ترپاٹھی نے اردو ادبا، شعراء اور سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے آپ لوگ جو بھی مشورے دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی اورمحکمہ ثقافت کی کوشش رہے گی کہ ان مشوروں پر عمل کیا جائے۔    

تقریب اعزازات کے آغاز میں ڈائریکٹر مدھیہ پردیش اردو اکادمی ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام مہمانان کا استقبال کیا۔اور تقریب کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکادمی کے ذریعہ ابھی تک شخصیات کو ان کی مجموعی ادبی خدمات کی بنیاد پر اعزازات دئیے جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ سال 22-2021 سے محکمہ ثقافت کی دیگر اکادمیوں کی طرح مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ بھی زبان و ادب سے متعلق مختلف اصناف پر مبنی شائع شدہ کتابوں پر کل ہند اور صوبائی اعزازات دئیے جانے کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔

ڈائریکٹر مدھیہ پردیش اردو اکادمی ڈاکٹر نصرت مہدی تقریب سے خطاب کرتی ہوئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مقصد اردو ادب کی معدوم ہوتی ہوئی مختلف کئی اصناف پر کام کرنے کے لیےتخلیق کاروں کو راغب کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ڈاکٹر نصرت مہدی نے کہا کہ اس سال اردو اکادمی مدھیہ پردیش کی جانب سے 6 تخلیق کاروں کو ان کی کتب پر کل ہند اعزازات اور 12 تخلیق کاروں کو صوبائی اعزازات سے نوازا جارہا ہے۔اور اس سال تمام اعزازات مدھیہ پردیش کے تخلیق کاروں کو ہی دئیے جارہے ہیں۔

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ذریعہ جن 6 شخصیات کی تخلیقات پر کل ہند اعزازات عطا کیے گئے ان میں ممتاز ادیب و محقق ڈاکٹر مہتاب عالم کی کتاب” تہذیب” پر ابراہیم یوسف اعزاز،جناب وفا صدیقی کی کتاب”نقش تابندہ”کے لیے میرتقی میر اعزاز،ڈاکٹر سیفی سرونجی کو "سہ ماہی انتساب” کی خدمات کےلیےحکیم قمرالحسن اعزاز،ڈاکٹرخالدمحمود کی کتاب”نقوش معنی”کو جوہر قریشی،ڈاکٹر محمدنعمان خان کی کتاب "فلسفہ حیات” کو شاداں اندوری اعزاز اور ڈاکٹر عشرت ناہید اجین کی کتاب”منزل بے نشاں”کو حامد سعید خاں قومی اعزاز شامل ہیں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ڈاکٹر عشرت ناہید کو اس سے قبل 2017 میں اردو انجمن برلن نے ان کی ادبی خدمات پر اردو انجمن برلن بین الاقوامی اعزاز سے سرفراز کیا ہے۔اتر پردیش اردو اکیڈمی نے ان کی کتب”حیات اللہ انصاری کی کہانی کائنات اور افسانوی مجموعے پر بھی انعام دیا ہے۔

ڈاکٹر عشرت ناہید وزیر ثقافت اور سابق رکن پارلیمنٹ سے "حامد سعید خان قومی اعزاز” حاصل کرتی ہوئیں۔

ڈاکٹر عشرت ناہید کی اب تک سات کتابیں منظرعام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔حیات اللہ انصاری شخصیت اور ادبی کارنامے حیات اللہ انصاری کی کہانی کائنات،ایک لفظ کی موت،ورق ورق کہانی کائنات جلد اول،دوم منزل بے نشاں اور سفرنامہ” میری یادوں میں برلن”اس کے علاوہ ان کے مضامین اور افسانے ملک اور بہرون ملک کے رسائل و جریدوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی جانب سے اس تقریب اعزازات میں صبائی اعزازات کوثر صدیقی کی قرطاس قلم کو ندا فاضلی اعزاز،قاسم رسا کی کتاب جستہ جستہ کو سراج میر خاں سحر اعزاز،ڈاکٹر رضیہ حامد کی کتاب فہم و ادراک کوسورج کلاسہائے اعزاز،ضیا فاروقی کی کتاب حسینہ منزل کو نواب شاہجہاں بیگم اعزاز، کے کے راجپوت کمل کی کتاب رقِص بسمل کوشمبھو دیال سخن اعزاز،اقبال مسعود کی کتاب نعیم کوثر افسانوی کائنات کوشعری بھوپالی اعزاز،ڈاکٹر محمود شیخ کی کتاب امیجری کا زوال کو محمد علی تاج اعزاز،نفیسہ سلطانہ انا کی کتاب عکس خیال کو باسط بھوپالی اعزاز،کاروان ادب کے مدیر جاوید یزدانی کونواب صدیق حسن خان اعزاز،صبیحہ صدف کی کتاب اردو قواعد و مضامین کو جاں نـثار اختر اعزاز،ڈاکٹرعارف انصاری کی کتاب پس پردہ کو پنا لال سریواستو نور اعزاز اور کوثر فرزانہ کوکیف بھوپالی صوبائی اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔

تقریب اعزازات کی نظامت کے فرائض جناب بدر واسطی اور سانیسا ہرنے نے بحسن خوبی انجام دئیے۔پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔