کرن رجیجو کو وزارت قانون سے ہٹاکر وزارت ارتھ سائنس کی ذمہ داری تفویض، ارجن رام میگھوال نئے وزیر قانون

کرن رجیجو کو وزارت قانون سے ہٹاکر وزارت ارتھ سائنس کی ذمہ داری تفویض
ارجن رام میگھوال نئے وزیر قانون، کانگریس نے کرن رجیجو کو ناکام وزیر قرار دیا 
نئے وزیر قانون کے کوویڈ سے تحفظ کے لیے پاپڑ کی تشہیر والے پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل

نئی دہلی : 18/مئی
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

نریندر مودی حکومت نے آج اپنے ایک حیران کن اقدام کے ذریعہ مرکزی وزیر قانون کرن رجیجو کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا ہے اور ان کے مقام پر ارجن رام میگھوال کو ملک کا وزیر قانون مقرر کیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال کو ان کی دیگر ذمہ داریوں کے علاوہ قانون و انصاف کی وزارت کے آزادانہ چارج کے ساتھ وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔جبکہ کرن رجیجو کو وزارت ارتھ اینڈ سائنس کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔

اس سلسلہ میں راشٹرپتی بھون کے ایک مکتوب میں وزراء کی ذمہ داریوں میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے۔وہیں مملکتی وزیر قانون ایس پی سنگھ بگھیل کو مملکتی وزیر وزارت صحت میں منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی وزارت قانون میں یہ حیرت انگیز تبدیلی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ عدلیہ اور مرکز تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔!!

اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنےکے بعد مسٹرارجن رام میگھوال جن کا تعلق راجستھان سے ہے نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتےہوئے کہاکہ ایگزیکٹو اور عدلیہ کا آپس میں خوشگوار تعلق ہے،یہ خوشگوار اور آئینی طور پر قائم رہے گا۔دونوں کے درمیان سرحدیں پہلے سے موجود ہیں۔

وزارت کی تبدیلی کے بعد کرن رجیجو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ” عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی رہنمائی میں قانون اور انصاف کے مرکزی وزیر کے طور پر خدمات انجام دینا ایک اعزاز کی بات ہے۔میں ہمارے شہریوں کےلیے انصاف کی آسانی فراہم کرنے اور قانونی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں زبردست تعاون کے لیےعزت مآب چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ،سپریم کورٹ کے تمام ججوں، ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں اور ججوں،نچلی عدلیہ اور قانون کے تمام افسران کاشکریہ ادا کرتاہوں۔” 

51 سالہ کرن رجیجو جن کا ارونا چل پردیش سے تعلق ہے تین مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔مرکز میں بی جے پی کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہوں نےوزارت کھیل،ممکتی وزیر داخلہ کےطور پر بھی خدمات انجام دیں۔جولائی 2021 میں انہیں مرکزی وزیر قانون بنایاگیا تھا۔

چند ماہ قبل کرن رجیجو نےحیرت انگیز طورپر ججوں کے تقررات والے کولیجیم سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں غیر جانبداری نہیں ہوتی۔انہوں نے کہاتھا کہ وہ اس کےخلاف نہیں ہیں لیکن عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے اور ضروری ہے کہ اس سسٹم میں تبدیلی کرتے ہوئے حکومت کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔اس سلسلہ میں انہوں نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوبات بھی لکھے تھے۔

کرن رجیجو نے بحیثیت وزیر قانون جاریہ سال ماہ مارچ میں ایک میڈیا پلیٹ فارم پر یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ چند ریٹائرڈ جج جو سرگرم سماجی کارکن بھی ہیں بھارت مخالف گینگ کا حصہ ہیں،جو عدلیہ کو حکومت کے خلاف کرنے کی جانب راغب کررہے ہیں۔رجیجو نے کہاتھا کہ تین یا چار ریٹائرڈ  جج ہو سکتے ہیں جو سرگرم ہیں اور ہندوستان مخالف گروہ کا حصہ ہیں۔یہ لوگ ہندوستانی عدلیہ کو اپوزیشن پارٹی کا کردار اداکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے انتباہ بھی دیا تھا کہ ایسے ججوں کو بخشاء نہیں جائے گا اور سزاء دی جائے گی۔

عدالتوں اور ججوں کےخلاف وقفہ وقفہ سے کرن رجیجو کے ان ریمارکس کےخلاف ملک کی کئی ریاستوں کےوکلاء کی تنظیموں نےشدید اعتراض جتایاتھا۔بعدازاں بامبے لائرز اسوسی ایشن نے باقاعدہ کرن رجیجو کےخلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی۔جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کرن رجیجواپنے بیانات کے ذریعہ دستور،ججوں اور قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

وکلاء تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ کرن رجیجو کو ان کے عہدہ سے ہٹایا جائے۔تاہم سپریم کورٹ نے کرن رجیجو کے بیانات کا جائزہ لینے کا تیقن دیتےہوئے اس پٹیشن کی سماعت سے انکار کردیا تھا۔اس طرح کولیجیم سسٹم،سابق ججوں اور عدالتی فیصلوں کے خلاف الزامات مرکزی حکومت کے لیے مصیبت کا باعث بن رہے تھے مانا جارہا ہے کہ انہی وجوہات کے باعث کرن رجیجو کو وزیر قانون کی وزارت سے الگ کر دیا گیا ہے۔؟

کرن رجیجو کو مرکزی وزیر قانون کی حیثیت سے ہٹائےجانے کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر وکیل و رکن راجیہ سبھا کپل سبل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھاہے کہ "کرن رجیجو: قانون نہیں۔اب وزیر برائے ارتھ سائنسز،قوانین کے پیچھے سائنس کوسمجھنا آسان نہیں ہے۔اب سائنس کےقوانین سے نمٹنے کی کوشش کریں گے۔گڈ لک میرے دوست! "

جبکہ کانگریس کے رکن پارلیمان مانیکم ٹیگور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرن رجیجو کا ایک ناکام وزیر قانون تھے اور ان کےعدلیہ سے ہمیشہ تنازعات رہے۔

دوسری جانب نئے وزیر قانون مسٹر ارجن رام میگھوال کے انتخاب کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کی پرانی تصاویر اور بیانات کو وائرل کر دیا گیا ہے۔جنہوں نے جون 2020ء میں کورونا وائرس کی وباء کےعروج کے دوران بھابھی جی کا پاپڑ کی تشہیر کرتے ہوئے عوام کو مشورہ دیا تھا کہ یہ پاپڑ قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں اور کورونا وباءسے لڑائی میں معاون ہیں اور اس کے استعمال سے کورونا وائرس کو روکا جاسکتا ہے۔!!

 

” کرن رجیجو کو وزارت قانون سے ہٹائے جانے پر نامور صحافی ابھیسر شرما کا ویڈیو ” ( ویڈیو : 13 منٹ ) "

https://www.facebook.com/abhisarsharmaofficial/videos/567545568739682