حیدرآباد کے پرانا شہر میں قتل کے واقعات میں اضافہ تشویشناک
وزیرداخلہ محمود علی نے اعلیٰ پولیس عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا
قتل اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت
حیدرآباد: 14۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام/پریس نوٹ)
حیدرآباد کے پرانا شہر میں قتل کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ پر ریاستی وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی نے آج جمعرات کو ایک پولیس عہدیداروں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔
جس میں حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر انجنی کمار،ایڈیشنل پولیس کمشنرمحترمہ شیکھا گوئل،ساؤتھ زون ڈی سی پی گجا راؤ بھوپال، ساؤتھ زون ایڈیشنل ڈی سی پی رفیق،چارمینار اے سی پی بھکشم ریڈی،فلک نما اے سی پی محمد ساجد، میرچوک اے سی پی این ستیہ نارائنا اور سنتوش نگر اے سی پی شیو رام شرماشریک تھے۔
اس موقع پر اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے وزیر داخلہ کو اپنے اپنے علاقوں کی کارگزاری رپورٹ پیش کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کروایا۔
تفصیلات سے واقفیت کے بعد وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو ملک بھر میں محفوظ مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ان حالات میں حیدرآباد کے پرانے شہر میں بڑھتی قتل کی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ اور ان واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیر داخلہ جناب محمدمحمودعلی نے ان پولیس عہدیداروں کو ہدایت دی کہ پرانے شہر کے محلہ جات اور گلی کوچوں میں مسلسل کارڈن اینڈ سرچ منظم کیا جائے اور چیکنگ پوائنٹس قائم کیے جائیں۔
پرانے شہر میں رات بھر کاروبار کرنے والوں کو روکا جائے مشکوک اور غیر سماجی افراد پر گہری نظر رکھی جائے،قتل کی وارداتوں اور دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کئے جائیں تاکہ پرانے شہر کے ماحول کو پر امن بنا یا جاسکے۔
ریاستی وزیر داخلہ نے پولیس عہدیداروں سے کہا کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ اس معاملہ میں کافی سنجیدہ ہیں۔وہ ریاست بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کو جرائم سے پاک ریاست بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔
وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی نے اس اعلیٰ سطحی پولیس عہدیداروں کے اجلاس میں کہا کہ تلنگانہ پولیس جب کسی مقصد کو حاصل کرنے کا ٹھان لیتی ہے تو اسے حاصل کرنے تک خاموش نہیں بیٹھتی،بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی ہے۔
اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوتی ہے لہذا حیدرآباد کے پرانے شہر میں جرائم کی شرح میں کمی اور ان کی روک تھام کو تلنگانہ پولیس ایک چیالنچ کے طور پر قبول کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام کو یقینی بنائے۔
جس پر متعلقہ پولیس عہدیداروں نے وزیر داخلہ جناب محمدمحمود علی کو تیقن دیا کہ وہ پرانے شہر حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں کمی لانے کے لیے تمامتر ممکنہ اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔

