تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر این ڈی اے میں شامل ہونا چاہتے تھے ، میں نے انکار کر دیا، نظام آباد کے جلسہ میں وزیراعظم نریندر مودی کا سنسنی خیز انکشاف

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر این ڈی اے میں شامل ہونا چاہتے تھے، میں نے انکار کردیا
کے ٹی آر کو اقتدار منتقل کرنا چاہتے تھے، نظام آباد کے جلسہ میں وزیراعظم نریندر مودی کا سنسنی خیز انکشاف

حیدرآباد/نظام آباد: 03۔اکتوبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/نمائندہ)

وزیراعظم نریندر مودی نے آج سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کرناٹک کے انتخابات میں بی آر ایس پارٹی نےکانگریس کی جم کر مدد کی۔کانگریس اب اپنا قرض اتار رہی ہے ۔کیونکہ تلنگانہ کے عوام سے لوٹا ہوا بھرپور خزانہ کانگریس کو دے دیا گیا تاکہ وہاں کانگریس جیت جائے۔پھر اس سےمل کر تلنگانہ میں بی آر ایس جیت جائے۔

وزیراعظم نریندر مودی آج منگل کو تلنگانہ کے نظام آبادضلع میں بی جے پی کے ایک پرہجوم جناگرجنا جلسہ عام سےخطاب کرتےہوئے یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا۔انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ سچ بتادیں گے بتاؤں یا نہیں؟ جو پہلے کبھی نہیں بتائے۔انہوں نے کہا کہ وہ صد فیصد سچ آج بتا رہے ہیں۔ 

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی GHMC#) کے انتخابات میں بی جے پی کے 48 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی اور بی آر ایس پارٹی کو اقتدار حاصل کرنے کےلیے کارپوریٹرز کی ضرورت تھی تب وزیر اعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے دہلی پہنچ کر ان سے ملاقات کرتے ہوئے کہاتھاکہ آپ کی قیادت میں ملک ترقی کررہا ہے اور خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ مرکز میں بی جے پی اقتدار والی این ڈی اے حکومت میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اور حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں ہماری مدد کردیجئے۔

وزیراعظم نریندر مودی اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ سے کہا کہ آپ کے کارنامے ایسے ہیں کہ کوئی بھی آپ کے ساتھ جڑ نہیں سکتا ہے اور ہمیں اپوزیشن میں بیٹھنا منظورہے لیکن تائید نہیں کریں گے اور تلنگانہ کےعوام کےساتھ دغا نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کارپوریٹرز کی کامیابی تلنگانہ میں بی جے پی شروعات ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ انہوں نے وزیراعلیٰ کے سی آر کی تائید سے انکار کردیا اور این ڈی اے میں شامل کرنےسے بھی انکار کردیا۔وزیراعظم نریندر مودی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد سے وہ (کے سی آر)  دور بھاگنے لگے۔

ساتھ ہی وزیراعظم نریندرمودی نےنظام آباد کے اس جلسہ سےخطاب کرتےہوئےکہاکہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے دوبارہ ان سے ملاقات کی اور بولے کہ مودی جی میں نے بہت کام کر لیا اور اب میں سارا کاروبارکے ٹی آر (وزیراعلیٰ کے فرزند و ریاستی وزیر) کو سونپ دوں گا اور آپ کے پاس بھیجوں گا آپ ایک بار انہیں آشیرواد دیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اس وقت کہا کہ کے سی آر یہ جمہوریت ہے تم کون ہوتے ہو اپنے بیٹے کو راج پاٹ دینے والے؟ تم کوئی راجہ مہاراجہ ہو کیا؟ وزیراعظم نے کہاکہ تلنگانہ کے عوام طئے کریں گے کہ کس کو اقتدار دینا ہے اور کس کو نہیں دینا ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اپنےخطاب کے آغاز میں کہاکہ جی ایچ ایم سی کے انتخابات سےقبل وہ جب کبھی حیدرآباد آتے تو وزیراعلیٰ کے سی آر ان کا شاندار استقبال کیاکرتے تھے لیکن اس معاملہ کے بعد وہ ایسا نہیں کررہے ہیں اور وہی دن آخری تھا۔انہوں نے کہاکہ اب کے سی آر میں میری پرچھائی بھی دیکھنے کی ہمت نہیں بچی ہے،وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ کوئی بھی بدعنوانیوں میں ملوث شخص میرے بغل نہیں بیٹھ سکتا اس لیے بھاگ رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام میں بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے،جنہوں نے کورونا کی دوا ایجاد کی۔انہوں نے کہا کہ نواب نظام اقتدار چھوڑنے تیار نہیں تھے وہ گجرات کے فرزند سردار ولبھ بھائی پٹیل ہی تھے جنہوں نے انہیں بے دخل کیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو خاندانی سیاست اور اقتدار کی ضرورت نہیں ہے۔ہزاروں افراد نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر ریاست حاصل کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ منادر کی اراضیات پر قبضے کیے جارہے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے خلاف یہی اقدامات کیے جائیں گے۔؟ہندووں کی عبادت گاہوں کو ہندووں کو ہی چلانے کی اجازت دی جائے گی۔؟انہوں نے دعویٰ کیا کہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔اور غریب طبقہ معاشی ترقی کرتا ہے تو ملک بھی ترقی کرتا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام سے اپیل کی کہ تلنگانہ میں مزید پانچ سال تک لوٹ کھسوٹ اور عوام کو دھوکہ دینے کے لیے بی آر ایس اور کانگریس کوشش کررہے ہیں۔لہذا بی جے پی امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔انہیں عوام کے قدموں میں رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں "

تلنگانہ کے سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری، پی آر سی کمیٹی کی تشکیل ، حکومت کی جانب سے 5 فیصد عبوری معاوضہ کا فیصلہ

PrimeMinister#
NarendraModi#
Nizamabad#
Telangana#
speech#
TelanganaBJP#