مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف بیروزگار نوجوانوں کا پرتشدد احتجاج، شمالی ہند کی کئی ریاستیں لپیٹ میں،ٹرینیں اور گاڑیاں آگ کی نذر

مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف
بیروزگار نوجوانوں کا پُر تشدد احتجاج،شمالی ہند کی کئی ریاستیں لپیٹ میں
ٹرینیں،گاڑیاں اور املاک آگ کی نذر،احتجاجیوں اور پولیس میں جھڑپیں

نئی دہلی: 16۔جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

مرکزی حکومت کی جانب سے مسلح فوج میں بھرتی کے لیے دودن قبل متعارف کی گئی”اگنی پتھ اسکیم”کے خلاف ملک کی افواج میں بھرتی کے خواہشمند نوجوانوں میں غصہ پھیل گیا ہے اور اس اسکیم کے خلاف دو دن سےریاست بہار میں جاری ان بیروزگاروں کا اگنی پتھ اسکیم کے خلاف جاری احتجاج بڑے پیمانے پر تشدد میں تبدیل ہوگیا ہے۔

اب یہ احتجاج بہار کے بعداترپردیش، ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ،جھارکھنڈlمدھیہ پردیش اور دہلی سمیت 10 ریاستوں میں پھیل چکا ہے۔

اس احتجاج کے دؤران بہار میں ٹرینوں میں آگ لگادی گئی۔اور بی جے پی دفاتر کو نذرآتش کردیا گیا،بسوں پر پتھراؤ کے ذریعہ شیشے توڑدئیے گئے جبکہ کئی گاڑیوں کو آگ کی نذر کردیا گیا،سرکاری اورخانگی املاک کوبھی نقصان پہنچایا گیا،سڑکیں جام کردی گئیں،احتجاجیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

ہریانہ کے پلوال ضلع میں فوج میں شامل ہونے کے خواہشمند امیدواروں کی جانب سے پتھراؤ اور تشدد کے بعد فون انٹرنیٹ اورایس ایم ایس خدمات 24  گھنٹے کے لیے معطل کردی گئی ہیں۔ہجوم کے حملہ اور گاڑیوں کوآگ لگانے کے بعد پولیس کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔ہریانہ پلوال کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر پتھراؤ؛ مرکز کی AgnipathRecruitmentScheme#کے خلاف احتجاج کرنے والے فوج کے امیدواروں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے گولیاں چلائیں۔

مشرقی وسطی ریلوے نے کہاہے کہ مظاہروں اور کئی ریلوے اسٹیشنوں پر توڑ پھوڑ کی وجہ سے،بہار سے 22 ٹرینوں کو منسوخ کرنا پڑا اور پانچ کو جزوی سفر مکمل کرنے کے بعد روک دیا گیاہے۔

لاٹھی بردار مظاہرین نے بہار کے بھبھوا روڈ ریلوے اسٹیشن پر انٹرسٹی ایکسپریس ٹرین کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئیے اور ایک کوچ کو آگ لگا دی۔”ہندوستانی فوج سےمحبت کرنے والے”کا بینر اور قومی پرچم پکڑے ہوئےاحتجاجیوں نے مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے تحت نئی بھرتیوں کی اسکیم کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف نعرے لگائے۔

نوادہ میں بی جے پی ایم ایل اے ارونا دیوی کی گاڑی پر جو عدالت جا رہی تھیں پرمشتعل افراد نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا،جس سے رکن اسمبلی سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔نوادہ میں بی جے پی کے دفتر میں بھی توڑپھوڑ کی گئی۔آرراہ کے ریلوے اسٹیشن پر پولیس کومظاہرین کے ایک بڑے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل کا سہارا لینا پڑا جنہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ریلوے عملہ کو آگ بجھانے کے لیے آگ بجھانے کے آلات کا استعمال کرتے ہوئے دیکھایا گیا ہے جو مظاہرین کی جانب سے پٹریوں پر فرنیچر پھینکنے اور انہیں آگ لگانے کی وجہ سے لگی تھی۔جہان آباد میں،طلباء نے پتھراؤ کیا جس میں متعددافراد زخمی ہوئے جن میں پولیس ملازمین بھی شامل ہیں جنہوں نے ان کا پیچھا کیا تھااور ریل کی پٹریوں کوصاف کرنے کے لیے جہاں انہوں نے ریل ٹریفک میں خلل ڈالنے کے لیے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔

ریلوے اسٹیشن کے ڈرامائی مناظر میں پولیس اور احتجاج کرنے والے طلباء کوایک دوسرے پر پتھراؤ کرتے دیکھاگیا۔پولیس ملازمین نےمظاہرین کو خوفزدہ بہار کے نوادہ میں، نوجوانوں کے گروپس نے روڈ سگنلس پر ٹائر جلائے اور اس اگنی پتھ اسکیم کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ انہوں نے نوادہ اسٹیشن پر ریلوے ٹریک کو بھی بند کردیا اور ٹریک پر ٹائر جلائے۔ جائے وقوع سے وائرل ہونے والے ویڈیوز میں ایک بہت بڑا ہجوم ریلوے کی املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے اور پی ایم مودی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔جب کہ پولیس پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے امن کی اپیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔جب اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو پولیس نے اپنی بندوقیں اس ہجوم کی جانب تان دیں۔

یہ تشددمنگل کے روز اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے ہندوستان میں 1.38 ملین مضبوط مسلح افواج کے لیے بھرتی کی بحالی کے لیے اگنی پتھ اسکیم کااعلان کیاجو فوج میں بھرتی ہونے والوں کی اوسط عمر کو کم کرنے اور پنشن کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

نیا نظام ساڑھے 17 سے 21 سال کی عمر کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو چار سالہ مدت کی ملازمت کے لیے ہوگا،ان سےصرف ایک چوتھائی (25فیصد) کے لیے طویل مدت کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔

قبل ازیں فوج میں بھرتی کے لیے فوج،بحریہ اور فضائیہ الگ الگ بھرتی کرتی تھیں اور وہ اپنی ملازمت کے 17 سال تک سب سے نچلےرینک کے لیے سروس میں داخل ہوتے ہیں۔

اب اس اگنی پتھ اسکیم کے تحت محض چار سال کی مختصر مدت ملازمت کا لزوم عائد کیا گیا ہے۔اس پر گزشتہ چار برسوں سے سینکڑوں ممکنہ بھرتیوں کا انتظار کرنے والے خواہشمند امیدوار اس مختصر مدت کی ملازمت کےخلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں اور مرکز کی بی جے پی حکومت کو ان غصے کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

” اگنی پتھ اسکیم” کے متعلق نامور صحافی ساکشی جوشی کی جانب سے پیش کردہ تفصیلات”

https://www.youtube.com/watch?v=h8aJHAN-8K8

ان نوجوانوں کاکہنا ہے کہ وہ مسلسل چار سال سے فوج میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کے جذبے کے تحت تربیت حاصل کررہے ہیں ایسے میں اس اگنی پتھ اسکیم کے تحت مختصر چار سالہ ملازمت انہیں قبول نہیں ہے۔جس میں 6 ماہ کی تربیت بھی شامل ہے۔نوجوان پوچھ رہے ہیں کہ جوانی میں ہی ملازمت سے "اگنی ویر” کا سرٹیفکیٹ لے کر ریٹائرڈمنٹ کا یہ فارمولا ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

اور جب چار سال بعد وہ ملازمت سےسبکدوش کردئیے جائیں گے تو ان پر وظیفہ یاب کا ٹھپہ لگ چکا ہوگا جبکہ اس اسکیم میں پینشن کی سہولت بھی موجود نہیں ہے تو وہ ملازمت سے عین جوانی میں ریٹائرد ہونے کا سرٹیفکیٹ لے کر کہاں ملازمت کہاں حاصل کریں گے؟ اور وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری نہیں رکھ پائیں گے۔

ان احتجاجی نوجوانوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اگنی پتھ اسکیم کی چار سالہ ملازمت کے دؤران اپنی تنخواہوں سے نہ اپنے گھر والوں کو کوئی فائدہ پہنچا پائیں گے،نہ بہنوں کی شادیاں کرپائیں گے،نہ قرضہ جات کی ادائیگی ہوگی اور نہ ہی وہ خوداپنی شادیاں کرپائیں گے!

ان احتجاجیوں کے جاریہ غصہ کو کم کرنے کی کوشش کرتےہوئے بی جے پی اقتداروالی تین ریاستوں کےچیف منسٹرز نے اپنے چار سالہ دور کے بعد نئے نظام کے تحت "اگنی ویرز” یا بھرتی ہونے والوں کو نوکریوں کا وعدہ کیاہے۔

ایسے موقع پر بی جے پی کےلیے یہ مشکل بڑھتی جارہی ہے کیونکہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو ایک بار پھر اس معاملہ میں ایک ہی طرف دکھائی دے رہے ہیں۔حکومت ہند کی جانب سے متعارف کردہ اس "اگنی پتھ” اگنی ویر اسکیم کے خلاف ملک کی اپوزیشن جماعتوں سمیت سماجی جہد کار اور فوج سے ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیدار بھی مختلف سوال کھڑے کررہے ہیں۔!

اس سلسلہ میں کانگریس لیڈر و رکن پارلیمان راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” نہ کوئی رینک،نہ کوئی پینشن،فوج میں دو سال سے براہ راست کوئی بھرتی ہیں ہوئی،چار سال بعد کوئی مستقبل نہیں،حکومت کے تئیں فوج کی کوئی عزت نہیں،ملک کے بیروزگار نوجوانوں کی آواز سنیں،انہیں’اگنی پتھ’ پر چلاکر ان کے ضبط کا اگنی پریکشا’ مت لیجئے،وزیراعظم۔

 

بی جے پی کے رکن پارلیمان حلقہ پیلی بھیت ورون گاندھی نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئےسوال کیا ہے کہ”حکومت بھی 5 سال کے لیےمنتخب ہوتی ہے۔پھر نوجوانوں کو صرف 4 سال ملک کی خدمت کا موقع کیوں؟

بہار اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر و سابق چیف منسٹر لالو پرساد یادو کے فرزند تیجسوی یادو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”اگر حکومت اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے کروڑوں بہادر جوان اور سپاہی خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگیں تو ملک کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟آر ایس ایس اور  بی جے پی کو یاد رکھیں،آپ کو قصوروارٹھہرایا جائے گا۔ملک کا ہر نوجوان پرم ویر چکر حاصل کرنے کی خواہش،جذبہ اور جگر رکھتا ہے۔انہیں اگنی ویر بناکر حوصلہ مت توڑئیے۔”

جبکہ سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا و بی جے پی لیڈر دیویندر فڈنویذ نے اپنا ایک ویڈیو ٹوئٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”چند لوگوں نے اگنی پتھ اسکیم کو غلط سمجھا!یہ باقاعدہ فوجی بھرتی کا متبادل نہیں ہے بلکہ ہمارےنوجوانوں کو تربیت دینے اور انہیں اپنی مادر وطن کی خدمت کا موقع فراہم کرنے کا ایک متبادل ہے۔

AgnipathRecruitmentScheme #Agniveer#