حیدرآباد میں گرفتار 16 مشتبہ افراد کی اننت گیری ہلز میں ٹریننگ!؟ ایس پی وقارآباد ضلع کوٹی ریڈی نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا

حیدرآباد میں گرفتار 16 مشتبہ افراد کی اننت گیری ہلز کے جنگلات میں ٹریننگ!؟
تحقیقاتی ایجنسیوں کے حوالہ سے میڈیا کے ایک گوشہ میں ہیجان انگیز خبریں
ایس پی وقارآباد ضلع نندیالا کوٹی ریڈی نے ان خبروں کو غلط قرار دیا

حیدرآباد/وقارآباد : 12/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام)

منگل 2 مئی کو مدھیہ پردیش اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (ATS#) اور تلنگانہ انٹلی جنس عہدیداروں کی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی انجام دیتے ہوئے 16 مشتبہ افراد کو اپنی تحویل میں لیا تھا۔جن میں 11 افراد کا تعلق مدھیہ پردیش سے اور 5 کا تعلق حیدرآباد سے بتایا گیا۔بعدازاں ان گرفتارشدہ مشتبہ افراد کو مدھیہ پردیش اے ٹی ایس کے عہدیداروں نے بھوپال منتقل کر دیا تھا۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق ان گرفتار کیے گئے افراد کے قبضہ سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، چاقو اور مشکوک لٹریچر ضبط کیا گیا ہے۔ بعدازاں مدھیہ پردیش سے میڈیا میں اطلاعات آئیں کہ گرفتار شدگان کا تعلق حزب التحریر (HUT#) سے ہے۔اور مدھیہ پردیش انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس)کےعہدیدار مبینہ حزب التحریر کے ان گرفتارشدہ ارکان کےموبائل فون اسکیان کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ان کے نیٹ ورک اور ساتھیوں کی تفصیلات حاصل کی جاسکیں۔مدھیہ پردیش اے ٹی ایس اس گروپ کو فنڈنگ کے ذرائع کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے اور موبائل فونس کو اسکیان کرکے ان کے تعلقات اور مزید تفصیلات حاصل کرنے میں مصروف ہے۔

حیدرآباد سے ان مشتبہ افراد کی گرفتاری کے واقعہ کے بعد سے چند مخصوص نیوز چینلوں،ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کی جانب سے تحقیقاتی ایجنسیوں کےحوالہ سے ہیجان انگیز سرخیوں کے ساتھ لگاتارمختلف دعوےکیے جارہے ہیں کہ گرفتار شدہ ملزمین نے اپنے منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کی غرض سے اننت گیری ہلز کے جنگلات میں ٹریننگ لی تھی۔!؟

ان رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیاجارہا ہے کہ ان مشتبہ افراد نے وقارآباد ضلع میں موجود اننت گیری ہلز میں دھماکہ خیز مادہ کی تیاری اور فائرنگ کی ٹریننگ حاصل کی۔اور ان کا حیدرآباد کے مالس،زیادہ ہجوم والےعوامی مقامات اور سرکاری عمارتوں پر دہشت گرد حملے کرنے کامنصوبہ تھا۔ایک ویب سائٹ کے دعویٰ کے مطابق ان گروپ کے ارکان نے تین مرحلوں میں اس پرعمل کرنے کامنصوبہ بنایا تھا۔اور اس کے لیے اپنا ایک یوٹیوب چینل بھی بنایا گیا تھا جس کے 3,600 سبسکرائبرز ہیں۔اور یہ سبسکرائبرز کون ہیں پولیس اس کا سراغ لگا رہی ہے۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کےحوالہ سے ایسی ہیجان انگیز خبروں سےحیدرآبادکے علاوہ تلنگانہ اور وقارآبادضلع کےعوام میں خوف کا ماحول پیداہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ اننت گیری ہلز ڈھائی ہزار ایکڑ جنگلاتی علاقہ پرمشتمل وقارآباد ضلع کا ایک پرفضاء سیاحتی مقام ہے۔جسے تلنگانہ کا اوٹی کہا جاتا ہے، یہ حیدرآباد سے 75 کلومیٹر اور وقارآباد ضلع مستقر سے 6 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود ہے۔

اس سلسلہ میں گذشتہ شام اور آج سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وقارآباد ضلع مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے دو پریس نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاہےکہ چند نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر چلنے والی” اننت گیری کے جنگلوں میں دہشت گردوں کو ٹریننگ” جیسی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ضلع ایس پی مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے کہا ہے کہ کوئی بھی ایسی غیر مصدقہ خبروں کوپھیلاکر عوام میں خوف پیدا نہ کریں۔

آج 12 مئی کو جاری کردہ اپنے پریس نوٹ میں ایس پی وقارآبادضلع مسٹر نندیالا۔کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے کہاہے کہ حیدرآباد سے قریب ہونے کے باعث سیاحتی مقام اننت گیری ہلز کو روزآنہ سینکڑوں افراد تفریح کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ان سیاحوں کے تحفظ کے لیے اننت گیری ہلز پر چیک پوسٹ قائم کیا گیا ہے اور لگاتار پولیس کی گشت جاری رہتی ہے، آنے جانے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔شراب پی کر گاڑیاں چلانے والوں کا ٹسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ہر گزرنے والی گاڑی پر پولیس کی ہمیشہ نگاہ رہتی ہے۔

ضلع ایس پی وقارآباد مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے کہا ہے کہ اننت گیری ہلز کے اطراف موجودمواضعات اور قریبی علاقوں میں پولیس کی جانب سے متواتر کارڈن اینڈ سرچ انجام دئیے جاتے ہیں اور علاقوں کی ناکہ بندی کرتےہوئے ان علاقوں میں آنےوالے نئے لوگوں پر گہری نظربھی رکھی جاتی ہے۔اسی طرح اننت گیری ہلز پر آنے جانے والے سیاحوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی نگاہ رکھی جاتی ہے۔اس علاقہ کی پولیس کی جانب سے خصوصی نگرانی کی جاتی ہے۔

اننت گیری ہلز ۔ Ananthagiri Hills

ایس پی وقارآبادضلع مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی آئی پی ایس نے اپنے بیان میں عوام سےخواہش کی ہے کہ وہ جھوٹی اور غلط خبروں پر یقین کرتے ہوئے خوفزدہ نہ ہوں اور خود کو غیر محفوظ نہ سمجھیں۔

ضلع ایس پی نے کہا ہےکہ عوام اس بات پرمکمل یقین رکھیں کہ ضلع پولیس ان کے تحفظ کےلیے ہمیشہ چوکس ہے۔ضلع ایس پی وقارآباد مسٹر نندیالا کوٹی ریڈی نے ایسی غلط اور جھوٹی خبروں کے ذریعہ عوام کو خوفزدہ نہ کرنے کی خواہش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملہ میں کسی کے پاس ثبوت وشواہد موجود ہوں تو وہ متعلقہ عہدیداروں کو فراہم کریں۔

دوسری جانب ایک مشہور تلگو نیوز چینل کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیاجارہا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کی دریافت میں معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ دنوں گرفتار 16 مشتبہ افراد حیدرآباد میں دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے اور خفیہ طریقہ سے اپنی شناخت چھپاتے ہوئے حیدرآباد کے پرانے شہر کےعلاقہ میں 18 ماہ سےمقیم تھے۔اوریہ افراد خفیہ طریقہ سے ڈارک ویب سائٹ،راکیٹ چیٹ اورتھیریما ایپ کےذریعہ ایک دوسرے سے چیٹ کیا کرتے تھے۔!