چین میں 13 سالہ طالبہ نے موبائل گیمز پر 52 لاکھ روپے
خرچ کرتے ہوئے خاندان کا بینک اکاؤنٹ خالی کردیا
حیدرآباد: 07/جون
(سحرنیوز/سوشل میڈیا ڈیسک)
کورونا وباء کے آغاز کے بعد سے بالخصوص طویل لاک ڈاؤن کے دؤران اسمارٹ فونس،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال اور بچوں میں آن لائن گیمز کھیلنے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تاہم افسوس کی بات یہ ہےکہ زیادہ تر بچے اپنے والدین کے موبائل فونس کے ذریعہ ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادت میں مبتلا ہوگئے ہیں یا پھر بڑوں کی طرح کم عمر نوجوانوں اور بچوں کے لیے بھی اب موبائل فونس لازمی ہوگئے ہیں۔
وہیں پہلے مفت گیمزکے نام پر اب موبائل فونس پر زیادہ تر ویڈیوگیم کمپنیاں ان بچوں سےبڑی مقدارمیں رقم کھینچنے میں مصروف ہوگئی ہیں اب باقاعدہ یہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
اگر آپ اپنےموبائل فونس کےذریعہ نیٹ بینکنگ،گوگل پے،فون پے یا کوئی اور منی ٹرانسفر ایپ استعمال کرتےہیں تو اب آپ کوسخت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔اور اپنے منی ٹرانسفر ایپ وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہیں ساتھ ہی اپنے بینک بیلنس پر بھی گہری نظر رکھیں جس میں ان ویڈیو گیمز کے ذریعہ اضافہ تو ناممکن ہے،لیکن آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی ہوجانے کا خطرہ ضرور ہے۔کیونکہ گیم کھیلنے کے دوران زیادہ تر کمپنیاں گیم کے درمیان رقم کی منتقلی کا آپشن دے دیتی ہیں اور بچے بے خیالی یاغفلت میں اس آپشن کو اوکے Ok کر دیتے ہیں۔اس طرح بناء کسی اطلاع رقم منتقل ہوجاتی ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک حیرت انگیز رپورٹ کےمطابق چین میں ایک 13 سالہ طالبہ نےچار ماہ میں آن لائن گیمنگ پر 449,500 یوآن (52,19,809 روپے) خرچ کرکے اپنے خاندان کی بچت کا صفایا کر دیا۔وسطی چین کے صوبہ ہینان سے تعلق رکھنے والے ایک ثانوی اسکول کی نامعلوم طالبہ کو گھر میں اپنی والدہ کا ڈیبٹ کارڈ ہاتھ لگ گیا تھا اور اس لڑکی نے گیمنگ کی لت میں مدد کے لیے اس کارڈ کو استعمال کیا۔
جب لڑکی کی ٹیچر نے دیکھا کہ وہ اسکول میں اپنے فون پر بہت زیادہ وقت گزارتی ہے تو اس نے شک کیا کہ لڑکی آن لائن پے ٹو پلے گیمز کی عادی ہو سکتی ہے۔ٹیچر نے اس لڑکی کی ماں کو اس بارے میں خبردار کیا۔جس نے اس کا بینک اکاؤنٹ چیک کیاتو یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا۔ ایلیفنٹ نیوز کے مطابق اس کی ماں وانگ کے بینک اکاؤنٹ میں صرف 0.5 یوآن (5 روپے) باقی تھے۔
چین میں وائرل ہونے والے اس واقعہ کے ایک ویڈیو میں آنسو بہاتی خاتون کو موبائل گیمز کے لیے ادائیگیوں کی تفصیلات بینک اسٹیٹمنٹ کے صفحات دکھاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
جب لڑکی کے والد نے اس سے اتنی کژییر رقم کے اخراجات کے متعلق پوچھا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے گیمز خریدنے پر 120,000 یوآن (13,93,828 روپے) اور 210,000 یوآن (24,39,340 روپے) اندرون گیم خریداری کے لیے خرچ کیے ہیں۔اس لڑکی نے اپنے کم از کم 10 ہم جماعتوں کے لیے گیمز خریدنے میں مزید 100,000 یوآن (11,61,590 روپے) بھی خرچ کیے تھے۔
اس لڑکی نے اپنے والدین کو بتایاکہ میرے انکار کے باوجود جب انہوں نےمجھ سے اپنے کھیلوں کے لیے درخواست کی تو میں نے ادائیگی کی۔
اپنے خاندان کی ساری بچت اڑانے والی والی اس لڑکی نے دعویٰ کیاکہ وہ پیسے اور اس کی اصلیت کے بارے میں بہت کم جانتی ہے۔ اس لیے جب اسے گھر پر ڈیبٹ کارڈ DebitCard# ملا تو اس نے اسے اپنے اسمارٹ فون سے جوڑ دیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کی والدہ نے اسے کارڈ کا پاس ورڈ دیا تھا تاکہ جب وہ اس کے ساتھ موجود نہ ہوں اور اسے پیسوں کی ضرورت پڑجائے تو وہ کارڈ کام آجائے۔
ماں کےمطابق اس کی بیٹی نے اپنے اسمارٹ فون پرموبائل گیم کے تمام لین دین کے ریکارڈ کو بھی ڈیلیٹ کردیاہے۔سب کوچونکا دینے والے اس واقعہ کی تفصیلات چین میں سوشل میڈیا ویب سائٹس پر وائرل ہوگئی ہیں۔سوشل میڈیاصارفین اس بات پرمنقسم ہیں کہ اس کےلیے کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔؟
اسمارٹ فون کی لت کے بارے میں میک گل یونیورسٹی کے 2022 کے تجزئیے کےمطابق اس کے عادی افراد کی اکثریت چین میں ہے، اس کے بعد سعودی عرب اور ملائیشیا کا نمبر آتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈسمبر 2021 میں ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں ایک ایسا ہی چونکا دینے والا واقعہ منظر عام پر آیا تھا۔جہاں ایک نواسہ نے اپنے نانا جوکہ ایک سابق سب انسپکٹر پولیس ہیں کےموبائل فون کو آن لائن کلاسیس کےدؤران استعمال کرتےہوئے ان کےبینک اکاؤنٹ میں موجود ساڑھے 11 لاکھ روپئے کی خطیر رقم ویڈیو گیمس پر لگادی تھی۔
تاہم خوش قسمتی سے سائبر کرائمز وِنگ،سائبر آباد پولیس، حیدرآبادنے پانچ ماہ تک لگاتار تعاقب کے بعد سنگاپور میں موجود اس ویڈیو گیم کمپنی کے پاس سے نانا کو ان کی مکمل رقم واپس دلوائی تھی۔
یاد رہے کہ اس طرح کے کئی واقعات پیش آرہے ہیں بعض والدین پولیس سےشکایت کرتےہیں تو زیادہ تر بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کےبعد خاموش ہو جاتے ہیں کہ گئی ہوئی رقم واپس نہیں آسکتی۔!
لیکن سائبرکرائم پولیس میں ایسی کسی بھی آن لائن دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی جاسکتی ہے اوریہ ممکن بھی ہےکہ آپ کی رقم دوبارہ آپ کو واپس مل جائے جیسا کہ سابق سب انسپکٹر پولیس کے اس واقعہ میں ہوا تھا۔
حیدرآباد میں پیش آئے اس واقعہ کی مکمل تفصیلات اور ویڈیو سحر نیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر "
حیدرآباد: نواسہ نے آن لائن گیم کھیل کر اپنے نانا وسابق ایس آئی کابینک اکاؤنٹ خالی کردیا،سائبر کرائم پولیس نے 11لاکھ روپئے واپس دلوائے

