حیدرآبادکے پرانے شہر میں دن دہاڑے
نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں بارکس کے ساکن ایک شخص کا بے رحمانہ قتل
حیدرآباد :13۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ریاست تلنگانہ بالخصوص دارالحکومت حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ شہریوں کے لیے پریشان کن ہے ۔ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی مقام بالخصوص پرانے شہر میں دن دہاڑے قتل کے علاوہ دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے عوام میں خوف کا ماحول ہے۔
آج حیدرآباد کے پرانے شہر میں ہی دن دہاڑے پرہجوم علاقہ میں چار نامعلوم حملہ آور مہلک ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہوئے ایک شخص کا انتہائی بے رحمانہ طریقہ سے قتل کرکے فرار ہوگئے۔

چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں،بنڈلہ گوڑہ،ہاشم آباد میں آج 13 اکتوبر کو پیش آئی اس قتل کی واردات میں مقتول کی شناخت حامد بن الزبیدی 37 سالہ،ساکن بارکس کی حیثیت سے کی گئی ہے جو کہ ملینیئم ٹراویلس اور ویسٹرن یونین منی ٹرانسفر کے کاروبار سے منسلک تھے۔
عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق تین تا چار نامعلوم افرد نے کار میں جارہے حامد بن الزبیدی کی کار کو روک دیا اور انہیں کار سے باہر کھینچ کر مہلک ہتھیاروں سے ان کا گلا کاٹ اور ان پر حملہ کردیا۔
اس طرح دن دہاڑے عوامی مقام پر قتل کی واردات پر وہاں موجود عوام خوفزدہ ہوکر ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔قتل کی واردات انجام دینے کے بعد حملہ آور وہاں سے فرار ہوگئے۔

اس نوجوان کے قتل کی وجوہات کا علم نہیں ہوپایا ہے اور نہ حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے۔
اس قتل کے واقعہ کی اطلاع کے فوری بعد چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے عہدیدار اور ساؤتھ زون ٹاسک فورس کے عہدیدار جائے مقام پر پہنچ گئے اور قاتلانہ حملہ میں شدید زخمی حامد بن الزبیدی کو عثمانیہ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد معائنہ ڈاکٹرس سے انہیں مردہ قرار دیا۔
بعد پنچنامہ پولیس نے نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم عثمانیہ ہسپتال کے مردہ خانہ منتقل کیا۔چندرائن گٹہ پولیس اس سلسلہ میں ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے تحقیقات میں مصروف ہے۔
حامد بن الزبیدی کے قتل کی اطلاع کے ساتھ بارکس میں شدید غم اور افسوس کی لہر دؤڑگئی ہے۔اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ قتل میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

