مطالبات نہیں مانے گئے تو 40 لاکھ ٹریکٹرس کیساتھ ہوگی ریالی
کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا انتباہ

Photo Courtasy : Dainik Bhasker
نئی دہلی : 4 فروری (ایجنسیاں/سحرنیوز ڈیسک) مرکزی حکومت کی جانب سے تین زرعی قوانین کی منظور کے بعد 9 اگست 2020ء سے بالخصوص پنجاب ، ہریانہ ، اتر کھنڈ ،اتر پردیش ، راجستھان اور دیگر شمالی ریاستوں کے بشمول مہاراشٹرا کے کسان ان زرعی قوانین کو مخالف کسان قراردیتے ہوئے احتجاج میں مصروف ہیں ۔بعد ازاں یہ احتجاجی کسان ہزاروں کی تعداد میں ان ریاستوں سے نکل کردہلی کی تین اہم سرحدات غازی پور، ٹکری اور سنگو کے بشمول دیگر مقامات تک پہنچ گئے اور ان ہائی وزیر پر گزشتہ71 دن سے سراپا احتجاج ہیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے کسانوں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے اب تک 12 مرتبہ مرکزی وزیر زراعت ، اعلیٰ عہدیداروں اور کسانوں کی زائد از 39 تنظیمو ں کیساتھ اجلاس منعقد کیے گئے ان میں وہ اجلاس بھی شامل ہے جس میں خود مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسانوں کیساتھ منعقد کیا تھا کہا جاسکتا ہے کہ یہ تما م اجلاس ناکام ہی رہے!
کسان تنظیموں کے قائدین کا مطالبہ ہیکہ تینوں زرعی قوانین کی مکمل منسوخی سے کم انہیں کوئی بھی چیز منظور نہیں ہے جبکہ حکومت نے ان قوانین میں ترمیم کا وعدہ کیا پھر بھی کسان تیار نہیں ہوئے بعد ازاں مرکزی حکومت نے کسان تحریک کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ان زرعی قوانین کو دیڑھ سال تک التواء میں رکھنے کا اعلان کیا لیکن کسان ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔

Photo Courtasy :Google Image/Malyalam Daily News
مرکزی حکومت کا سخت موقف اور کسانوں کے سخت تیور کے باوجود انتہائی پر امن احتجاج کی خبریں ملک اور بیرون ملک موضوع بحث بن گئی ہیں۔ جبکہ ملکی میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ ، بی جے پی اور دیگر زعفرانی تنظیموں کی جانب سے ان کسانوں کو دہشت گرد ، خالصتانی ، ملک کے غدار جیسے القابات سے بھی نوازا گیا اور انکے خلاف میڈیا اور سوشیل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پروپگنڈہ کیا جاتا رہا وہیں ملک اور بین الاقوامی سطح پر امن و حق پسند افراد کیساتھ ساتھ غیر جانبدار ملکی صحافیوں، دانشوروں اور وکلاء نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ کسانوں کے اس احتجاج کی تائید کا نعرہ بلند کیا۔

Photo Courtasy: Justkannada.in
اسی دؤران یوم جمہوریہ کے موقع پر 26جنوری کو دہلی میں کسانوں نے ٹریکٹر پریڈ کا انعقاد عمل میں لایا جسکے دؤران چند غیر سماجی عناصر لال قلعہ کے احاطہ میں داخل ہوگئے اور سکھوں کا مذہب پرچم لہرادیا جو کہ انتہائی قابل مذمت حرکت ہے بعد میں اس کا بھی انکشاف ہوگیا کہ اس مذہبی پرچم کو لال قلعہ کے احاطہ میں لہرانے کے پیچھے کو ن تھا! اس قابل افسوس اور قابل مذمت واقعہ کے بعد احتجاجی کسانوں میں شدید مایوسی پیدا ہوگئی تھی۔
سمجھا جارہا تھا کہ اب یہ احتجاج ختم ہوجائے گا لیکن 28 جنوری کی رات غازی پور سرحد پر بڑے پیمانے پر پولیس اور مختلف فورسیس کی تعیناتی ، منافرت پھیلانے والے گروہ کا غازی پور سرحد پر پہنچ کر ہنگامہ آرائی کرنا جہاں کسانوں کی تعداد انتہائی کم رہ گئی تھی ایسے میں کسانوں کے قائد راکیش ٹکیت میڈیا سے بات کرتے ہوئے انتہائی جذباتی ہوگئے

Photos Courtasy : Jansatta And Opindia
اور اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کیساتھ بلکتے ہوئے اپیل کردی کہ کسان جہاں کہیں ہوں فوری غازپور سرحد پہنچ جائیں اور وہ جب تک اپنے ساتھ پانی لیکر نہیں آئیں گے وہ احتجاج کے مقام پر ایک قطرہ پانی نہیں پئیں گے !
پھر کیا تھا دیکھتے دیکھتے اسی رات پنجاب ، یوپی ، ہریانہ اور دیگر مقامات سے ہزاروں کسان غازی پور کی سرحد پر ٹکیت کیلئے پینے کا پانی لے کر پہنچ گئے اس طرح اچانک بازی اُلٹ گئی اور جائے احتجاج سے فورس کو ہٹالیا گیا جبکہ اس رات اندیشہ تھا کہ راکیش ٹکیت کسی بھی وقت گرفتار کرلیے جاسکتے ہیں اور کسانوں کا احتجاج ختم ہوسکتا ہے! غازی پور پہنچنے والے سینکڑوں کسانوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اپنے قائد راکیش ٹکیت کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہی وہ دوبارہ واپس ہوئے ہیں ۔

Photo Courtasy : Deccan Herald
دوسری جانب اب مرکزی حکومت کیلئے یوپی ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش کے علاوہ دیگرریاستوں میں بڑے پیمانے پر ہورہیں کھاپ پنچاتیوں کے اجلاس اور ان میں کسان احتجاج کی تائید کا اعلان بھی شدید مشکلات پیدا کررہا ہے اب تک ملک بھر میں 28 پنچایتیں ہوچکی ہیں جن میں ہزاروں افراد کی موجود گی میں کسانوں کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے قسمیں اٹھائی گئی ہیں۔

Photo Courtasy : Twitter
یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دہلی کی سرحدات پر حکومت دیواریں کھڑی کرنے،آہنی تاروں اور کیلوں کی مدد سے حصار بندی میں مصروف ہے جس سے کسانوں کیساتھ ساتھ کھلے ذہن کے لوگوں میں بھی کئی شکوک و شبہات پیدا ہونے لگ گئے ہیں ساتھ ہی احتجاجی کسانوں کی تائید میں دن بہ دن اضافہ بھی ہورہاہے جوکہ حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی سمجھا رہا ہے۔

Photo Courtasy : Twitter
وہیں سوشیل میڈیا کے مشہور پلیٹ فارم ٹوئٹر پر بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکارہ ریہننا Rihanna کے بشمول ہیومن رائٹس واچ ، عالمی شہرت یافتہ ماحولیات کی جہد کار گریٹا تھن برگ ، جون کواسیک ، ہالی وڈ اداکارہ امینڈا کیرنی ، برطانیہ کے رکن پارلیمان کلوڈیا ویبئےاورامریکی نائب صدر کملا ہیرس کی بھیتجی مینا ہیرس اور دیگر کی جانب سے کسانوں کی تائید پر مشتمل ٹوئٹس نے مرکزی حکومت کیساتھ ساتھ اسکے حامیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کا باعث بنا ہوا ہے۔
شاید یہی وجہ رہی کہ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا کو ان ٹوئٹس کے خلاف پریس کانفرنس کرنی پڑی اور انہوں نے ہمیشہ کی طرح اسے کانگریس کے سابق صدر و رکن پارلیمان راہول گاندھی کو ذمہ دار قرار دیا اب مخالف حکومت اور موافق حکومت ٹوئٹر صارفین کے درمیان ٹوئٹر ، فیس بک اور انسٹا گرام پر زبردست نوک جھونک جاری ہےاور ہمیشہ کی طرح ان ٹوئٹس کوکانگریس ،مسلمان، پاکستا ن اور عرب ممالک سے جوڑکر واٹس ایپ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر پروپگنڈہ شروع کردیا گیا ہے! دوسری جانب سابق کرکٹر سچن ٹنڈولکر ،سابق کرٹرس انیل کمبلے ، یوراج سنگھ ، گوتم گمبھیر ، فلم اداکار اکشے کمار،اجئے دیوگن ، سنیل شیٹی، کرن جوہر ، لتا منگیشکر ، وراٹ کوہلی کے علاوہ بڑی تعداد میں کھیل اور فلمی صنعت سے وابستہ کھلاڑیوں اور اداکاروں نے بھی بڑے پیمانے پر ٹوئٹس کرتے ہوئے IndiaTogether اور IndiaAgainstPropoganda کے # ہیاش ٹیاگ کے ذریعہ حکومت اور ملک کی تائید میں ٹوئٹ کیے۔

Screen Shots : Twitter Accounts
اسی دؤران کسانوں نے ” 6 فروری کو بھارت بند ” کا اعلان کر دیا اورکسان مورچہ نے اعلان کیا ہےکہ6 فروری کو دوپہر 12بجے سے تین بجے تک پورے ملک میں چکّہ جام کیا جائے گا۔کسانوں کے بھارت بند سے عین قبل بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے لیڈر راکیش ٹکیت نے مرکزی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت نے کسانوں کے اہم مطالبات کو قبول نہیں کیا تو اس مرتبہ 40 لاکھ ٹریکٹروں کیساتھ ریلی نکالی جائے گی۔
کسان لیڈرراکیش ٹکیت نے کہاہے کہ ہم نے حکومت کو اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔ اگر حکومت نے ہما رے مطالبات کو قبل نہیں کیا تو ہم 40 لاکھ ٹریکٹروں کے ساتھ ملک گیرسطح پر ٹریکٹر ریلی کا انعقاد کریں گے۔ راکیش ٹکیت نے آج بھی اپنا وہی نعرہ دہرایا کہ "قانون واپسی نہیں، تو گھر واپسی نہیں”۔

Photo Courtasy : facebook Post
انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تحریک جلد ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ اکتوبر تک جاری رہے گی۔کسان لیڈرراکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ حکومت نے سڑکوں پر کیلیں ٹھوک دیں، نکیلے تار لگا دیئے، اندرونی سڑک کے رابطے منقطع کر دیئے، سمنٹ کی بندشیں کھڑی کردیں، انٹرنیٹ سرویس کو روک دیا اور بی جے پی کے حامیوں نے پرامن مظاہرہ کرنے والے کسانوں پر حملہ کیا۔

Photo Courtasy : 10tv
کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ 26 جنوری کی ٹریکٹر پریڈ کے بعد سے سینکڑوں کسان لاپتہ ہیں۔ کسان تحریک سے وابستہ کئی ٹوئٹر اکائونٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔راکیش ٹکیت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک پولیس کے ذریعہ کسانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند نہیں ہوگا ، گرفتارکیے گئے تمام کسانوں کی غیرمشروط رہائی عمل میں نہیں لائی جائے گی اس وقت تک زرعی قوانین پر حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

