پروین شاکر کے 72 ویں یوم پیدائش پر علامہ اعجاز فرخ کا خصوصی مضمون

مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سے

پروین شاکر کے 72 ویں یوم پیدائش پر علامہ اعجاز فرخ کا خصوصی مضمون
عالمی شہرت یافتہ شاعرہ کا کلام آج بھی سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے

حیدرآباد: 24۔نومبر
(سحر نیوز ڈیسک/خصوصی مضمون)

پروین شاکر 24 نومبر 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔انہوں نے انگریزی ادب اور لسانیات دونوں مضامین میں ماسٹر ڈگری حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ ایک ماسٹر ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں بھی حاصل کی تھی۔

سول سروسزز اختیار کرنے سے پہلے وہ 9 سال تک استاد کی حیثیت سے بھی جامعہ کراچی اور ٹرینیٹی کالج ( یو ایس اے سے منسلک) میں کام کرتی رہی تھیں۔1986ء میں سیکریٹری دوئم کی حیثیت سے سی بی آر اسلام آباد میں ان کا تقرر ہوا۔

پروین شاکر کے لیے ایک انوکھا اعزاز یہ بھی تھا کہ 1982ء میں جب وہ سینٹرل سپیرئیر سروسزز کے امتحان میں بیٹھیں تو اردو کے امتحان میں ایک سوال ان کی ہی شاعری کے متعلق تھا۔

پروین شاکر کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔لیکن 1993 میں اس شادی کا اختتام طلاق کی صورت میں ہوا۔1994ء میں وہ ایک کار کے حادثہ میں اسلام آباد میں جاں بحق ہوئیں۔ان کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام مراد علی ہے۔
ان کی پہلی کتاب “ خوشبو “ کو آدم جی ایواڈ سے نوازا گیا۔بعد ازاں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی ملا۔(بشکریہ: اردومحفل/فیس بک)

قارئین”سحرنیوز ڈاٹ کام” کی خدمت میں عالمی شہرت یافتہ شاعرہ پروین شاکرکے آج 72 ویں یوم پیدائش کے موقع پر حیدرآباد کے ممتاز و نامور تاریخ داں، شعلہ بیاں مقرر، صحافی، ادیب اور قلمکار حضرت علامہ اعجاز فرخ کا ایک شاہکارمضمون” پروین شاکرحصار رنگ میں” پیش ہے۔

طرزِ تحریر، علامہ اعجاز فرخ صاحب سے ایک دنیا واقف ہے۔جن کے ہر خیال کے پیچھے لفظ ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں کہ پتہ نہیں کب اور کہاں وہ استعمال میں آجائیں۔ علامہ صاحب اس مضمون میں بقلم خود رقم طراز ہیں: ”پروین شاکر کے ہاں الفاظ کا قبیلہ آنگن میں اُترنے پر آمادہ ہی نہیں تھا۔”یہ حقیقت ہے یا علامہ کا طرزِ بیان، اس کا اندازہ تو آپ مضمون پڑھ کر ہی لگا سکتے ہیں۔ اس تحریر کی زبان نثر کی ہے، شعر کی یا اسے نثری شاعری کہا جائے؟ اس فیصلہ کا دارومدار بھی ٓاپ جیسے سخن فہم و شناس قارئین پر ہے۔

ویسے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہےکہ شاعری کی دنیا میں کم وقت میں جتنی شہرت اور بلندی پروین شاکر کےحصہ میں آئی ہےشاید اس کا ایک عشر عشیر ہی کسی خاتون شاعرہ کے حصہ میں آیا ہو! حالانکہ کئی خاتون شعراء نے اس بلندی تک پہنچنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زوربھی لگایا۔

لیکن پروین شاکر آج بھی اپنے منفرد کلام کے باعث اسی مقام پر ہیں جہاں وہ اپنی زندگی میں مؤجود تھیں!! سوشل میڈیا کے اس دؤر میں پروین شاکر کا کلام عام اور مقبول ہے۔پروین شاکر کے کرب میں ڈوبے ہوئے لازوال کلام کے بارے میں یہاں تک کہا جاتا ہیکہ پروین شاکر کی شاعری ہر اس مشرقی خاتون کے دل کی ترجمانی اور اسکی زندگی کا ایک حصہ بن جاتی ہے جو یہ سمجھتی ہیکہ وہ جس چیز کی حقدار تھی وہ حق اسے آج تک نہیں مل پایا ہے!! بقول خود پروین شاکر:

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

خوشبو اُڑی اُڑی سی
پروین شاکر حصار رنگ میں "
علامہ اعجاز فرخ

پروین شاکر پر یہ مضمون لکھنے میں مجھے کئی برس لگ گئے،اس لiy کہ ان کے احساس کی ترجمانی کرنے والے لفظوں کا قبیلہ،میرے آنگن میں اترنے کے لیے فقط اس بات پر آمادہ نہ تھاکہ اس کو یہ گمان رہا کہ میرا شعور مرد اساس اور پدری نظام کے تسلط سے آزاد نہیں ہے۔میں بھلا کیسے سمجھ سکتا ہوں کہ عورت اپنے باطن میں دبی چھپی چاہتوں،جسم و جاں کی رفاقتوں اور عدم رفاقتوں،اپنے محبوب کو چاہنے اورچاہے جانے کی خواہش کےساتھ ساتھ،اپنے باطن کے تصادم میں سراپا انتظار بن جاتی ہے،اور جس کےلیے مرد اس کامحبوب بھی ہے اور مچلتاہوا بچہ بھی، انا کی کہر میں اٹے ہوئے روایتی مرد کو ہنستا ہوا دیکھنے کی خاطر عورت اس کی ہر ضد پوری کر دیتی ہے۔

شاید لفظوں کے اس قبیلے کا فیصلہ درست بھی تھا۔اس لیے کہ ساری ترقی پسندی کے بعد بھی روایت کی ساری تاریخ مرد اساس ہے۔ فلسفہ تہذیب،سماجی اور اخلاقی جتنے قوانین وضع ہوئے ہیں اس میں عورت کو کہیں بھی ایک وجود کی حیثیت سےتسلیم نہیں کیا گیا،بلکہ اسے ایک شئے یا Commodity کی حیثیت دی گئی، جسے "جوئے میں ہارا جاسکتا ہے،زندہ جلایا جاسکتاہے اور کنیزی کےپیرہن میں بیچا اور خریدا جاسکتا ہے۔”!

اس جذباتی اور حیاتیاتی تقسیم میں افلاطون سےلیکر فرائڈ اور یونگ جیسےماہرین نفسیات ہی نہیں،بلکہ اس مہم جوئی میں ڈیل کارنیگی جیسا ترقی پسند بھی نہ بچ سکا جو انسانوں میں توکجا جانوروں میں بھی نر کے تفوق کا علم بردار ہے۔

ہر دور میں وضع کردہ ضوابط کے بوجھ تلے جب عورت کی حیثیت چکناچور ہوتی رہی اور اس کا وجود ایک تابع مہمل سے زیادہ نہ رہا، تو لسانی جذبوں کی محرومی کو نرم و نازک اور تخلیقی آہنگ کا پیرہن اور قبائے گل رکھنے والا لفظوں کا قبیلہ ایک ایسی شاعری کو جو ہجر و صال کے لمحوں سے سرشار، پورے بدن کی انگڑائی کے اظہار سے ادا کیا جاسکے،کب میری پذیرائی قبول کرسکتا تھا وہ یہ سونچ کر مجھ سے گریز کرتا رہا کہ میں فراق کی شاعری کا چشمہ اپنی آنکھوں پر چڑھاکر،اسے ایک عظیم فن کار ثابت کرکے اس کے اندر کے آدمی کی چیخ کو صدیوں تک پہنچانے کا سامان تو فراہم کرسکتا ہوں۔

لیکن شاید ہی میری زبان سے کبھی یہ نکلےکہ فراق کی بیوی جو اس کی نظر میں بدصورت تھی،اس نےبھی تو ساری رات آنگن میں یہ سوچ کر گزاری ہوگی کہ کبھی تو نامراد آئے گا اور موسم گل اسی آنگن میں ٹھہر جائے گا۔

روپ کے نام سےلکھی ہوئی رباعیوں کی کھلی کتاب تکیہ پر رکھ کر سوتےہوئے میں نے کب یہ محسوس کیا ہوگا کہ اس ہجرنصیب عورت کو دکھ تو پورا ملا اور چاند آدھا اور پھر ہجر کی لمبی رات کے بعد سحر کے قریب یہ چاند میسر بھی آیا، تو بجھا بجھا سا۔

ثواب اور عذاب کے فلسفوں کے سراب نے نئی زمینوں کے کولمبس کے لیے مہم جوئی کے راستے تو کھول دیئے، لیکن وہ راستے جن پر جانے پہچانے قدموں کی چاپ سے دھڑکن بڑھ جاتی ہے ان راستوں کی ویرانی کے بعد بے قرار آنکھیں پتھر بن کر طاق میں رہ جاتی ہیں۔

سچ بھی کتنا مجبور ہوتا ہےکہ کوئی کیسے کہہ دے کہ کسی نے اسے چھوڑ دیا ہے، کوئی بدلتی ہوئی نظروں کو تو الزام نہیں دیتا،عورت خود ہی اپنی نظر سے گر جاتی ہے!!

میں سوچتی ہوں کہ مجھ میں کمی ہے کس شئے کی
کہ سب کا ہوکے رہا وہ، بس اِک مِرا نہ ہوا

نیم خوابی کا فسوں یوں بھی بڑی دیر میں ٹوٹتا ہے،لیکن اس رات تو نیند بہت گہری تھی،اتنی گہری جتنی سانس کے چلنے کی چبھن لگتا تھا ایوان تصور کے دریچہ پر کوئی دستک سی دیئے جاتا ہے۔دل نے یہ سوچ کے کروٹ بدلی کہ اجنبی ہوگا،صدا دے کے چلا جائے گا،اور پھر تیز ہواؤں کے ساتھ شہر ذات کی ساری کھڑکیاں کھل گئیں اور جو کھل نہ سکیں وہ ٹوٹ گئیں۔

ساری مہربانیاں ہوا کی تھیں،جو گریز پا لمحوں کےساتھ خوشبو کی لپیٹوں کو بکھیرتی چاند کی کرنوں کا خزانہ لیےان لفظوں کےقبیلے کو آخر کارمیرے دل کے آنگن تک لے آئیں۔

حیران آنکھیں، شبنمی رخسار اور اداس لیکن مونا لیزا جیسی دلکش مسکراہٹ رکھنے والی لفظوں کے قبیلوں کی یہ لڑکیاں،لگتا تھا کہ اپنےوجود کے طلسم خانے میں آئینہ کے کرچیوں میں اپنے عکس کو تلاش کرتے کرتے،اپنی انگلیاں لہولہان کر بیٹھی ہیں اور ان کو اس بات کا عرفان ہو چلا ہےکہ خوشبوؤں کی بیلیں اگر بدن سے لپٹ بھی جائیں،تو زرد بیلوں کا یہ جمال صورت صحاب نظر آنے کی رت،فقط بسنت بہار کی رت ہے، اس رت میں بھیگنے کے بعد پھر حصار رنگ سے رہائی دشوار ہوجاتی ہے۔

ہوا سے بڑھ کر بھلا کون منافق ہوگا جو سویرے پو پھٹنے سےپہلے شبنم کا پیرہن دے کر پھولوں کے رخسار چوم کر جگاتی ہے،تو شام ڈھلتے ڈھلتے اپنے تیز ناخنوں سے اس کی پنکھڑیاں بھی نوچ لیتی ہے۔

” اس کائنات رنگ وبو میں پروین شاکر کا وجود بھی ایک خوشبو تھا”ان کی تخلیقی رشتے کی عمر بیس بائیس سال سے زیادہ نہیں تھی یہ اور بات ہے کہ اتنی کم عمر میں ایک عورت کی حیثیت سے مرد کی نفسیات کو واضح کرنے کی معصوم سی کوشش،ان کے قاری پر حیرت کے کئی باب کھول دیتی ہے۔

تمام رات میرے گھر کا ایک در کھلا رہا
میں راہ دیکھتی رہی وہ راستہ بدل گیا

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا

لو میں آنکھیں بند کئے لیتی ہوں اب تم رخصت ہو
دل تو جانے کیا کہتا ہے، لیکن دل کا کہنا کیا

اسی امید میں ہر موج ہوا کو چوما
چھوکے شاید مرے پیاروں کی قبا آئی ہو

میرے مشاہدے اورمطالعہ کے اعتبار سے رومانی شاعروں میں کم عمری کی روایت اکثر رہی ہے،کیٹس،شیلی،بائرن ہو یا اختر شیرانی،شکیب جلالی یا سارہ شگفتہ،یہ سب اپنے احساس کی شدت کی بناء پر زندگی کی صعوبتوں اورکلفتوں کی تاب نہ لاسکے اور بعض نے تو بڑھ کر از خود موت کے پروانے پر اپنی دستخط ثبت کر دیئے۔

لیکن پروین شاکر کی شاعری میں زندگی کی علامتیں پھول،خوشبو،رنگ،تتلی،جگنو، پیڑ، بوٹا، کلی، چڑیا، چہک اور چہرہ جیسی نوخیز اور نودمیدہ علامتوں کی صورت میں موجود ہیں،جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کو زندگی سے بہت پیار رہا ہے،وہ زندگی کی ساری رعنائیوں کے ساتھ، اس کی کلفتوں کو بھی حیات کا جزو سمجھتی رہی ہیں: ؎

تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

شاخوں نے پھول پہنے تھے کچھ دیر قبل ہی
کیا ہوگیا قبائے شجر کیوں اتر گئی

خوشبو بھی اس کی طرز پذیرائی پر گئی
دھیرے سے میرے ہاتھ کو چھوکر گزر گئی

ایسا نہیں کہ پروین شاکر کی شاعری مرد کی فوقیت کےخلاف ایک مکمل احتجاج ہے،لیکن وہ عورت کومحض ایک جنسی علامت کےطور پراستعمال کے بجائے اس کے اندر پورا وجود پنکھڑی پنکھڑی بکھیر دیتی،اس جذباتی وجود کے مسلمہ حیثیت کا اقرار بھی چاہتی ہے، لیکن لطف یہ ہے کہ اس احتجاج میں بھی ایک ایسا جذبہ کارفرما ہے،جس کی اساس محبت پر ہے ؎

وہ آج بھی مجھے سوتے میں ڈسنے آئے گا
وہ جانتا ہے کہ کھلتا ہے مجھ پہ زہر کا رنگ

سپردگی کا نشہ ٹوٹنے نہیں پاتا
انا سما ہوئی ہے وفا کی بانہوں میں

وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جرم ہمارے نکلے

اردو ادب اور شاعری کا مزاج یہ بھی ہے کہ اظہار میں صیغہ سے صنف اور جنس کا پتہ چل جاتا ہے،محاوروں،روزمرہ اور تشبیہات کی وجہ سے اردو شاعری میں ریختی یا ریختہ کا حکم لگادیا جاسکتا ہے۔لیکن جب اظہار کا پیرایہ وسیع ہوجائے اور شاعری میں محض رومانی جذبوں کے اظہار کے پیرایہ میں صنف کی تخصیص باقی نہیں رہ جاتی تب یہ سیل رواں مروجہ نصابی سانچوں اور ساخت کو توڑتا ہوا،زمان و مکان کی حدود پر اثر انداز نظر آتا ہے۔

سنگینیوں کی دھوپ جب رنگ کجلانے لگی تو برفباری کے موسم میں اپنے ہی دروازے کی دہلیز جلاکر ہاتھ تاپنے کی رسم ایجاد کرنےوالےدھوپ کی حدت سے پناہ مانگنے لگے،لیکن بارش کوالزام دینے والوں کی زبان سے شاید کبھی یہ نہ نکلا ہو کہ اپنے شہر کا رنگ ہی کچا تھا۔

پروین شاکر اسی جرم کی ملزم ہے، جن کی شاعری کے آغاز میں تو شگفتہ غنچہ کی طرح تازہ خوشبو کی لہر ہے،لیکن صد برگ، خود کلامی اور انکار تک پہنچتے پہنچتے ہر انکار پر ان کے بدن میں ایک میخ کا اضافہ تو نظر آتا ہے،لیکن شبنمی رخساروں کے ساتھ وہ شکست خوردہ یا پشیمان لہجہ نظر نہیں آتیں۔ بدن پر ہر تازیانے کے بعد ان کے چہرہ پر نور کی ایک اور لکیر بڑھ جاتی ہے، جو پڑھنے والے کے باطن میں کئی سرخ لکیریں کھینچ جاتی ہے…؎

شجر کو سبز قبا دیکھ کر یہ الجھن ہے
کہاں پہ رنگ نمو ہے کہاں پہ زہر کا رنگ

کسی بستی میں ہوگی سچ کی حرمت
ہمارے شہر میں باطل بڑا ہے

پروین شاکر کا پورا کلام یوں تو عالمی سطح پر آج بھی مشہور و معروف ہے لیکن ان کے چنندہ اشعار یہاں پیش ہیں:

٭٭ کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
۔۔۔
٭٭ اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی
۔۔
٭٭ وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیا
برابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا
۔۔
٭٭ کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی
۔۔
٭٭ وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں
۔۔
٭٭ وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
۔۔
٭٭ پت جھڑ سے گلہ ہے نہ شکایت ہوا سے ہے
پھولوں کو کچھ عجیب محبت ہوا سے ہے
۔۔
٭٭ رکھا ہے آندھیوں نے ہی ہم کو کشیدہ سر
ہم وہ چراغ ہیں جنہیں نسبت ہوا سے ہے
۔۔
٭٭ ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا
۔۔
٭٭ بدلے جاتے ہیں یہاں روز طبیب
اور زخموں کی کہانی ہے وہی
۔۔
٭٭ ایک لمحے کی توجہ نہیں حاصل اس کی
اور یہ دل کہ اسے حد سے سوا چاہتا ہے
۔۔
٭٭ بھولا نہیں دل عتاب اس کے
احسان ہیں بے حساب اس کے
۔۔
٭٭ جو بات کہی نہیں تھی اس سے
لہجے میں کھنک رہی ہے اب تک

پروین شاکر کی چند غزلیں:

چلنے کا حوصلہ نہیں ، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اے میری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا تیرا حال کر دیا

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

ممکنہ فیصلوں میں ایک ، ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی، اس نے کمال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی ، پر شیشہ رو نے تو
شہر شہر کو میرا واقفِ حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری یہ کیا مجھ کو بحال کر دیا​

٭٭٭٭٭٭٭

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

٭٭٭٭٭٭٭٭

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی

٭٭٭٭٭٭٭

اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
مگر یہ دل تِری جانب سے صاف بھی نہ ہوا
تعلقات کے برزخ میں ہی رکھا مجھ کو
وہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ ہوا
عجب تھا جرم محبت کہ جس پہ دل نے مرے
سزا بھی پائی نہیں اور معاف بھی نہ ہوا
ملامتوں میں کہاں سانس لے سکیں گے وہ لوگ
کہ جن سے کوئے جفا کا طواف بھی نہ ہوا
عجب نہیں ہے کہ دل پر جمی ملی کائی
بہت دنوں سے تو یہ حوض صاف بھی نہ ہوا
ہوائے دہر ہمیں کس لیے بجھاتی ہے
ہمیں تو تجھ سے کبھی اختلاف بھی نہ ہوا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

‏عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی
جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی
میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی

٭٭٭٭٭٭٭

یارب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے
لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے
رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے
شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے
تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے
دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے
دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے
میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے
٭٭٭٭٭٭

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی
لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کس  طرح  مری   روح   ہری   کر گیا
آخر وہ  زہر  جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا

ویڈیوز،اشعار،غزلوں اور ویڈیوز کا انتخاب 
ترتیب و پیشکش : یحییٰ خان

Mail : khanreport@gmail.com

⬇️ Click
facebook.com/khanreport
      Instagram: @khan_yahiya276