وقارآباد ضلع پر”ایل نینو”کے اثرات: برسات میں مئی جیسی تپش، 25 فیصد کم بارش ریکارڈ، موسمِ سرما میں بھی راحت نہ ملنے کا امکان!

وقارآباد ضلع پر "ایل نینو” کے  اثرات: برسات میں مئی جیسی تپش
25  فیصد کم بارش ریکارڈ،موسمِ سرما میں بھی راحت نہ ملنے کا امکان!

حیدرآباد / وقارآباد: 09۔اکتوبر
(خصوصی رپورٹ۔سحر نیوز بیورو)

جب  برسات کے روایتی مہینوں میں  بادلوں کی گرج  چمک، بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کے بجائے ماہ اپریل اور مئی  جیسی جھلسا  دینے والی  دھوپ،  حبس اور خشک سالی کا سامنا ہو  تو یہ واضح اشارہ ہے کہ ہمارا موسمیاتی نظام کسی بڑے بگاڑ  کا شکار ہو چکا ہے۔

وقارآباد ضلع سمیت تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں حالیہ غیر معمولی گرمی، بادلوں کے غائب ہونے اور فصلوں کے خشک ہونے کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی مظہر "ایل نینو” (El Niño) ہے۔ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ سحر نیوز  کی اس تفصیلی رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ایل نینو اصل میں ہے کیا؟

وقارآباد ضلع جس میں چار اسمبلی حلقہ جات وقارآباد،  تانڈور،  پرگی اور کوڑنگل شامل ہیں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو  رہے ہیں اور آنے والے  دنوں میں عام شہریوں اور  کسانوں  کو کن بڑے چیلنجز سے   نبرد آزما ہونا پڑے گا۔!!

ایل نینو کیا ہے اور  یہ مانسون کو کیسے  برباد کرتا ہے؟

آسان فہم زبان میں ایل نینو ایک ایسا بحری اور فضائی عمل ہے جس میں بحرالکاہل (Pacific Ocean)  کا خطِ استوائی پانی غیر معمولی طور  پر گرم ہو جاتا ہے۔ سمندر کی اس اضافی حدت سے عالمی ہواؤں کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ جہاں اس کے سبب لاطینی امریکہ میں طوفانی بارشیں اور سیلاب آتے ہیں، وہیں برصغیر ہند و پاک بالخصوص جنوبی ہند  میں جنوب مغربی مانسون کا بہاؤ کمزور  پڑ جاتا ہے۔ بادل بارش برسائے بغیر گزر  جاتے ہیں اور  فضا میں خشک گرمی  پیدا ہو جاتی ہے۔

وقارآباد میں بارش میں 25 فیصد کمی، تالاب اور بورویلز خشک:
گذشتہ برسوں میں وقارآباد ضلع نے اوسط سے زیادہ بارشیں دیکھی تھیں، مگر رواں مانسون سیزن کی ایل نینو نے صورتحال یکسر  بدل دی، محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق ضلع میں مانسون سیزن 2026 کے دوران معمول کے 628.6  ملی میٹر  بارش کے مقابلہ میں اب تک محض 474.4  ملی میٹر بارش درج کی گئی ہے، جو اوسط سے تقریباً 25 فیصد کم ہے۔

زیرِ زمین پانی کا خطرناک گرتا معیار :  کم بارش کے براہِ راست اثر سے ضلع کے آبی ذخائر بھر نہیں پائے۔ زمینی پانی کی اوسط گہرائی گر کر  15.6 میٹر (تقریباً 51 فٹ سے زائد)تک پہنچ چکی ہے، جو ریاست کے چند انتہائی خشک اور تشویشناک اضلاع میں شمار ہوتی ہے۔
مقامی منڈلوں کی صورتحال:  تانڈور، دھارور، کوڑنگل، پرگی اور بشیرآباد کے  دیہاتوں میں روایتی کنویں اور زرعی بورویلز  جواب  دینے لگے ہیں، جس سے مویشیوں کے چارے اور  پینے کے پانی کی طلب بڑھ گئی ہے۔

خریف کا نقصان، اب ربیع کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟

وقارآباد کی معیشت کا زیادہ تردارومدار  زراعت پر ہے۔ بارش کی بے رخی نے کپاس، مکئی، سویا بین اور  دالوں کی خریف فصلوں کو پھول آنے اور  دانے بننے کے اہم مرحلے  پر نقصان پہنچایا ہے۔

ربیع سیزن کے خدشات: اگر  یہی صورتحال برقرار  رہی تو ربیع کے دوران گندم، جوار اور چنے کی بوائی کے لیے درکار زمینی نمی شدید کم رہے گی۔

سرکاری پیکیج اور تدابیر:   زرعی ماہرین کی سفارشات پر حکومت تلنگانہ نے متبادل لائحہ عمل کے تحت 802  کروڑ روپے کے ہنگامی اقدامات پر غور کیا ہے  تاکہ ڈرپ ایریگیشن (قطرہ قطرہ آبپاشی) اور کم پانی والی فصلوں (موٹا اناج اور  دالیں) کی کاشت کو فروغ  دیا جا سکے۔

بجلی کا بحران:  دیہی و شہری علاقوں میں دن رات پنکھوں، کولروں اور  زرعی موٹر پمپس کے مسلسل چلنے سے ریاست میں بجلی کی مانگ ریکارڈ  16,500 میگاواٹ کے سنگ میل کو چھو گئی ہے، جس نے سب اسٹیشنوں اور مقامی ٹرانسفارمرز  پر غیر معمولی بوجھ ڈال دیا ہے۔

کیا موسمِ سرما بھی گرم رہے گا؟ ماہرین کی پیشن گوئی:

محکمہ موسمیات اور عالمی آب و ہوا کے مانیٹرنگ اداروں کے مطابق ایل نینو کا موجودہ اثر فوری طور  پر ختم نہیں ہوگا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ  موسمی حالات  بتاتے ہیں کہ ایل نینو کا دباؤ جاریہ سال کے اواخر  تک عروج پر  رہے گا اور اس کا اثر  آئندہ سال کے  ابتدائی مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

سردی غائب ہونے کا اندیشہ: اس کے نتیجے میں وقارآباد ضلع میں روایتی کڑاکے کی سردی غائب رہنے کا خدشہ ہے۔ راتوں کا درجہ حرارت معمول سے 2  تا 3  ڈگری زیادہ رہ سکتا ہے، جبکہ جنوری و فروری میں قبل از وقت گرمی کی لہر محسوس کی جا سکتی ہے۔ مختصر لفظوں میں موسمِ سرما مختصر اور خشک گزرے گا۔

عوام کے لیے ہنگامی تدابیر:
موجودہ صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے احتیاطی اقدامات لازمی ہوگئے ہیں:

پانی کی ایک ایک بوند کی بچت: بورویلز اور تالابوں پر غیر ضروری انحصار روکیں؛  گھریلو سطح پر پانی کے ضائع ہونے پر فوری قابو پائیں۔
صحت کی حفاظت:  دن کی تیز دھوپ اور حبس کو معمول کی دھوپ نہ سمجھیں؛ باہر نکلتے وقت سر ڈھانپیں، او آر ایس، لیموں پانی اور صاف پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ لو لگنے اور  ڈیہائیڈریشن سے بچا جا سکے۔

برقی آلات کا کفایت شعارانہ استعمال: بجلی کا ضیاع روکیں تاکہ دیہی علاقوں میں زرعی فیڈرز پر اوورلوڈ اور ٹرانسفارمر جلنے کے واقعات کم ہوں۔

حالات بلاشبہ کٹھن ہیں، لیکن بہتر منصوبہ بندی، پانی کے منصفانہ استعمال اور ماحولیاتی شعور کے ذریعے ہی ہم اس موسمیاتی آفت کے اثرات کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔

" یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ میں اسکولوں کے لیے13روزہ دسہرہ تعطیلات کا اعلان

ارون کمار: کوئلے کی گرد سے کامیابی کی مسکراہٹ تک، لاری کیبن سے سوشل میڈیا تک کی شہرت کا سفر

وقارآباد: مکئی بیچنے والے نوجوان ہیرو بن گئے!  اننت گیری گھاٹ پر بس حادثے میں زخمیوں کو بچانے پر 25 ہزار کا انعام