آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی علماء اور دانشوروں سے ٹی وی چینلوں کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کرنے کی اپیل

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی علماء اور دانشوروں سے
ٹی وی چینلوں کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کرنے کی اپیل

نئی دہلی:10۔جون (پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)

ڈاکٹرمحمد وقارالدین لطیفی،آفس سکریٹری کی جانب سے آج 10 جون کو جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب،صدر بورڈ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی،نائبین صدر بورڈ حضرت مولاناسیدجلال الدین عمری صاحب،حضرت مولانا کاکاسعید احمد عمری صاحب،حضرت مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف صاحب،حضرت مولانا سید ارشدمدنی صاحب اور جناب ڈاکٹر سید علی محمد نقوی صاحب نے اپنے مشترکہ بیان میں علماء اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ٹی وی چینلوں کے مباحثوں اور ڈبیٹس میں شرکت نہ کریں جس کا مقصد محض اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک اور استہزا ہے۔

پریس نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ ان پروگراموں میں شرکت کرکے وہ اسلام اورمسلمانوں کی کوئی خدمت تو نہیں کرپاتے بلکہ بالواسطہ اپنی رسوائی اور اسلام و مسلمانوں کے استہزا کا سبب بن جاتے ہیں۔
ان پروگراموں کا مقصد بھی کسی تعمیری بحث کے ذریعہ کسی نتیجے تک پہنچنا نہیں ہوتا بلکہ محض اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑانا اور بدنام کرنا ہوتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اس پریس نوٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ نیوزچینلس اپنی غیرجانبداری ثابت کرنے کے لیے کسی مسلم چہرہ کو بھی اس بحث کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

ہمارےعلماء اور دانشور نادانستگی میں اس سازش کا شکارہوجاتے ہیں۔اگر ہم نے ان پروگراموں اورچینلس کا بائیکاٹ کیا تو نہ صرف اس سے ان کی TRP گھٹے گی بلکہ وہ اپنے مقصد میں بھی بری طرح ناکام ہو جائیں گے۔ (ختم شد)

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ چند سال سے ملک کے چند خودساختہ مولوی اور دانشوروں سے سوشل میڈیا کے ذریعہ مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ ان ٹی وی ڈیبیٹس میں شرکت نہ کریں جہاں انہیں ان کا موقف واضح کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی اور ان ڈیبیٹس میں حصہ لینے والے ان کی اور اسلام کے ساتھ مسلمانوں کی کھل کر لائیو پروگراموں میں بے عزتی کرتے ہیں حتیٰ کہ انہیں دہشت گرد تک کہتے ہیں لیکن ان ڈیبیٹس کے اینکر درمیان میں مداخلت نہیں کرتے۔خود میڈیا اور سوشل میڈیا کے حلقوں میں اسے”مرغوں کی لڑائی” کا نام دیا گیا ہے!!۔

اس کے خلاف فیاکٹ چیکر آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈ محمدزبیر بھی گزشتہ دنوں سے مہم چلارہے ہیں کہ آخر یہ نام نہاد مسلم رہنما، علما اور قائدین کیوں ان ڈیبیٹس میں حصہ لیتے ہوئے نفرتی پروپگنڈہ کو طاقت بخشنے کا کام کررہے ہیں؟

آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے کی گئی اس اپیل کی سوشل میڈیا پر جم کرحمایت کی جارہی ہے کہ”دیر آید درست آید”!!امید قوی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی یہ اپیل کارکرد ثابت ہوگی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے اردو، ہندی اور انگریزی میں یہ اپیل جاری کی گئی ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔