
شاعر : ڈاکٹر راہی معصوم رضا
اجنبی شہر کے اجنبی راستے ، میری تنہائی پر مسکراتے رہے
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے
٭٭
زہر ملتا رہا ، زہر پیتے رہے روز مرتے رہے ، روز جیتے رہے
زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی اور ہم بھی اسے آزماتے رہے
٭٭
زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا زندگی کی طرف ایک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں چوٹ کھاتے رہے ، گنگناتے رہے
٭٭
سخت حالات کے تیز طوفان میں گِھر گیا تھا ہمارا جنونِ وفا
ہم چراغِ تمنا جلاتے رہے ، وہ چراغِ تمنا بجھاتے رہے
٭٭ ٭٭ ٭٭ | | | ٭٭ ٭٭ ٭٭
” نامور غزل گلوکار اشوک کھوسلہ کی آواز میں یہ خوبصورت غزل "

