ملک کی کئی ریاستوں میں کورونا کا قہر، مہاراشٹرا،مدھیہ پردیش،کیرالا،راجستھان اور پنجاب بری طرح لپیٹ میں

ملک کی کئی ریاستوں میں کورونا کا قہر، مہاراشٹرا،مدھیہ پردیش،کیرالا،راجستھان اور پنجاب بری طرح لپیٹ میں

کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن اور رات کے کرفیو کا نفاذ ، کورونا کی دوسری لہر سے عوام میں خوف کا ماحول

دہلی/راجستھان،پنجاب/مدھیہ پردیش : 21 مارچ (سحر نیوز ڈیسک)

اب جبکہ کل 22 مارچ کو لاک ڈاؤن کا ایک سال مکمل ہورہا ہے ایسے میں ملک کی کئی ریاستوں میں ایک سال کے عرصہ کے بعد دوبارہ کورونا وائرس کا قہر جاری ہے دہلی ، مہاراشٹرا ، پنجاب، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے بشمول ملک کی زائد از 8 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد میں دن بہ دن میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

ان میں سے سب سے زیادہ مہاراشٹرا ، کیرالا اور پنجاب ہیں۔ گزشتہ تین دن کے دؤران ان ریاستوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افرادکورونا سے متاثر ہوئے ہیں ،کورونا کے بڑھتے معاملات کے پیش نظر ریاستی حکومتیں سخت اقدامات کرنے میں مصروف ہیں۔

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال سمیت اندور اور جبلپور میں 17 مارچ سے رات کے کرفیو کیساتھ ساتھ اتوار کو بھی مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان اور اس پر عمل کا آج سے آغاز کردیا گیا ہے جو ہفتہ کی رات دس بجے سے پیر کی صبح 6بجے تک نافذ رہے گا۔
اس مدت کے دوران صرف ایمرجنسی خدمات جاری رہیں گی۔ اس کے علاوہ ان تینوں شہروں کے سرکاری اور خانگی اسکولوں میں 31مارچ تک تعلیم کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے تاہم اس مدت کے دوران طلبہ کیلئے آن لائن تعلیم کا نظم ہوگا۔

مدھیہ پردیش کے بھوپال میں آج لاک ڈاؤن کا منظر۔

ڈپٹی سکریٹری پرمود سنگھ نے اضلاع بھوپال ، اندور اور جبلپورکے ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو حکم جاری کیا ہے کہ کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ کی وجہ سے ان تینوں اضلاع کے تمام سرکاری اور خانگی اسکولس بند رکھے جائیں ۔ لیکن تمام قسم کے امتحانات ، بشمول مسابقتی امتحانات پہلے سے طئے شدہ شیڈول کے تحت ہی منعقد ہونگے۔

دوسری جانب کورونا سے سب سے زیادہ متاثر مہاراشٹرا کی حکومت نے ناگپور میں چند رعایتوں کیساتھ لاک ڈاؤن میں31 مارچ تک توسیع کردی ہے جہاں 15 مارچ سے لاک ڈاؤن جاری ہے، جبکہ گجرات اور پنجاب کے کئی شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ وہیں مہاراشٹرا کے پونے ، اورنگ آباد سمیت متعدد مقامات پر رات کا کرفیو پہلے ہی نافذ کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ دسویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات آف لائن منعقد کئے جائیںگے۔ اسی دؤران آج شام مہاراشٹرا حکومت نے ناندیڑ میں 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔

گجرات کے وزیر اعلی وجئے روپانی نے کہا ہے کہ گجرات میں دن کا کرفیو نافذ نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے ماسک کا استعمال اور ویکسین لینا ہی واحد راستہ ہے۔

واضح رہے کہ کورونا کی نئی لہر کے باعث حکومت گجرات نے احمد آباد ، بڑودہ ، سورت اور راج کوٹ میں 31 مارچ تک رات کا کرفیو نافذ کردیا ہے۔ سورت میں کورونا معاملات میں اضافہ کے پیش نظر رات کےکرفیو کا وقت بڑھا کر رات 9 بجے سے صبح 6 بجے تک کردیا گیا ہے۔
اسی طرح کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث حکومت نے راجستھان کے 8 شہروں میں رات کے کرفیو کے نفاذکا اعلان کردیا ہے۔

جن میں راجستھان کا دارالحکومت جئے پور کیساتھ ساتھ اجمیر ، بھیلواڑہ ، جودھ پور ، کوٹہ ، اودئے پور اورکوشل گڑھ شامل ہیں۔وزیر اعلی راجستھان اشوک گہلوت کی زیرصدارت کورونا کور گروپ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان شہروں میں رات کا یہ کرفیو کل 22 مارچ سے رات 10بجے سے صبح 5 بجے تک نافذ کیا جائےگا جسکے دؤران ہنگامی خدمات کے سوا تمام خدمات معطل رہیں گی۔

نائٹ کرفیو کی پابندی کا اطلاق ان فیکٹریوں پر نہیں ہوگا جہاں نائٹ شفٹ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ نیز ، آئی ٹی کمپنیاں ، ریستوراں ، دواخانہ، لازمی اور ہنگامی خدمات سے متعلق دفاتر وغیرہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوں گے۔

وہیں راجستھان کے دیگر شہروں میں کورونا وائرس کی روک تھام کی غرض سے رات 10 بجے تمام مارکیٹ بند رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف 25 مارچ سے راجستھان میں دیگر ریاستوں سے آنے والے تمام مسافرین کے لیے کورونا منفی رپورٹ کارڈ اپنے ساتھ لانا لازمی ہوگا منفی رپورٹ کے بغیر آنے والے مسافروں کو پندرہ دن تک قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔وہیں ریاست کے تمام ضلع کلکٹر ان اپنے اضلاع میں
کور نٹائن سینٹر کا نظام دوبارہ شروع کریں گے۔

ہوائی اڈوں ، بس اسٹانڈس اور ریلوے اسٹیشنوں پر بھی مسافروں کی کورونا جانچ ہوگی اس سے قبل یہ لزوم کیرالا ، مہاراشٹر ، گجرات ، پنجاب ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش میں لازمی تھا اب ملک کی تمام ریاستوں کے لیے لازمی کردیا گیا ہے۔جہاں کہیں بھی پانچ سے زیادہ پازیٹیومعاملات سامنے آئیں گے ریاست راجستھان میں ایک بار پھر منی کنٹینمنٹ زون کا نظام نافذ کیا جائے گا۔

اب ایسے حالات میں لازمی ہوجاتا ہے کہ کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے عوام احتیاطی اقدامات کو خود پر لازم کرلے۔