سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کے نام پر نوجوانوں سے لاکھوں روپئے وصول کرنے والا
خودساختہ آئی ایف ایس عہدیدارگرفتار،تین لاکھ 60 ہزار روپئے اور دیگر اشیا ضبط
ایس پی ضلع عادل آباد راجیش چندرا کی پریس کانفرنس،عوام دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں
عادل آباد:11۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
عادل آباد پولیس نے ایک نقلی آئی ایف ایس عہدیدار(انڈین فاریسٹ سرویس) اور اس کے معاون کو گرفتار کرلیا جو بھولے بھالے نوجوانوں کو سرکاری ملازتیں فراہم کرنے کا جھانسہ دیتے ہوئے ان کے پاس سے بڑے پیمانے پر رقم وصول کرنے میں مصروف تھا۔
اس جعلساز کے قبضہ سے پولیس نے تین لاکھ روپئے نقد رقم،جعلی تعلیمی اسناد،50 ہزار روپئے مالیتی کمپیوٹرس،پرنٹر س ، دو موبائل فونس اور دیگر اشیاضبط کرلی ہیں۔
اس سلسلہ میں آج ایس پی ضلع عادل آباد ایم راجیش چندرا نے گڈی ہت نور پولیس اسٹیشن میں گرفتار کیے گئے اس خودساختہ جعلساز آئی ایف ایس عہدیدار اور اس کے معاون اور ضبط شدہ رقم و اشیا کو پریس کانفرنس میں میڈیا کے روبرو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گڈی ہت نور منڈل، سوپان موتنور موضع کا ساکن پراچے موہن 29 سالہ ڈگری تک تعلیم کی تکمیل کے بعد ملازمت کی غرض سے حیدرآباد منتقل ہوا اور وہاں ایک خانگی پلاسٹک کمپنی میں ملازمت کرنے لگا۔

جلد دولت کمانے اور عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کا خواب دیکھتے ہوئے پراچے موہن آئی ایف ایس (انڈین فاریسٹ سرویس)کے عہدیدار کے طورپر خود کو تیار کرلیا اس کے بعد اس نے راماراؤ باغ، نرمل ضلع کے ساکن سیرلا نرسیا 42 سالہ جو کہ کمپیوٹراور زیراکس انٹر چلایا کرتا تھا سے دوستی کرتے ہوئے عوام کو جعلسازی اور دھوکہ دہی کے ذریعہ لوٹنے کا آغاز کیا۔
اس کے لئے پراچے موہن سوٹ بوٹ پہن کر ایک کرایہ کی کار میں گھومتے ہوئے عوام کے درمیان چند دن یہ باور کروایا کہ وہ آئی ایف ایس عہدیدار بن گیا ہے۔
زائد از ایک سال قبل پراچے موہن اپنے معاون سیرالا نرسیا کے ساتھ مل کر اپنے منصوبہ کے تحت گڈی ہت نور اور اندرا ویلی مواضعات کے سات بیروزگار نوجوانوں کو اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے انہیں محکمہ جنگلات میں بیٹ آفیسر اورسیکشن آفیسر کی ملازمتیں دلانے کا جھانسہ دیتے ہوئے ان سے 8 لاکھ 60 ہزار روپئے حاصل کرلئے۔بعدازاں ان نوجوانوں کو اپنی جانب سے تیار کئے گئے محکمہ جنگلات کے ہیڈکوارٹر سے جاری کردہ نقلی ملازمت پر تقرر اور ملازمت سے رجوع ہونے والے جعلی دستاویزات حوالے کئے۔
جب یہ نوجوان خوشی خوشی ملازمت پر رجوع ہونے کی غرض سے محکمہ جنگلات کے دفتر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ یہ تقرر نامے جعلی ہیں۔
ایس پی ضلع عادل آباد ایم راجیش چندرا نے بتایا کہ ان متاثرہ بے روزگار نوجوانوں میں سے ایک نیراڈی گونڈا تانڈہ کے ساکن جادھو دنیش نے گڈی ہت نور پولیس اسٹیشن میں اس کی شکایت درج کروائی جس کے بعد پولیس نے مکمل تحقیقات کے بعد مصدقہ ذرائع سے دستیاب اطلا ع کے بعد کل رات دونوں ملزمین موہن پراچے اور اس کے معاون نرسیا کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے مذکورہ بالا رقم اور دیگر اشیا ضبط کرلی گئیں۔
اس موقع پر ایس پی ضلع عادل آباد ایم۔راجیش چندرا نے بے روزگار نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے لئے باقاعدہ حکومتوں کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ہی ملازمتیں حاصل کریں اس طرح جعلسازوں اور دھوکہ بازوں کا شکار نہ ہوں۔

ضلع ایس پی نے کہا سائبر مجرمین بھی مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں ان سے بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔اور ایسے دھوکہ بازوں کی اطلاع 100 نمبر ڈائل کرکے دی جاسکتی ہے۔
ایس پی ضلع عادل آباد ایم راجیش چندرا نے زائد از دیڑھ سال تک اس کیس کی تحقیقات کے بعد ان دونوں جعلسازوں کی گرفتار ی پر سرکل انسپکٹر پولیس ایچوڑہ رمیش بابو، گڈی ہت نور اور نیرڈی گونڈا کے سب انسپکٹران پولیس ایل۔پروین اور بھارت سمن،اسسٹنٹ سب انسپکٹران پولیس ای۔چندرامولی،سید تاج الدین کے علاوہ دیگر ملازمین پولیس کی ستائش کی۔
اس پریس کانفرنس میں سرکل انسپکٹر پولیس ایچوڑہ رمیش بابو،گڈی ہت نور،نیراڈی گونڈا کے سب انسپکٹران پولیس ایل۔پروین اور بھارت سمن، اے ایس آئیزایل۔پروین،سب انسپکٹر سی سی ایس سید تاج الدین، گڈی ہت نور کے اے ایس آئی کاتھیلے رمیش اور پولیس جوان موجود تھے۔

