کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ، نامور شاعر و گیت کار ندا فاضلی کے یوم پیدائش پر خصوصی مضمون

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا

نامور شاعر و گیت کار ندا فاضلی کے یوم پیدائش پر خصوصی مضمون

ندا فاضلی اس دؤر کا وہ نامور شاعر جسے اس کے چنداشعار پر مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت زیادہ معتوب کردیا گیا تھا، دراصل ندا فاضلی کی ساری شاعری انسانیت اور انسانی پہلوؤں کے ارد گرد زیادہ گھومتی ہے۔ندا فاضلی کے چند اشعار ایسے تھے جسے مذہبی اور ادبی سطح پر علماء ، دانشواران اور ادبی شخصیتوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا جیسا کہ؎

گھر سے مسجد ہے بہت دُور چلو یوں کرلیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

اس شعر پر اس وقت مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت لے دے ہوئی تھی حتیٰ کہ کئی مشاعروں میں انہیں گھیرا جاتاتھاکہ اس شعر کی وضاحت کریں۔ اور اب بھی اکثر سوشل میڈیا پر اس شعر کو لکھنا معیوب اور مذہب بیزار مانا جاتا ہے۔!! پھر شروع ہوتی ہے طویل بحث!

ندا فاضلی ہی کے ہم عصر شاعر شکیل اعظمی نے اس شعر پر کہا تھا کہ ” یہ شعر انسان دوستی کا استعارہ نہیں بلکہ محض ایک اہم اور بنیادی مذہبی فریضہ سے انکار کی حیلہ تراشی ہے۔”

ندا فاضلی کے دیگر دو اشعار :

بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان

 اُٹھ اُٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گردوں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا

پر بھی اس وقت چوطرفہ تنقید ہوئی تھی اور اب بھی ہوتی ہے۔

ان سب تنازعات سے دور اردو اور ہندی دنیا کے اس عظیم شاعر ندا فاضلی کے سارے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ ان کے کلام میں انسانیت کا درد پنہا ہے،تقسیم ہند سے وہ قطعی اتفاق نہیں کرتے تھے۔ ندا فاضلی اپنے کلام اور اپنے انوکھے انداز سے مذہب کے نام پر فسادات، خون خرابہ، فرقہ پرستی پر مبنی سیاست، سیاست دانوں اور فرقہ پرستوں پر جم کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ان کا اصلی نام مقتداحسن تھا لیکن و ہ اپنے قلمی نام ندا فاضلی سے ہی مشہور ہوئے۔ان کی پیدائش 12 اکتوبر 1938ء کو مرتضیٰ حسن کے گھر دہلی میں ہوئی جو خود بھی شاعر ہوا کرتے تھے اور اس وقت کی ریاست گوالیار کے محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔چونکہ گھر میں شعر و شاعری کا چرچاتھا جس نے ندا فاضلی کے اندر لڑکپن سے ہی شعر گوئی کا شوق پیدا کردیا۔ندا فاضلی کی ابتدائی تعلیم گوالیار میں ہوئی اور انہوں نے وکرم یونیورسٹی اُجین سے اردو اور ہندی میں ایم۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ملک کی تقسیم کے بعد مہاجرین کی آمد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب ان کے والد کو گوالیار چھوڑنا پڑا اور وہ بھوپال آ گئے۔اس کے بعد انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کرلیا۔جس پر ندا فاضلی گھر سےبھاگ نکلے اور پاکستان نہیں گئے،گھر والوں سےبچھڑ جانے کے بعد ندافاضلی نے اپنی جدوجہد تنہا جاری رکھی اور اپنے وقت کو مطالعہ اور شاعری میں صَرف کیا۔

شاعری کی مشق کرتےہوئے انھیں احساس ہوا کہ اردو کےشعری سرمایہ میں ایک چیز کی کمی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح کی شاعری سننے سنانے میں تو لطف دیتی ہے لیکن انفرادی جذبوں کا ساتھ نہیں دے پاتی۔

یہیں سے ندافاضلی نے اپنا نیا ڈکشن وضع کرناشروع کیا۔تعلیم سے فراغت کےبعد انہوں نے چند دنوں تک دہلی اور دوسرےمقامات پر ملازمت کی تلاش میں ٹھوکریں کھائیں اور پھر 1964ء میں بمبئی چلے گئے۔

بمبئی میں شروع میں انہیں سخت جدو جہد کرنی پڑی۔انہوں نے دھرم یگ اور بلٹز جیسے رسالوں اور اخبارات میں کام کیا۔اس کے ساتھ ہی ادبی حلقوں میں بھی ان کی پہچان بنتی گئی۔وہ اپنے پہلے مجموعہء کلام” لفظوں کا پُل” کی بیشتر نظمیں،غزلیں اور گیت بمبئی آنے سے پہلے لکھ چکےتھے اور ان کی نئی آوازنےلوگوں کو ان کی جانب متوجہ کردیا تھا۔یہ کتاب 1971ء میں منظر عام پر آئی اور ہاتوں ہاتھ لی گئی۔وہ مشاعروں کے بھی مقبول شاعر بن گئے تھے۔

فلمی دنیا سے ان کا تعلق اس وقت شروع ہوا جب کمال امروہی نے 1983ء میں بنائی گئی اپنی فلم رضیہ سلطان (دھرمیندر،ہیما مالینی)کے لیے ان سے دو گیت لکھوائے۔دراصل اس فلم کےگیت جان نثار اختر لکھ رہےتھے تاہم اس دوران ان کا انتقال ہوگیا۔اس فلم میں ندا فاضلی کا لکھا اور خبن مرزا کا گایا ہوا گیت”آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے”مقبول ہوا،جسکے موسیقار خیام تھے اس فلم کی تاخیر سےریلیز کے دؤران ندا فاضلی کو بطور نغمہ نگار اور مکالمہ نویس مختلف فلموں میں کام ملنے لگا اور ان کی فاقہ مستی دور ہوتی گئی۔

بہرحال وہ فلموں میں ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، حسرت جئے پوری،مجروح سلطان پوری،گلزار،آنند بخشی اور دیگر گیت کاروں جیسی کامیابی یا مقبولیت حاصل نہیں کر پائے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ندا فاضلی نےفلموں میں ادب کا معیار برقرار رکھا۔ندا فاضلی نے بطور شاعر اور نثر نگار ادب پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔

لفظون کا پل کے بعد ان کے کلام کے کئی مجموعے، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، شہر تو میرے ساتھ چل، زندگی کی طرف، شہر میں گاؤں اور کھویا ہوا سا کچھ،شائع ہوئے۔ان کی نثری تحریروں میں دو سوانحی ناول”دیواروں کے بیچ” اور ” دیواروں کے باہر "کے علاوہ مشہور شعراء کے خاکے "ملاقاتیں” شامل ہیں۔ندا فاضلی کی شادی ان کی تنگدستی کے زمانہ میں عشرت نامی ٹیچر سے ہوئی تھی لیکن نباہ نہیں ہو سکا۔پھر مالتی جوشی ان کی رفیقہء حیات بن گئیں۔

ندا فاضلی نے 2003ء میں ریلیز ہونے والی فلم ” دھوپ” کے لیے ایک انقلابی گیت بھی لکھا تھا جو زیادہ مقبول نہیں ہوا جسے جگجیت سنگھ نے گایا تھا اس فلم میں اوم پوری، ریوتی، گل پنانگ نے اداکاری کی تھی وہ گیت یہ تھا :

ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
٭٭
رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی
ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو
٭٭
نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے
تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو
٭٭
حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں
حکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو
٭٭
بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو

" ندا فاضلی ایک مشاعرہ و کوی سمیلن میں کلام سناتے ہوئے "

" ندا فاضلی کے چند مشہور اشعار یہاں پیش ہیں "

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا
بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا
٭٭
کچھ لوگ یوں ہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
٭٭
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی
پھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
٭٭
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
٭٭
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے
٭٭
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
٭٭
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
٭٭
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
٭٭
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو
٭٭
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
٭٭
گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
٭٭
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
٭٭
اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا
ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا
٭٭
رشتوں کا اعتبار وفاؤں کا انتظار
ہم بھی چراغ لے کے ہواؤں میں آئے ہیں
٭٭
میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی
٭٭
پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے
اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں
٭٭
اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

ندا فاضلی نے 1981ء میں اسماعیل شراف کے ڈائرکشن میں بننے والی فلم ” آہستہ آہستہ "کے لیے ایک گیت ” کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا، کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا” لکھا تھا۔اس فلم کے موسیقار خیام تھے۔اس خوبصورت گیت کو بھوپیندر سنگھ اور آشا بھونسلے نے الگ الگ اپنی خوبصورت آوازیں دی تھیں اور یہ گیت آج بھی مقبول ہے۔

اسی طرح ندا فاضلی نے راج ببر، دیپک پراشر، رنجیتا، مدن پوری اور اوم شیوپوری کی اداکاری والی 1980ء میں بنائی گئی فلم” آپ تو ایسے نہ تھے” میں بھی گیت لکھے تھے۔اس فلم کاایک گیت” تُو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے،جہاں بھی جاؤں یہ لگتاہےتیری محفل ہے”  اس خوبصورت گیت کو محمد رفیع،منہر اُدھاس اور ہیم لتا کی آوازوں میں الگ الگ پیش کیاگیا تھا۔اوشا کھنہ نےاس فلم کی موسیقی دی تھی۔ یہ گیت بھی بہت مقبول ہواتھا۔اور آج بھی سوشل میڈیابالخصوص انسٹاگرام اور یوٹیوب پر اس خوبصورت گیت کے ریلز Reels# بہت زیادہ معروف ومقبول ہیں۔

ندا فاضلی نے 1999ء میں بنائی گئی فلم”سرفروش” کے لیے ایک غزل لکھی تھی” ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے، عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے۔” عامر خان،نصیر الدین شاہ اور سونالی بیندرے کی اداکاری والی فلم کی اس غزل کو جگجیت سنگھ نے اپنی مخملی آواز دی تھی۔جسے نصیر الدین شاہ پر فلمایا گیا تھا۔اس گیت کے موسیقار جتن للت تھے۔

ندا فاضلی کو جو شہرت مشاعروں اور ان کی لکھی ہوئی غزلوں سے حاصل ہوئی وہ فلموں سے نہیں مل پائی۔جگیجت سنگھ نے ندا فاضلی کی کئی ایک غزلوں کو اپنی آواز دیکر انہیں شہرت کی بلندی پر پہنچا دیا تھا۔

ہدایت کارمہیش بھٹ نے اپنی فلم” تمنا 1997”میں”گھر سے مسجد ہے بہت دور والے شعر پرمشتمل گیت کو استعمال کیاتھا۔جسے گلوکارسونو نگم نے اپنی آواز دی تھی۔اس فلم میں پریش راویل، پوجا بھٹ، منوج باجپائی شرد کپورنے اداکاری کی تھی۔جبکہ انو ملک موسیقار تھے۔

ندا فاضلی کو ان کی کتاب”کھویا ہوا سا کچھ”پر 1998 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔2013 میں حکومت ہند نے انہیں”پدم شری”کے اعزاز سے نوازا۔ جبکہ فلم” سُر” کے نغمہ” آ بھی جا، ائے صبح آ بھی جا”کے لیے انہیں اسکرین ایوارڈ ملا۔اس کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈیمیوں نے انہیں انعامات سے نوازا تھا۔ان کی شاعری اور دوہوں کا مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ندا فاصلی 8 فروری 2016ء کو قلب پر حملہ کے باعث انتقال کرگئے۔

ندا فاضلی کے انتقال پر اس وقت نامور صحافی جناب زین شمسی نے فیس بک پر ایک تعزیتی مضمون تحریر کیا تھا جو یہاں پیش ہے۔

ندا فاضلی صاحب
آپ جہاں گئے ہیں،وہاں بہت سارے معصوم بچے ہوں گے انہیں ہنسایئے گا ضرور۔
اردو شاعری کی ندا خاموش ہو گئی۔انتہائی سادگی سے معاشرہ کی شہ رگ پر چوٹ کرنے والا شاعر ندا فاضلی نہیں رہا۔دل،جذبات،عشق، معاشرہ، اصلاح، یکجہتی، امن اور فلسفہ زندگی کی آواز اب فضاؤں میں گونجے گی، وہ سامنےنہیں آئیں گے، لیکن ان کے نغمے دل و دماغ میں اپنی نغمگی بکھیرتے رہیں گے۔ملک الموت نے آپ کو ڈھونڈ لیا،مگر موت کے فرشتہ کی آہٹ سے تو آپ ہمیشہ چوکنا رہے اسی لیے تو آپ نے کہا تھا کہ
؎ جو مرا کیوں مرا جو لٹا کیوں لٹا جو جلا کیوں جلا
مدتوں سے ہیں گم ان سوالوں کے حل جو ہوا سو ہوا
آپ نے ہی کہا تھا کہ
؎ کبھی کسی کومکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا
لیکن آپ خوش قسمت تھے اس لیے آپ کو زمین بھی ملی اور آسمان بھی مل گیا۔دنیا کو آپ نے بچوں کا کھلونا جانا تھا،اس لیے آپ اسی مٹی میں مل گئے جس سے بنے ہوئے تھے۔

مگر ندا فاضلی صاحب آپ جہاں گئے ہیں وہاں سے مسجد بہت دور ہو گئی ہے کیونکہ آپ وہاں ہیں جہاں خدا ہی،ان کا گھرنہیں ہے۔آپ دور بنی ہوئی مسجد سے زیادہ بچوں کو ہنسانا ضروری سمجھتے تھے نہ؟۔آپ کو وہاں بہت سارے بچے ملیں گے۔فلسطین کے کئی ایسے پھول ملیں گے جن کو اسرائیلی شیطانوں نے خون میں نہا دیا۔

آپ کو وہاں پشاور کے آرمی اسکول کےبھی بچے ملیں گے،جن کی حیوانوں نےجان لے لی۔آپ کو دنیا کے بیشتر بچے ملیں گے جو سماج کے ظالم ہاتھوں کے شکار ہوئے۔آپ انہیں خوب ہنسایئے گا۔اب انہیں رونا نہیں چاہیے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
ہم سب تو ابھی یہاں ہیں، جہاں کے بارے میں آپ کہتے تھے۔
؎ کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے

آپ کے انتقال کا رنج دنیا کا ہر وہ آدمی منائے گا جو حساس ہے،لیکن موت ایک حقیقت ہے۔اللہ نےبھی غم سے آگے نکل کر اپنی دوسری ذمہ داریوں کو نبھانے کی تلقین کی ہے۔اس لیے آپ ہی کے مطابق کہ ؎
 اٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا
رات کے بعد دن آج کے بعد کل جو ہوا سو ہوا
اناللہ واناالیہ راجعون

ندا فاضلی کی وہ مشہور غزلیں جنہیں جگجیت سنگھ نے اپنی خوبصورت آواز دی تھی، جسے آج بھی سنا جاتا ہے :

٭ سفر میں دھوپ تو ہوگی چو چل سکو تو چلو "

٭ ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی، اپنی تنہائی کا خود شکار آدمی دنیا "

٭ دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے ،مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
٭ اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

” میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا  پیار "

” بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا ، جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا "

 

” اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں،رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں "

٭ اب خوشی ہے نہ کوئی درد رُلانے والا ، ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا

٭ اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا، وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

" ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا، میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا ” 

” گرج برس پیاسی دھرتی کو پھر پانی دے مولا ،چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا "

مضمون نگار، ترتیب و پیشکش : یحییٰ خان

Mail: khanreport@gmail.com

/https://www.facebook.com/khanyahiya276

/https://www.instagram.com/khan_yahiya276

https://www.youtube.com/@Yahiya_Khan276/shorts

https://twitter.com/khanyahiya

nidafazli#
birthabbiversarytribute#
specialarticle#