بُلّی بائی ایپ معاملہ
18سالہ شویتا سنگھ کو بمبئی پولیس نے تحویل میں لے لیا
اتراکھنڈ سے ممبئی منتقلی کرنے کی کارروائی جاری
حیدرآباد: 04۔جنوری (سحرنیوزڈاٹ کام)
ممبئی کی سائبر کرائم پولیس نے بلی بائی ایپ معاملہ میں آج منگل کے دن اتراکھنڈ میں 18سالہ شویتا سنگھ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایپ کی تیاری کی اصل سرغنہ شویتا سنگھ ہے۔
اس سلسلہ میں خبررساں ادارہ اے این آئی نے آج رات ٹوئٹ کرتے ہوئے اتراکھنڈ پولیس ہیڈ کوارٹر کے حوالے سے لکھا ہے کہ شویتا سنگھ کو ٹرانزٹ ریمانڈ پر ممبئی منتقل کرنے کے لیے رُدرا پور پولیس اسٹیشن میں دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان کاغذی خانہ پری جاری رہی ہے۔
یاد رہے کہ یکم جنوری کو انتہائی فحش اور نازیبا لفظ پرمشتمل” بُلی بائی ایپ” Bulli Bai App ” کے ذریعہ ملک کی زائداز 113 با اثر،عزت دار اور اپنے اپنے پیشہ میں ماہرمسلم خواتین بشمول صحافی و جہد کار لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرکے” ڈیل آف دی ڈے”کے آفر کے ساتھ ان کی نیلامی شروع کی گئی تھی۔
یکم جنوری کو ویسٹ زون سائبر کرائم پولیس اسٹیشن،ممبئی نے اس بلی ایپ اور اس کو پروموٹ کرنے والے گٹ ہب اور نامعلوم خاطیوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کرکے تحقیقات کے دؤران کل 3 جنوری کو بنگلورو سے وشال کمار نامی 21 سالہ نوجوان کو گرفتار کرکے ممبئی منتقل کیا تھا۔
آج ممبئی پولیس نے وشال کمار جو کہ سول انجینئرنگ کے دوسرے سال کا طالب علم بتایا گیا ہے کو باندرا کی عدالت میں پیش کیا جہاں سے اسے 10 جنوری تک کے لیے پولیس تحویل میں روانہ کردیا گیا۔
ممبئی پولیس کے مطابق اتراکھنڈ میں تحویل میں لی گئی شویتا سنگھ اور بنگلورو کا وشال کمار ایک دوسرے کے ربط میں تھے۔اور شویتا سنگھ تین ٹوئٹر اکاؤنٹس چلاتی تھی۔جبکہ گرفتار شدہ وشال سنگھ بھی ٹوئٹر پر خالصتان کے نام سے نقلی اکاؤنٹس بناکر بلی بائی ایپ کی تشہیر کررہا تھا۔ممبئی سائبر کرائم پولیس نے انٹرنیٹ آئی پی اڈریس کی مدد سے ان دونوں کا سراغ لگایا ہے۔
دوسری جانب انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ اس بلی بائی ایپ معاملہ میں ان دونوں کی گرفتاری پر سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمس پر ممبئی پولیس کی ستائش کی جارہی ہے۔اور ساتھ ہی چھتیس گڑھ پولیس کی بھی پیٹھ تھپتھپائی جارہی ہے کہ جس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور مسلمانوں کے خلاف نازیبا اور اہانت آمیز تقریر کرنے والے کالی چرن کو مدھیہ پردیش کے کھجوارہو سے گرفتار کیا تھا۔
جبکہ سوشل میڈیا پر ماہ جولائی میں اسی طرح کی ایک” سّلی ڈیلس ویب سائٹ ” کے خلاف دہلی پولیس میں درج کروائی گئی شکایت کے خلاف آج تک کارروائی نہ کرنے پر دہلی پولیس سے اور ہری دُوار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کے خلاف بھی آج تک کوئی کارروائی نہ کرنے پر اتراکھنڈ پولیس کے رول پر سوال اٹھائے جارہے ہیں!!

